
عالم اسلام کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھنے کے لئے ہمارے وبلاگ کا سہارا لیں
Saturday, March 29, 2008
Tuesday, February 26, 2008
Friday, February 8, 2008
انسان و اخلاق در نظام اسلام
انسان و اخلاق در نظام اسلام
آية الله مصباح يزدي
نظام اخلاقى اسلام , مبتنى بر نوعى جهان بينى است كه وجود خداوند را به عنوان مبداء و آفريننده موجودات و انسان را به عنوان موجودى وابسته و نيازمند به او معرفى مى كند. انسان در اين بينش فقر محض است و نسبت به خداوند وجودى رابطى بيش ندارد. خداوند در قرآن مى فرمايد:((يا ايها الناس انتم الفقراء الى الله و الله هو الغنى الحميد1؛اى مردم شما نيازمندان به خدا هستيد و فقط خداوند بى نياز و ستوده است.))
طبيعى است اين نظام براى آنكه سيرش مبتنى بر حقايق و هماهنگ با واقعيتها و بركنار از اوهام و تخيلات باشد ناگزير است رابطهء عبوديت و ربوبيت فوق را مورد توجه قرار دهد و براساس اين اصل و با ملاحظهء آن برنامه ريزى كند.البته بايد توجه داشت آنچه در بالا گفتيم از ويژگيهاى انسان نيست ; بلكه تمام موجودات بدون استثنا نسبت به خداوند از چنين موقعيتى برخوردار بوده و به تمام معنى وابسته اند و از اعماق هستى نيازمند به خداوند ; ولى , از آنجا كه ما دربارهء نظام اخلاقى بحث مى كنيم ; صرفاً, از وابستگى انسان ياد كرديم.
با توجه به اين وابستگى عمومى به اين نتيجهء روشن دست پيدا مى كنيم كه هر گاه انسان در اشياء دخالت و تصرف مى كند و از آنها بهره مند مى شود بايد بداند كه در ملك خداوند تصرف كرده است . البته ما منكر اين نيستيم كه انسان بيك لحاظ و در يك مرتبه در ملك خود تصرف مى كند; حال يا در ملك تكوينى خود مثل اعضاى بدنش و ياد در ملك تشريعى و اعتبارى خودمثل اشياء خارجى كه براساس قرار و قانون , ملك او شمرده مى شوند ; ولى , از اين حقيقت نبايد غافل شد كه همه اينها نهايتاً و در يك مرحلهء عاليتر مربوط به خداوند بوده و مالك حقيقى همه اشياء, او است.
حفظ اين رابطه , نتيجه ديگرى نيز بدنبال دارد و ما را بر آن مى دارد تا حتى اگر كارى را فرض كنيم كه به نفع زندگى دنيوى انسان نباشد و خود بخود در سعادت اخروى وى نيز تاءثيرى نداشته باشد; ولى , مع الوصف , همين كار غير مفيد و بى خاصيت , مورد امر خداوند قرار گيرد <كه بايد آن را انجام دهى > ما را بر آن مى دارد كه حتى اطاعت امر خداوند را در چنين مواردى نيز لازم بدانيم.
انسان با حالت انقياد كامل و بدون هيچ گونه اعتراضى بايد در برابر اوامر و نواهى خداوند تسليم محض ح باشد; زيرا اعتقاد به ربوبيت تكوينى و تشريعى خداوند چنين اقتضايى دارد كه انسان در مقام عمل , گوش به پفرمان او بوده و مراقب باشد تا چه كارى از وى مى خواهد و چه كارى را منع مى كند.
اين حقيقت , واضح است كه اوامر و نواهى خداوند, تابع مصالح و مفاسد هستند. و مصالح و مفاسد نيزحصرفنظر از اوامر و نواهى خداوند, واقعيت دارند و ما اين حقايق را انكار نمى كنيم ; سخن ما اين است كه حتى چاگر هم تابع مصالح و مفاسد نمى بودند, اطاعت آنها بر انسان واجب بود و او در چنين فرضى نيز در برابر,خداوند بايد چنين توطين نفسى داشته باشد.
اكنون , اگر سوءال شود كه آيا سخن فوق , يك تئورى محض است يا واقعيت دارد و تاكنون چنين فرمانى ازچ جانب خداوند صادر گرديده است ؟ در پاسخ بايد بگوييم : صدور چنين امرى از جانب خداوند آنچنان هم دورجاز باور نيست و به عنوان نمونه مى توان از فرمان خداوند به حضرت ابراهيم (ع ) بر ذبح فرزندش حضرت خ اسماعيل (ع ) نام برد; زيرا, كشتن فرزند خود بخود نه سعادت دنيا را نتيجه مى دهد و نه سعادت آخرت را كه باچهيچيك از آن دو رابطهء تكوينى ندارد و اگر خداوند چنين فرمان نداده بود اقدام به ذبح اسماعيل موجب ج سعادت آخرت نمى شد و حضرت ابراهيم هرگز, چنين كارى را تجويز نمى كرد و انجام نمى داد; مع الوصف ,جخداوند دربارهء حضرت اسماعيل (ع ) ـ كه در آن زمان حاكميت شرك , از جمله معدود موحدين و عزيزترين چبندهء خدا پس از ابراهيم در روى زمين بود, چنين فرمان مى دهد و حضرت ابراهيم (ع ) نيز بدون كوچكترين خ اعتراضى و با انقياد كامل به اجراء اين فرمان تن مى دهد و خود حضرت اسماعيل (ع ) پدر را به اجراء آن ترغيب مى كند كه به گفته قرآن :((يا ابت افعل ما تومر2 پدرم ! آنچه بدان ماءمور گشته اى انجام بده.))
در هيچ نظام اخلاقى غير الهى , چنين چيزى قابل توجيه نيست . اما از آنجا كه حقيقت ديگرى هم وجود دارد يعنى , همه چيز رابطه وابستگى به خداوند دارد و مملوك خداوند است در نظامهاى الهى هر كارى كه اوخ مى گويد بايد انجام داد خواه مصلحتى براى فرد يا جامعه در برداشته باشد و خواه نداشته باشد همهء اينها ملك .خداوند است و مكلف , حق ندارد چون و چرا كند.
رابطهء عبوديت انسان نسبت به ربوبيت خداوند مى تواند به تمام كارهاى انسان رنگ بزند و چنانكه بعد از اين توضيح مى دهيم , رنگى جالبتر و موءثرتر از هر چيز ديگر در وصول انسان به سعادت خويش كه خداونددربارهء آن مى فرمايد:((صبغه الله و من احسن من الله صبغة3 رنگ خدايى است و چه كسى در رنگ آميزى <توحيد> از خدا بهتر است.))
مى توان گفت : در حقيقت , اين موضوع سبب شد بعضى از انديشمندان مسلمان , چنين گمان كنند كه اساس ارزشهاى اخلاقى در اسلام , چيزى جز امر و نهى خداوند نيست .<خوب > آن است كه خداوند به آن , <امر> چمى كند و خوبى آن به لحاظ همين امر است و <بد> آنكه خداوند از آن <نهى > مى كند و سرچشمه بدى آن همان ح <نهى > مى باشد. آنان گفتند: <كار> خود بخود, نه <خوب > است و نه <بد> بى تفاوت و خنثى است هيچ مطلوبيت ثيا مبغوضيتى ندارد, حسن و قبح , ذاتى افعال نيست بلكه تابع امر و نهى خداوند خواهد بود.
بايد بگوييم : اين هم اشتباه بزرگى بود كه اين گروه مرتكب شدند; زيرا, چنين نيست كه <خوبى > و <بدى >ح افعال دربست از طرف <امر> و <نهى> خداوند بيايد و ذاتاً, عارى از خوبى و بدى باشند. حقيقت اين است كه ححيثيت امر و نهى نيز حيثيتى است جداى از حيثيت ذاتى افعال كه چون مورد امر يا نهى خداوند قرار گرفتند,ح علاوه بر ارزش ذاتى خود, زمينهء چنين ارزش مثبت يا منفى را نيز براى انسان بوجود مى آورند. يعنى , ارزش حبندگى , اطاعت و انقياد نسبت به خداوند و فرامين او و يا بى بند و بارى , مخالفت و تجرى نسبت به او خواه ,حمصلحت و مفسده اى هم در متعلق امر و نهى لحاظ شده باشد نظير اكثر قريب به اتفاق احكام و فرامين الهى يا-نشده باشد نظير نمونه اى كه يادآورى گرديد.
آيات قرآن خود شاهدى بر مدعاى ما هستند و از ارزش ذاتى افعال پردهبرداشته اند خداوند مى فرمايد: ((ان الله يامر بالعدل والاحسان4؛محققاً خداوند به عدالت و نيكى كردن فرمان مى دهد.))
و مى فرمايد:قل ان الله لايامر بالفحشاء5؛بگو محققا خداوند به <انجام > كار زشت فرمان نمى دهد.
از آيات فوق به خوبى مى توان دريافت كه : عدل و احسان , متعلق فرمان خداوند هستند و قبل از اينكه به آنهاچ امر شود به صورت خصيصه ذاتى يك سرى از افعال انسان وجود و واقعيت دارند و اين افعال به لحاظ همين چويژگى ذاتى , مورد امر خداوند قرار مى گيرند نه آنكه چون خداوند امر كرده است خصيصه <عدل > و <احسان >به آن افعال داده مى شود.
چنانكه فحشا نيز به صورت خصيصهء ذاتى براى يك سرى از افعال ديگر وجود دارد و از اين جهت , خداوندخ به انجام چنين كارهايى فرمان نمى دهد. بنابراين , عدل و احسان يا فحشا, بدون توجه به هيچ امر و نهى , داراى مصاديق خارجى انتزاعى هستند
Wednesday, February 6, 2008
Monday, January 14, 2008
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليك يا ابا عبد الله الحسين
صبح عاشور
عاشور کی صبح قیامت کی صبح ہے،جس دن ہراساں انسانیت ایک ایسے ہولناک مقام پر کھڑی تھی جہاں وہ واقعہ رونما ہونے والا تھا جس نے فرشتوں کو بھی تعجب میں ڈال دیا ۔
ایسی خوفنا ک صبح ؛جہاں انسانیت کو اس امتحان سے گزرنا ہے جن کی سختیوں اور مصائب کو برداشت کرنا غیر ممکن اور محال نظر آتا ہے، ایسے مصائب کہ اگر آسمان و زمین یا پہاڑ پر نازل ہو جائیں تو ان میں برداشت کی سکت نہیں ہے ،اگر ساری انسانیت کی طاقت ایک انسان میں اکٹھا کر دی جائے پھربھی اس دن کے مصائب کو برداشت کرنا ،اس صاحب مصیبت کے لئے عجیب اور حیرت ناک ہے ۔
تاریخ میں فقط ایک انسان ہے جو اس دن سے روبرو ہوا (۱)نہ اس سے پہلے کسی پر یہ مصائب ہوئے ہیں نہ آئندہ کسی پر ہوں گے ،ایک انسان جو ظاہری اعتبار سے ایک تن تھا لیکن معنوی لحاظ سے ایک عالَم بلکہ عالمین کی شخصیت اس کے اندر اکٹھا تھی،جس کا دائرہ زمین و آسمان سے و بہشت و جنات سے وسیع تر تھا ۔وہ انسانیت کا کامل مصداق تھا جس کے لئے کہا گیا ہے کہ "الصورۃ الانسانیۃ ھی اکبر حجج اللہ علیٰ خلقہ وھی الکتاب الذی کتبہ بیدہ وھی الھیکل الذی بنّاہ بحکمتہ ۔۔۔"وہ جوانمرد جو اس دن کے ان مصائب کے مقابلے میں کھڑا تھا جن کا برداشت کرنا دشوار اور ناممکن تھا ۔
وہ جس نے انسانیت کے شرف ،اپنی عظمتوں کی بلندی اور انسانیت کی عظمت کو تمام مخلوقات کے سامنے پیش کیا اور ان آیات "لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم"(۲)و "فتبارک اللہ احسن الخالقین"(۳) اور "انی اعلم ما لا تعلمون" کی تفسیر پیش کر دی ۔
وہ انسانیت کا حسین ہے ، وہ ملائکہ کا حسین ہے ،وہ انبیاء کا حسین ہے ،وہ ابراھیم و موسیٰ کا حسین ہے ،وہ پنجتن پاک کا حسین ہے ،وہ اسلام کا حسین ہے ،وہ صبر و استقامت کا حسین ہے ، وہ حق و عدالت کا حسین ہے ، بلکہ وہ خدا کا حسین ہے ۔
عاشور کی صبح وہ صبح ہے جس دن امام حسین کے گھر والوں اور ان کے اصحاب و انصار کو المناک مصائب سے روبرو ہونا ہے تاکہ قرآن اور دین سے دفاع کر سکیں ،محمد و آل محمد علیھم السلام کی کرامت اور شرافت سے دفاع کر سکیں، اس دن ان حضرات کو وہ راستہ طے کرنا ہے جس کو بڑے بڑے صدیوں میں نہیں طے کر سکتے تھے،اسے انھیں عزت و سرفرازی کے ساتھ طے کرنا تھا۔
عاشور کی صبح ایک طرف انسانیت کا دشمن وہ لشکر ،عظیم ترین ظلم پر آمادہ تھا اور ایک طرف مختصر تعداد میں عالم انسانیت کے صالح اور پاکترین افراد ان کے محاصرے میں تھے ۔
امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب اپنے مستحکم ارادے اور عزم راسخ کے ساتھ پوری بشریت اور فرشتوں کے سامنے اپنی موجودیت کا اعلان کر رہے تھے ۔ اللہ اکبر کتنا عظیم تھا ان کا ایمان اور ان کا مقصد کتنا عظیم و بلند تھا ۔
امام حسین علیہ السلام کا دل خدا کی محبت سے لبریز تھا ان کا دل محکم اور استوار تھا اور انھیں معلوم تھا کہ دشمن اس جنگ میں ہر طریقہ کا ظلم ڈھائیں گے لیکن یہ بھی یقین تھا کہ اس جنگ میں نہ انھیں شکست ہو گی نہ ان کے اصحاب کو بلکہ قوت ایمان اور نفس مطمئنہ کی قدرت سے شہادت کو اپنے گلے سے لگا کر دشمن کو زمین گیر کر دیں گے پھر بھی ان تمام قوتوں کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں اور صرف اسی کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہیں ،صرف اسے حی و قیوم سمجھتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں ۔ آپ کی دعا و مناجات میں وہ شوق و ولولہ تھا جسے زبانیں بیان کرنے سے عاجز ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام اس دن ان تمام چیزوں کو مشکلوں میں گھرا دیکھ رہے تھے جن کی حفاظت کے لئے انسان دعا کرتا ہے ،لیکن امام کی دعا ان کے ظاہری نجات کے لئے نہ تھی ،امام نے یہ دعا نہیں کی کہ خدایا! ہمارے جوان بیٹوں اور بھائیوں کو شہادت سے بچا لے ،خدایا ہمارے اصحاب کو زندہ و سلامت رکھ ، خدایا یہ ظالم ہمارے شیر خوار پر رحم کریں ،آپ نے ہرگز یہ دعا نہیں کی ،نہ ہی آپ کے اصحاب ایسی دعائیں مانگ رہے تھے بلکہ ہر ایک کے دل میں شوق شہادت تھا ،سب اس بات پر خوش تھے کہ ان کا شمار خدا و رسول اور حق کے ناصرین میں ہوتا ہے ،صرف جو چیز اس وقت ان کے ذہنوں میں نہ تھی وہ موت اور شہادت سے نجات تھی ، وہ سب شوق شہادت میں غرق تھے سب کی یہ دعا تھی کہ خدا کی راہ میں شہادت پورے اخلاص کے ساتھ اور جلد سے جلد نصیب ہو ۔ان کی دعا تھی کہ خدا کی راہ میں ایثار و فداکاری کر سکیں ،اور جب تیر و تلوار اور نیزوں کے زخم لگیں تو صبر میں کمی نہ آنے پائے ۔
ان کی نظر میں راہ خدا میں شہادت ایسا عظیم مرتبہ تھا جسے وہ اپی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ،اور اس کی جانب قدم بڑھا رہے تھے ۔
اس موقع پر جو دعا امام حسین علیہ السلام نے کی ہے اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی روح کس بلندی پر فائز تھی اور خداوند عالم سے آپ کا رابطہ کس قدر عمیق اور مضبوط تھا ،اس دعا کے کلمات کس قدر انسان ساز ہیں جو خدا سے قربت اور نزدیکی کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں ،وہ جس کا سارا وجود "ان صلاتی و نسکی ومحیای و مماتی للہ رب العالمین "۵کا کامل مصداق ہے وہ اس طرح دعا کرتا ہے :
"اللهمّ انت ثقتي في كلّ كرب وانت رجائي في كلّ شدّة وانت لي في كلّ امر نزل بي ثقة و عدة، كم من همّ يضعف فيه الفؤاد، وتقلّ فيه الحيلة، ويخذل فيه الصديق، ويشمت فيه العدو، انزلته بك و شكوته اليك رغبة مني اليك عمن سواك، ففرجته عني وكشفته وكفيتنه، فانت ولي كلّ نعمة، وصاحب كلّ حسنة، ومنتهي كلّ رغبة"۶
اس دعا کے توحیدی کلمات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بزرگ علماء اور صاحبان معرفت اس کی شرح و تفسیر کریں ، امام علیہ السلام فقط خدا کو مورد اعتماد قرار دیتے ہوئے بہت سے عظیم نکات بیان فرماتے ہیں ۔
۱۔ جلوہ توحید
امام علیہ السلام اس سخت مقام پر اس عظیم مصیبت میں گرفتار ہونے کے بعد فقط خدا کو مورد اعتماد قرار دیتے ہیں ۔
۲۔مقام امید میں توحید
ایسے سخت حالات اور مصیبت میں بھی فقط خدا سے امید لگائے ہوئے ہیں
۳۔ شکر خدا
خداوند عالم کا ہر حال میں شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے تمام غم و آلام و مصائب کو آپ سے دور کیا اور وہ مصائب جو دل کو کمزور بنا دیتے ہیں، اور دوست ان مصائب میں ساتھ چھوڑ دیتا ،دشمن طعنہ زنی کرنے لگتا ہے ،انھیں آپ سے دور کیا۔ اس مقام پر خدا سے دعا فرماتے ہیں کہ خدایا! ہمیں اپنے موقف کی حفاظت کی توفیق عطا فرما،اور ان مصائب کے تحمل میں میری مدد فرما تاکہ میں اور میرے اعزا و انصار اس امتحان سے آسانی کے ساتھ گزر سکیں ۔
امام علیہ السلام کی یہ دعا مستجاب ہوئی اور امام نے وہ سب کچھ پا لیا جس کا ارادہ کیا تھا،آپ کے تمام اصحاب اس عظیم منزل پر فائز ہو گئے کہ جن کی برکتوں کا فیض عام قیامت تک جاری و ساری رہے گا اور قیامت تک کے لئے اس آیت کی تفسیر بن گئے "مثل كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها في السماء"۷
والسلام علي الحسين وعلي اولاد الحسين وعلي اصحاب الحسين ورحمة الله وبركاته
(۱)اگر چہ پنجتن پاک کی ہر فرد میں یہ صلاحیت تھی لیکن اس عظیم کام کی ذمہ داری امام حسین علیہ السلام کے کاندھوں پر ڈالی گئی تھی ۔
(۲)سورہ تین آیت/۳
(۳)سورہ مومنون آیت/۱۴
(۴)سورہ بقرہ آیت/۳۰
(۵)سورہ انعام، آية 162
(۶)مقتل الحسين، ابي مخنف الازدي
(۷)سوره ابراهيم آيه 24
السلام عليك يا ابا عبد الله الحسين
صبح عاشور
عاشور کی صبح قیامت کی صبح ہے،جس دن ہراساں انسانیت ایک ایسے ہولناک مقام پر کھڑی تھی جہاں وہ واقعہ رونما ہونے والا تھا جس نے فرشتوں کو بھی تعجب میں ڈال دیا ۔
ایسی خوفنا ک صبح ؛جہاں انسانیت کو اس امتحان سے گزرنا ہے جن کی سختیوں اور مصائب کو برداشت کرنا غیر ممکن اور محال نظر آتا ہے، ایسے مصائب کہ اگر آسمان و زمین یا پہاڑ پر نازل ہو جائیں تو ان میں برداشت کی سکت نہیں ہے ،اگر ساری انسانیت کی طاقت ایک انسان میں اکٹھا کر دی جائے پھربھی اس دن کے مصائب کو برداشت کرنا ،اس صاحب مصیبت کے لئے عجیب اور حیرت ناک ہے ۔
تاریخ میں فقط ایک انسان ہے جو اس دن سے روبرو ہوا (۱)نہ اس سے پہلے کسی پر یہ مصائب ہوئے ہیں نہ آئندہ کسی پر ہوں گے ،ایک انسان جو ظاہری اعتبار سے ایک تن تھا لیکن معنوی لحاظ سے ایک عالَم بلکہ عالمین کی شخصیت اس کے اندر اکٹھا تھی،جس کا دائرہ زمین و آسمان سے و بہشت و جنات سے وسیع تر تھا ۔وہ انسانیت کا کامل مصداق تھا جس کے لئے کہا گیا ہے کہ "الصورۃ الانسانیۃ ھی اکبر حجج اللہ علیٰ خلقہ وھی الکتاب الذی کتبہ بیدہ وھی الھیکل الذی بنّاہ بحکمتہ ۔۔۔"وہ جوانمرد جو اس دن کے ان مصائب کے مقابلے میں کھڑا تھا جن کا برداشت کرنا دشوار اور ناممکن تھا ۔
وہ جس نے انسانیت کے شرف ،اپنی عظمتوں کی بلندی اور انسانیت کی عظمت کو تمام مخلوقات کے سامنے پیش کیا اور ان آیات "لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم"(۲)و "فتبارک اللہ احسن الخالقین"(۳) اور "انی اعلم ما لا تعلمون" کی تفسیر پیش کر دی ۔
وہ انسانیت کا حسین ہے ، وہ ملائکہ کا حسین ہے ،وہ انبیاء کا حسین ہے ،وہ ابراھیم و موسیٰ کا حسین ہے ،وہ پنجتن پاک کا حسین ہے ،وہ اسلام کا حسین ہے ،وہ صبر و استقامت کا حسین ہے ، وہ حق و عدالت کا حسین ہے ، بلکہ وہ خدا کا حسین ہے ۔
عاشور کی صبح وہ صبح ہے جس دن امام حسین کے گھر والوں اور ان کے اصحاب و انصار کو المناک مصائب سے روبرو ہونا ہے تاکہ قرآن اور دین سے دفاع کر سکیں ،محمد و آل محمد علیھم السلام کی کرامت اور شرافت سے دفاع کر سکیں، اس دن ان حضرات کو وہ راستہ طے کرنا ہے جس کو بڑے بڑے صدیوں میں نہیں طے کر سکتے تھے،اسے انھیں عزت و سرفرازی کے ساتھ طے کرنا تھا۔
عاشور کی صبح ایک طرف انسانیت کا دشمن وہ لشکر ،عظیم ترین ظلم پر آمادہ تھا اور ایک طرف مختصر تعداد میں عالم انسانیت کے صالح اور پاکترین افراد ان کے محاصرے میں تھے ۔
امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب اپنے مستحکم ارادے اور عزم راسخ کے ساتھ پوری بشریت اور فرشتوں کے سامنے اپنی موجودیت کا اعلان کر رہے تھے ۔ اللہ اکبر کتنا عظیم تھا ان کا ایمان اور ان کا مقصد کتنا عظیم و بلند تھا ۔
امام حسین علیہ السلام کا دل خدا کی محبت سے لبریز تھا ان کا دل محکم اور استوار تھا اور انھیں معلوم تھا کہ دشمن اس جنگ میں ہر طریقہ کا ظلم ڈھائیں گے لیکن یہ بھی یقین تھا کہ اس جنگ میں نہ انھیں شکست ہو گی نہ ان کے اصحاب کو بلکہ قوت ایمان اور نفس مطمئنہ کی قدرت سے شہادت کو اپنے گلے سے لگا کر دشمن کو زمین گیر کر دیں گے پھر بھی ان تمام قوتوں کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں اور صرف اسی کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہیں ،صرف اسے حی و قیوم سمجھتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں ۔ آپ کی دعا و مناجات میں وہ شوق و ولولہ تھا جسے زبانیں بیان کرنے سے عاجز ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام اس دن ان تمام چیزوں کو مشکلوں میں گھرا دیکھ رہے تھے جن کی حفاظت کے لئے انسان دعا کرتا ہے ،لیکن امام کی دعا ان کے ظاہری نجات کے لئے نہ تھی ،امام نے یہ دعا نہیں کی کہ خدایا! ہمارے جوان بیٹوں اور بھائیوں کو شہادت سے بچا لے ،خدایا ہمارے اصحاب کو زندہ و سلامت رکھ ، خدایا یہ ظالم ہمارے شیر خوار پر رحم کریں ،آپ نے ہرگز یہ دعا نہیں کی ،نہ ہی آپ کے اصحاب ایسی دعائیں مانگ رہے تھے بلکہ ہر ایک کے دل میں شوق شہادت تھا ،سب اس بات پر خوش تھے کہ ان کا شمار خدا و رسول اور حق کے ناصرین میں ہوتا ہے ،صرف جو چیز اس وقت ان کے ذہنوں میں نہ تھی وہ موت اور شہادت سے نجات تھی ، وہ سب شوق شہادت میں غرق تھے سب کی یہ دعا تھی کہ خدا کی راہ میں شہادت پورے اخلاص کے ساتھ اور جلد سے جلد نصیب ہو ۔ان کی دعا تھی کہ خدا کی راہ میں ایثار و فداکاری کر سکیں ،اور جب تیر و تلوار اور نیزوں کے زخم لگیں تو صبر میں کمی نہ آنے پائے ۔
ان کی نظر میں راہ خدا میں شہادت ایسا عظیم مرتبہ تھا جسے وہ اپی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ،اور اس کی جانب قدم بڑھا رہے تھے ۔
اس موقع پر جو دعا امام حسین علیہ السلام نے کی ہے اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی روح کس بلندی پر فائز تھی اور خداوند عالم سے آپ کا رابطہ کس قدر عمیق اور مضبوط تھا ،اس دعا کے کلمات کس قدر انسان ساز ہیں جو خدا سے قربت اور نزدیکی کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں ،وہ جس کا سارا وجود "ان صلاتی و نسکی ومحیای و مماتی للہ رب العالمین "۵کا کامل مصداق ہے وہ اس طرح دعا کرتا ہے :
"اللهمّ انت ثقتي في كلّ كرب وانت رجائي في كلّ شدّة وانت لي في كلّ امر نزل بي ثقة و عدة، كم من همّ يضعف فيه الفؤاد، وتقلّ فيه الحيلة، ويخذل فيه الصديق، ويشمت فيه العدو، انزلته بك و شكوته اليك رغبة مني اليك عمن سواك، ففرجته عني وكشفته وكفيتنه، فانت ولي كلّ نعمة، وصاحب كلّ حسنة، ومنتهي كلّ رغبة"۶
اس دعا کے توحیدی کلمات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بزرگ علماء اور صاحبان معرفت اس کی شرح و تفسیر کریں ، امام علیہ السلام فقط خدا کو مورد اعتماد قرار دیتے ہوئے بہت سے عظیم نکات بیان فرماتے ہیں ۔
۱۔ جلوہ توحید
امام علیہ السلام اس سخت مقام پر اس عظیم مصیبت میں گرفتار ہونے کے بعد فقط خدا کو مورد اعتماد قرار دیتے ہیں ۔
۲۔مقام امید میں توحید
ایسے سخت حالات اور مصیبت میں بھی فقط خدا سے امید لگائے ہوئے ہیں
۳۔ شکر خدا
خداوند عالم کا ہر حال میں شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے تمام غم و آلام و مصائب کو آپ سے دور کیا اور وہ مصائب جو دل کو کمزور بنا دیتے ہیں، اور دوست ان مصائب میں ساتھ چھوڑ دیتا ،دشمن طعنہ زنی کرنے لگتا ہے ،انھیں آپ سے دور کیا۔ اس مقام پر خدا سے دعا فرماتے ہیں کہ خدایا! ہمیں اپنے موقف کی حفاظت کی توفیق عطا فرما،اور ان مصائب کے تحمل میں میری مدد فرما تاکہ میں اور میرے اعزا و انصار اس امتحان سے آسانی کے ساتھ گزر سکیں ۔
امام علیہ السلام کی یہ دعا مستجاب ہوئی اور امام نے وہ سب کچھ پا لیا جس کا ارادہ کیا تھا،آپ کے تمام اصحاب اس عظیم منزل پر فائز ہو گئے کہ جن کی برکتوں کا فیض عام قیامت تک جاری و ساری رہے گا اور قیامت تک کے لئے اس آیت کی تفسیر بن گئے "مثل كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها في السماء"۷
والسلام علي الحسين وعلي اولاد الحسين وعلي اصحاب الحسين ورحمة الله وبركاته
(۱)اگر چہ پنجتن پاک کی ہر فرد میں یہ صلاحیت تھی لیکن اس عظیم کام کی ذمہ داری امام حسین علیہ السلام کے کاندھوں پر ڈالی گئی تھی ۔
(۲)سورہ تین آیت/۳
(۳)سورہ مومنون آیت/۱۴
(۴)سورہ بقرہ آیت/۳۰
(۵)سورہ انعام، آية 162
(۶)مقتل الحسين، ابي مخنف الازدي
(۷)سوره ابراهيم آيه 24
Subscribe to:
Posts (Atom)


