Wednesday, April 6, 2011

مظلوم کی حمایت

گزشتہ روز راسٹریہ سہارا لکھنؤ کے صفحہ اول پر کچھ مسلم تنظیموں کی جانب سے امام الحرم شیخ السدیس کی مذمت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور شیخ السدیس کی کی مذمت کو نفاق وغیرہ سے تعبیر کیا گیا تھا ۔

شیخ السدیس امام حرم ہیں ، اس لئے جس طرح کعبہ کا احترام واجب ہے شیخ السدیس کا احترام بھی ضروری ہے ۔ وہ ہندوستان میں مہمان ہیں اور مہمان کا احترام میزبان پر واجب ہے ۔

اس بیانیہ میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے اس سے مجھے کوئی اختلاف نہیں ہے امام حرم کا احترام واجب ہے ، مہمان کی خاطرداری ضروری ہے لیکن چونکہ بیانیہ دینے والوں نے اس میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ مسلم ممالک میں چل رہی استعماری سازشوں کے مخالف ہیں ، وہ لیبیا پر ہورہے امریکی حملوں کے مخالف ہیں اس لئے بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ امریکہ اور استعماری سازشوں کے مخالف ، ان کے خلاف مظاہرہ اور احتجاج کرنے والے ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ، اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کسی کو فرعون اور ظالم کہنا بھی غلط ہے تو پھر یہ لوگ امریکہ کے ظلم کی مذمت کیوں کرتے ہیں ؟ انھوں نے مصری حکومت گرانے میں مصر کی عوام کا ساتھ کیوں دیا ؟

میرے ان سوالوں کا جواب یقیناً وہ یہی دیں گے کہ ہم امریکہ کے مخالف اس لئے ہیں کہ وہ ظالم ہے ، اسلام و مسلمین کا دشمن ہے ،تو اگر آپ ظلم کے مخالف ہیں ، اسلام دشمنی کے خلاف احتجاج کرنے والے ہیں تو پھر دل کھول کر آل سعود کی بھی مخالفت کریں اس لئے کہ وہ بھی ظالم ہیں ، تو پھر دل کھول کر امام مکی کی بھی مذمت کریں چونکہ وہ بھی اسی ظلم و بربریت کا حصہ ہیں ۔

لیبیا میں جو مسلمان قتل کئے جا رہے ہیں کیا ان کا خون بحرینی مسلمانوں سے زیادہ سرخ ہے ؟ سعودیہ کے علاوہ وہ ممالک جہاں ڈکٹیٹر حکومتیں قائم ہیں اور وہاں کی عوام ڈکٹیٹرشپ کے خلاف جہاد کر رہی ہے اور آپ وہاں پر ہونے والے عوامی احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں اور ڈکٹیٹر شپ کی مخالفت کر رہے ہیں تو کیا سعودیہ کی ڈکٹیٹرشپ کا دامن دوسرے تانہ شاہوں سے زیادہ پاک ہے ؟

سعودی حکومت ایک ظالم حکومت ہے ،جو ہمیشہ سے اسرائیل اور امریکہ کے مظالم کی حمایت کرتی چلی آرہی ہے اس لئے ان کے ظلم میں برابر کی شریک ہے اور امام السدیس بھی اسی ظلم کا حصہ ہیں چونکہ ان کے اندر بھی اتنی جرات نہیں کہ وہ سعودی حکومت کی مذمت کر سکیں ، لا اقل احتجاج کے طور پر امامت کا عہدہ ہی چھوڑ دیں ایسی صورت میں ہم انھیں ظالم اور فرعون نہ کہیں تو کیا کہیں ؟

اعلامیہ دینے والوں کو میرا یہ مشورہ ہے کہ بغیر سمجھ بوجھ کے بیانیہ دینے سے پرہیز کریں ، اگر ظلم کی مکمل مخالفت نہیں کر سکتے تو بالکل نہ کریں ، اس لئے کہ ایک ظالم کی مخالفت دوسرے کی حمایت قطعی طور پر بجا نہیں ہے ۔

شیخ السدیس اگر صرف امام حرم ہوتے تو ہمارے لئے واجب الاحترام ہوتے ۔

شیخ السدیس اگر صرف عالم قرآن و حدیث ہوتے تو قرآن و حدیث کی طرح ہمارے لئے مقدس اور محترم ہوتے ۔

شیخ السدیس اگر صرف ہمارے مہمان ہوتے تو ہم اکرموا الضیف کا وظیفہ فراموش نہ کرتے ۔

لیکن شیخ السدیس ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ سعودی حکومت کے ظلم و جنایت کے حامی بھی ہیں ۔

واللہ لا یحب الظالمین (سورہ آل عمران / ۵۷ )

Sunday, April 3, 2011

عظمت صحابہ اعلامیہ

عظمت صحابہ اعلامیہ

حضرات صحابہ کی تعلیم و تربیت کے لئے سرور کائنات (ص) جیسا معلم اور مربی مہیا کیا گیا ۔

عظمت صحابہ اعلامیہ کے چند بند

۱۔ بلا استثناء تمام صحابہ جنتی ہیں ۔

۲۔ سارے صحابہ کو اللہ رب العزت کی دائمی رضا و خوشنودی حاصل ہے ۔

۳۔ جملہ صحابہ آپس میں برادرانہ الفت و محبت رکھتے تھے ۔

۴۔ ہر ایک صحابی کا دل ایمان و اخلاص کی الفت سے مزین اور کفر، فسق اور نافرمانی سے متنفر تھا ۔

۵۔ صحابہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں، انبیاء کے علاوہ جن و بشر میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے ۔

۶۔ صحابہ کی محبت رسول سے محبت اور ان سے بغض رسول سے بغض ہے ۔

۷۔ صحابہ کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانا حرام ہے ۔

۸۔ امت کا سارا شرف و مجد صحابہ سے وابستہ ہے ۔

روزنامہ راسٹریہ سہارا میں شائع خبر میں اس اعلامیہ کی توثیق کے حوالہ سے لکھا گیا تھا کہ اس اعلامیہ کو امام کعبہ السدیس کی تائید حاصل ہے ۔ مولانا ارشد مدنی کو معلوم ہونا چاہئے کہ امام السدیس کی تائید سے اس اعلامیہ کی تنقیص ہوگی توثیق نہیں کیوں کہ امام السدیس حرم امن الٰہی مکہ مکرمہ کے منتخب امام ہیں جن کو آل سعود کی حمایت حاصل ہے اور آل سعود کو ان کی حمایت حاصل ہے ، ظاہر ہے کہ مکہ مکرمہ اور مسجد النبی(ص) کی امامت وہ اہم مناصب ہیں جن پر صرف سعودی حکومت کا تائید شدہ امام ہی رہ سکتا ہے ۔

سعودی حکومت کے بارز ترین کارناموں میں سے ایک اہلبیت نبی (ص) اور اصحاب نبی (رض) کے قبور کی تخریب ہے جس سے کسی بھی صورت امام السدیس کا دامن پاک نہیں ہو سکتا ہے تو ایسے شخص کی تائید سے اس اعلامیہ کو کیا فائدہ پہنچے گا البتہ اس کی تائید سے شیخ السدیس کو فائدہ ضرور پہنچے گا ۔ آپ میرے دعوے کی تصدیق اس واقعہ سے کر سکتے ہیں کہ چند ماہ قبل سعودی حکومت میں واقعہ حرہ کے شہداء کی قبور کو ایک سڑک کی توسیع کے لئے مسمار کر دیا ۔ آپ تاریخ سے واقف ہیں کہ واقعہ حرہ میں کتنے صحابہ (رض) شہید کئے گئے تھے ۔ کیا ان کے قبر کی تخریب صحابہ کی توہین نہیں ہے ؟ اگر تمام صحابہ بلا استثناء اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کا احترام کیا جائے تو پھر ان کی بے حرمتی کرنے والوں کو کیوں کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے ؟

تخریب قبور شہدائے حرہ

ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ میں جس وقت امام السدیس کے حوالہ سے جستجو شروع کی تو سب سے پہلے ایک خبر نظر سے گزری کہ امام مکہ نے ۲۲ محرم ۱۴۳۱ کے خطبہ میں نبی کے ایک صحابی کو چور اور اچکا کہا تھا ۔

http://www.nationalkuwait.com/vb/showthread.php?t=99825

اس بات سے بھی صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم ) سے ان کی محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

خیر میری نظر میں سعودی حکومت کے دین و ایمان کی کوئی ارزش نہیں تو ان کے حکام اور ان کے منتخب ائمہ جمعہ و جماعات کی کیا قدر ہوگی اس لئے اس گفتگو کو یہیں پر ختم کر کے بات آگے بڑھانا چاہتا ہوں ۔

جناب مولانا ارشد مدنی صاحب !

کاسہ داغ تر از آش نباشد ، کیا اس اعلامیہ کی تائید خود صحابہ کرام بھی فرماتے ہیں یا نہیں ، ذرا تاریخ کھنگال کر دیکھیں !۔

· بلا استثناء تمام صحابہ جنتی ہیں ۔

مدنی صاحب بخاری شریف میں جن کا ذکر کیا گیا ہے یہ کون سے صحابی ہیں ؟

6584 - قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِى النُّعْمَانُ بْنُ أَبِى عَيَّاشٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ سَهْلٍ فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ لَسَمِعْتُهُ وَهْوَ يَزِيدُ فِيهَا « فَأَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّى . فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِى مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ . فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِى » . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سُحْقًا بُعْدًا ، يُقَالُ سَحِيقٌ بَعِيدٌ ، وَأَسْحَقَهُ أَبْعَدَهُ . طرفه 7051 - تحفة 4390

3349 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً - ثُمَّ قَرَأَ - ( كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ) وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِى يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِى أَصْحَابِى . فَيَقُولُ ، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ . فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ) إِلَى قَوْلِهِ ( الْحَكِيمُ ) أطرافه 3447 ، 4625 ، 4626 ، 4740 ، 6524 ، 6525 ، 6526 تحفة 5622

· سارے صحابہ کو اللہ رب العزت کی دائمی رضا و خوشنودی حاصل ہے

مدنی صاحب یہ کون صحابی تھے جن کو پیغمبر (ص) نے اپنے پاس سے اٹھا دیا ۔ اگر خدا ان سے خوشنود تھا تو پیغمبر (ص) ان سے ناراض کیوں ہوئے ۔

بخاری شریف کی یہ روایت ملاحظہ ہو ۔

114 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِى ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - وَجَعُهُ قَالَ « ائْتُونِى بِكِتَابٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ » . قَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ . قَالَ « قُومُوا عَنِّى ، وَلاَ يَنْبَغِى عِنْدِى التَّنَازُعُ » . فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَبَيْنَ كِتَابِهِ . أطرافه 3053 ، 3168 ، 4431 ، 4432 ، 5669 ، 7366 - تحفة 5841

· جملہ صحابہ آپس میں برادرانہ الفت و محبت رکھتے تھے

حضرات صحابہ کی محبت صحیح بخاری کی اس روایت میں ملاحظہ ہو ۔

4845 - حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِىُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِى تَمِيمٍ ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِى بَنِى مُجَاشِعٍ ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ - قَالَ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَهُ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِى . قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ . فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِى ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ ) الآيَةَ . قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ ، يَعْنِى أَبَا بَكْرٍ . أطرافه 4367 ، 4847 ، 7302 - تحفة 5269

· ہر ایک صحابی کا دل ایمان و اخلاص کی الفت سے مزین اور کفر، فسق اور نافرمانی سے متنفر تھا

بعد رسول(ص) مرتد ہونے والے صحابی کون تھے ؟

فَيَقُولُ ، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ .

مدنی صاحب میں بہت کچھ لکھتا لیکن یقین جانئے کہ فرصت کم ہے ، ویسے اگر جس طرح علمائے رجال راویان حدیث کی تنقیح و توثیق اور تعدیل و تفسیق کیا کرتے ہیں اگر ہم صحابہ کو بھی عدالت کے میزان میں رکھ کر دیکھیں تو بہتر ہوگا ، اس طرح عالم اسلام کے بہت سے مسائل بھی حل ہو جائیں گے ۔ اسلامی مقدسات محفوظ رہ جائیں گی اور صحابیت کا تقدس بھی پائمال ہونے سے بچ جائے گا ۔ اگر ہم ہر صحابی کو عادل مان کر اس کے ہر عمل کو حجت کا درجہ دینا چاہیں تو صحابہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے دلدل میں پھنس کر کہیں کے نہیں رہ جائیں گے ۔

ھدانا اللہ و ایاکم والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ