Monday, December 26, 2011

zafar abbas sb marhoom allahabad

آہ ظفر عباس صاحب مرحوم

۱۷ نومبر۲۰۱۱ کو دینی محفلیں ویران کر کے چلے گئے ، شہر الہ آباد اور قرب وجوار میں آپ نے ایسی دینی خدمات انجام دی ہیں جن کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

خداوند مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل و اجر جزیل کرامت فرمائے ۔ آمین

Saturday, August 20, 2011

معاویہ شرابخور ،حرامخور مجتہد کے تاریخی کارنامے

22991 - حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا زيد بن الحباب حدثني حسين ثنا عبد الله بن بريدة قال : دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلسنا على الفرش ثم أتينا بالطعام فأكلنا ثم أتينا بالشراب فشرب معاوية ثم ناول أبي ثم قال ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال معاوية كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغرا وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن أو إنسان حسن الحديث يحدثني

تعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده قوي

عبداللہ بن بریدہ ناقل ہیں کہ میں اپنے باپ کے ہمراہ معاویہ کے پاس گیا ، ہم لوگ فرش پر بیٹھے اور معاویہ نے ہمارے واسطے کھانا لگوایا ، ہم نے کھانا کھایا اور پھر ہمارے سامنے شراب لائی گئی ، معاویہ نے شراب چڑھائی اور ہمارے باپ کے سامنے بھی پیش کی ، میرے باپ نے کہا : جب سے رسول خدا(ص) نے اسے حرام قرار دیا ہم نے شراب نہیں پی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

شعیب الانؤوط لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند قوی ہے

مسند أحمد بن حنبل

الكتاب : مسند الإمام أحمد بن حنبل

المؤلف : أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني

الناشر : مؤسسة قرطبة - القاهرة

عدد الأجزاء : 6

الأحاديث مذيلة بأحكام شعيب الأرنؤوط عليها

21863 - حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ

دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا ثُمَّ أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي ثُمَّ قَالَ مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُعَاوِيَةُ كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي

مسند احمد بن حنبل حدیث ۲۱۸۶۳

mohabbate muhammad w aale muhammad ke bare me 12 hadiseN

«نَقَلَ صاحِبُ الْكَشّافِ(1) عَنِ النَّبِىِّ(صلى الله عليه وآله); نويسنده كتاب تفسيرى «الكشاف»، زمخشرى، از پيامبر اسلام(صلى الله عليه وآله) روايتى نقل كرده است»

وى در اين روايت، دوازده جمله پرمحتوى از رسول اكرم(صلى الله عليه وآله) نقل مى كند:

1 . مَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمَّد ماتَ شَهيداً

هر كس با عشق و علاقه و محبّت اهل بيت پيامبر اسلام(عليهم السلام) از دنيا برود، در صفّ شهيدان است.

---

1 . اين روايت در تفسير كشّاف، جلد4، صفحه 220 و 221 آمده است.

[ 184 ]

آيا اين محبّت يك محبّت عادى عارى از ولايت و امامت است؟

اگر مودّت و محبّت عادى باشد، چنين شخصى در صف شهيدان قرار مى گيرد؟

يا منظور از چنين محبّتى، كه انسان را آن قدر ترقّى مى دهد كه در صف شهيدان قرار مى گيرد، محبّت توأم با ولايت و امامت است؟

2 . أَلا وَمَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمّد ماتَ مَغْفُوراً لَهُ

(اى مردم!) آگاه باشيد: كسانى كه با محبّت و عشق آل محمّد(عليهم السلام) بدرود حيات بگويند آمرزيده و بخشوده خواهند بود.

3 . أَلا مَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمّد ماتَ تائِباً

هر كس با عشق و مودّت اهل البيت(عليهم السلام) از دنيا برود، تائب از دنيا رفته است.

يعنى اين محبّت جايگزين توبه مى شود و اگر موفّق به توبه هم نشود، مانند توبه كاران از دنيا مى رود. حقيقتاً اين، چه محبّتى است؟

4 . أَلا وَمَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمَّد ماتَ مُؤْمِناً مُسْتَكْمِلَ الاْيمانِ

كسى كه با عشق و محبّت آل محمّد(عليهم السلام) بميرد، همانند مؤمن كامل الايمان از دنيا رفته است.

آيا علاقه ساده باعث كمال ايمان مى گردد؟ حتماً در درون اين جملات مسأله مهمّى وجود دارد كه سبب اين كمالات بسيار والا مى شود.

5 . أَلا وَمَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمّد ماتَ بَشَّرَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ بِاْلَجَنَّةِ ثُمَّ مُنْكِرٌ وَنَكيرٌ

آگاه باشيد! هر كس با محبّت آل محمّد(عليهم السلام) از دنيا برود، فرشته مرگ او را بشارت به بهشت مى دهد، وسپس منكر و نكير (فرشتگان مأمور سؤال و جواب در برزخ) به او بشارت دهند.

[ 185 ]

راستى اين چه محبّتى است كه سبب مى شود در ابتداى مرگ به انسان بشارت بهشت دهند؟

6 . أَلا وَمَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمّد يَزِفُّ إِلَى الْجَنَّةِ كَما تَزِفُّ الْعَرُوسُ إِلى بَيْتِ زَوْجِها

آگاه باشيد! كسى كه با حبّ آل محمّد(عليهم السلام) بميرد، او را همانند عروسى كه به حجله مى برند، به سوى بهشت مى برند.

يعنى با احترام و شكوه و محبّت او را به سوى بهشت مى برند. آرى، إكسير محبّت آل محمّد(عليهم السلام) چنين آثار فوق العاده اى دارد!

7 . أَلا وَمَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمَّد فُتِحَ لَهُ فى قَبْرِه بابانِ إِلَى الْجَنَّةِ

كسى كه بر محبّت آل محمّد(عليهم السلام) بميرد، دو در از قبرش به سوى بهشت باز مى گردد.

سؤال : چرا دو در؟

جواب : شايد يكى به بركت نبوّت و ديگرى ثمره ولايت و امامت باشد!

8 . أَلا وَمَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمّد جَعَلَ اللهُ قَبْرَهُ مَزارَ مَلائِكَةِ الرَّحْمَةِ

آگاه باشيد! كسى كه با عشق اهل بيت(عليهم السلام) بميرد، خداوند قبرش را زيارتگاه فرشتگان رحمت خود قرار مى دهد!

راستى، آيا مى توان باور كرد با يك محبّت ساده قبر انسان زيارتگاه فرشتگان شود؟

9 . أَلا وَمَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمّد مات عَلَى السُّنَّةِ وَالْجَماعَةِ

كسى كه با محبّت آل پيامبر(عليهم السلام) بميرد، همانند كسى است كه بر سنّت پيامبر(صلى الله عليه وآله) و اجتماع مسلمين از دنيا رفته است.

در نُه جمله فوق، آثار محبّت و دوستى و مودّت اهل البيت(عليهم السلام) بيان شد. و سه جمله بعدى پيرامون عواقب سوء بغض و دشمنى اهل البيت(عليهم السلام) سخن مى گويد. به اين جملات توجّه كنيد:

[ 186 ]

10 . أَلا وَمَنْ ماتَ عَلى بُغْضِ آلِ مُحَمَّد جاءَ يَوْمَ الْقِيامَةِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ

آگاه باشيد! كسى كه با بغض و كينه آل محمّد(عليهم السلام)بميرد، در روز قيامت (به سمت صحراى محشر) مى آيد، در حالى كه بر پيشانى اش نوشته اند: اين، مأيوس و نااميد از رحمت الهى است!

بغض آل محمّد(عليهم السلام) چقدر خطرناك است، كه اينقدر باعث سقوط و بدبختى مى شود؟!

11 . اَلا وَمَنْ ماتَ عَلى بُغْضِ آلِ مُحَمَّد ماتَ كافِراً

كسى كه با بغض و كينه آل محمّد(عليهم السلام) بميرد، كافر از دنيا مى رود!»

اين اثر سوء، بدتر از اثر قبلى بغض آل محمّد(عليهم السلام) است.

12 . اَلا وَمَنْ ماتَ عَلى بُغْضِ آلِ مُحَمَّد لَمْ يَشُمَّ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ

كسى كه با بغض اهل بيت(عليهم السلام) بميرد، بوى بهشت را استشمام نمى كند.

جالب اين كه طبق بعضى روايات «بوى خوش بهشت، از فاصله هزار سال راه حس مى شود!(1)»

طبق اين روايت، معناى جمله بالا چنين مى شود: كسى كه داراى بغض آل محمّد است، نه تنها وارد بهشت نمى شود; بلكه تا فاصله 500 سال از بهشت دور است، بدين جهت بوى بهشت را استشمام نمى كند. خلاصه اين كه، چنين شخصى بسيار از بهشت دور است!

Wednesday, April 6, 2011

مظلوم کی حمایت

گزشتہ روز راسٹریہ سہارا لکھنؤ کے صفحہ اول پر کچھ مسلم تنظیموں کی جانب سے امام الحرم شیخ السدیس کی مذمت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور شیخ السدیس کی کی مذمت کو نفاق وغیرہ سے تعبیر کیا گیا تھا ۔

شیخ السدیس امام حرم ہیں ، اس لئے جس طرح کعبہ کا احترام واجب ہے شیخ السدیس کا احترام بھی ضروری ہے ۔ وہ ہندوستان میں مہمان ہیں اور مہمان کا احترام میزبان پر واجب ہے ۔

اس بیانیہ میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے اس سے مجھے کوئی اختلاف نہیں ہے امام حرم کا احترام واجب ہے ، مہمان کی خاطرداری ضروری ہے لیکن چونکہ بیانیہ دینے والوں نے اس میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ مسلم ممالک میں چل رہی استعماری سازشوں کے مخالف ہیں ، وہ لیبیا پر ہورہے امریکی حملوں کے مخالف ہیں اس لئے بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ امریکہ اور استعماری سازشوں کے مخالف ، ان کے خلاف مظاہرہ اور احتجاج کرنے والے ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ، اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کسی کو فرعون اور ظالم کہنا بھی غلط ہے تو پھر یہ لوگ امریکہ کے ظلم کی مذمت کیوں کرتے ہیں ؟ انھوں نے مصری حکومت گرانے میں مصر کی عوام کا ساتھ کیوں دیا ؟

میرے ان سوالوں کا جواب یقیناً وہ یہی دیں گے کہ ہم امریکہ کے مخالف اس لئے ہیں کہ وہ ظالم ہے ، اسلام و مسلمین کا دشمن ہے ،تو اگر آپ ظلم کے مخالف ہیں ، اسلام دشمنی کے خلاف احتجاج کرنے والے ہیں تو پھر دل کھول کر آل سعود کی بھی مخالفت کریں اس لئے کہ وہ بھی ظالم ہیں ، تو پھر دل کھول کر امام مکی کی بھی مذمت کریں چونکہ وہ بھی اسی ظلم و بربریت کا حصہ ہیں ۔

لیبیا میں جو مسلمان قتل کئے جا رہے ہیں کیا ان کا خون بحرینی مسلمانوں سے زیادہ سرخ ہے ؟ سعودیہ کے علاوہ وہ ممالک جہاں ڈکٹیٹر حکومتیں قائم ہیں اور وہاں کی عوام ڈکٹیٹرشپ کے خلاف جہاد کر رہی ہے اور آپ وہاں پر ہونے والے عوامی احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں اور ڈکٹیٹر شپ کی مخالفت کر رہے ہیں تو کیا سعودیہ کی ڈکٹیٹرشپ کا دامن دوسرے تانہ شاہوں سے زیادہ پاک ہے ؟

سعودی حکومت ایک ظالم حکومت ہے ،جو ہمیشہ سے اسرائیل اور امریکہ کے مظالم کی حمایت کرتی چلی آرہی ہے اس لئے ان کے ظلم میں برابر کی شریک ہے اور امام السدیس بھی اسی ظلم کا حصہ ہیں چونکہ ان کے اندر بھی اتنی جرات نہیں کہ وہ سعودی حکومت کی مذمت کر سکیں ، لا اقل احتجاج کے طور پر امامت کا عہدہ ہی چھوڑ دیں ایسی صورت میں ہم انھیں ظالم اور فرعون نہ کہیں تو کیا کہیں ؟

اعلامیہ دینے والوں کو میرا یہ مشورہ ہے کہ بغیر سمجھ بوجھ کے بیانیہ دینے سے پرہیز کریں ، اگر ظلم کی مکمل مخالفت نہیں کر سکتے تو بالکل نہ کریں ، اس لئے کہ ایک ظالم کی مخالفت دوسرے کی حمایت قطعی طور پر بجا نہیں ہے ۔

شیخ السدیس اگر صرف امام حرم ہوتے تو ہمارے لئے واجب الاحترام ہوتے ۔

شیخ السدیس اگر صرف عالم قرآن و حدیث ہوتے تو قرآن و حدیث کی طرح ہمارے لئے مقدس اور محترم ہوتے ۔

شیخ السدیس اگر صرف ہمارے مہمان ہوتے تو ہم اکرموا الضیف کا وظیفہ فراموش نہ کرتے ۔

لیکن شیخ السدیس ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ سعودی حکومت کے ظلم و جنایت کے حامی بھی ہیں ۔

واللہ لا یحب الظالمین (سورہ آل عمران / ۵۷ )

Sunday, April 3, 2011

عظمت صحابہ اعلامیہ

عظمت صحابہ اعلامیہ

حضرات صحابہ کی تعلیم و تربیت کے لئے سرور کائنات (ص) جیسا معلم اور مربی مہیا کیا گیا ۔

عظمت صحابہ اعلامیہ کے چند بند

۱۔ بلا استثناء تمام صحابہ جنتی ہیں ۔

۲۔ سارے صحابہ کو اللہ رب العزت کی دائمی رضا و خوشنودی حاصل ہے ۔

۳۔ جملہ صحابہ آپس میں برادرانہ الفت و محبت رکھتے تھے ۔

۴۔ ہر ایک صحابی کا دل ایمان و اخلاص کی الفت سے مزین اور کفر، فسق اور نافرمانی سے متنفر تھا ۔

۵۔ صحابہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں، انبیاء کے علاوہ جن و بشر میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے ۔

۶۔ صحابہ کی محبت رسول سے محبت اور ان سے بغض رسول سے بغض ہے ۔

۷۔ صحابہ کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانا حرام ہے ۔

۸۔ امت کا سارا شرف و مجد صحابہ سے وابستہ ہے ۔

روزنامہ راسٹریہ سہارا میں شائع خبر میں اس اعلامیہ کی توثیق کے حوالہ سے لکھا گیا تھا کہ اس اعلامیہ کو امام کعبہ السدیس کی تائید حاصل ہے ۔ مولانا ارشد مدنی کو معلوم ہونا چاہئے کہ امام السدیس کی تائید سے اس اعلامیہ کی تنقیص ہوگی توثیق نہیں کیوں کہ امام السدیس حرم امن الٰہی مکہ مکرمہ کے منتخب امام ہیں جن کو آل سعود کی حمایت حاصل ہے اور آل سعود کو ان کی حمایت حاصل ہے ، ظاہر ہے کہ مکہ مکرمہ اور مسجد النبی(ص) کی امامت وہ اہم مناصب ہیں جن پر صرف سعودی حکومت کا تائید شدہ امام ہی رہ سکتا ہے ۔

سعودی حکومت کے بارز ترین کارناموں میں سے ایک اہلبیت نبی (ص) اور اصحاب نبی (رض) کے قبور کی تخریب ہے جس سے کسی بھی صورت امام السدیس کا دامن پاک نہیں ہو سکتا ہے تو ایسے شخص کی تائید سے اس اعلامیہ کو کیا فائدہ پہنچے گا البتہ اس کی تائید سے شیخ السدیس کو فائدہ ضرور پہنچے گا ۔ آپ میرے دعوے کی تصدیق اس واقعہ سے کر سکتے ہیں کہ چند ماہ قبل سعودی حکومت میں واقعہ حرہ کے شہداء کی قبور کو ایک سڑک کی توسیع کے لئے مسمار کر دیا ۔ آپ تاریخ سے واقف ہیں کہ واقعہ حرہ میں کتنے صحابہ (رض) شہید کئے گئے تھے ۔ کیا ان کے قبر کی تخریب صحابہ کی توہین نہیں ہے ؟ اگر تمام صحابہ بلا استثناء اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کا احترام کیا جائے تو پھر ان کی بے حرمتی کرنے والوں کو کیوں کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے ؟

تخریب قبور شہدائے حرہ

ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ میں جس وقت امام السدیس کے حوالہ سے جستجو شروع کی تو سب سے پہلے ایک خبر نظر سے گزری کہ امام مکہ نے ۲۲ محرم ۱۴۳۱ کے خطبہ میں نبی کے ایک صحابی کو چور اور اچکا کہا تھا ۔

http://www.nationalkuwait.com/vb/showthread.php?t=99825

اس بات سے بھی صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم ) سے ان کی محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

خیر میری نظر میں سعودی حکومت کے دین و ایمان کی کوئی ارزش نہیں تو ان کے حکام اور ان کے منتخب ائمہ جمعہ و جماعات کی کیا قدر ہوگی اس لئے اس گفتگو کو یہیں پر ختم کر کے بات آگے بڑھانا چاہتا ہوں ۔

جناب مولانا ارشد مدنی صاحب !

کاسہ داغ تر از آش نباشد ، کیا اس اعلامیہ کی تائید خود صحابہ کرام بھی فرماتے ہیں یا نہیں ، ذرا تاریخ کھنگال کر دیکھیں !۔

· بلا استثناء تمام صحابہ جنتی ہیں ۔

مدنی صاحب بخاری شریف میں جن کا ذکر کیا گیا ہے یہ کون سے صحابی ہیں ؟

6584 - قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِى النُّعْمَانُ بْنُ أَبِى عَيَّاشٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ سَهْلٍ فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ لَسَمِعْتُهُ وَهْوَ يَزِيدُ فِيهَا « فَأَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّى . فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِى مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ . فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِى » . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سُحْقًا بُعْدًا ، يُقَالُ سَحِيقٌ بَعِيدٌ ، وَأَسْحَقَهُ أَبْعَدَهُ . طرفه 7051 - تحفة 4390

3349 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً - ثُمَّ قَرَأَ - ( كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ) وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِى يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِى أَصْحَابِى . فَيَقُولُ ، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ . فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ) إِلَى قَوْلِهِ ( الْحَكِيمُ ) أطرافه 3447 ، 4625 ، 4626 ، 4740 ، 6524 ، 6525 ، 6526 تحفة 5622

· سارے صحابہ کو اللہ رب العزت کی دائمی رضا و خوشنودی حاصل ہے

مدنی صاحب یہ کون صحابی تھے جن کو پیغمبر (ص) نے اپنے پاس سے اٹھا دیا ۔ اگر خدا ان سے خوشنود تھا تو پیغمبر (ص) ان سے ناراض کیوں ہوئے ۔

بخاری شریف کی یہ روایت ملاحظہ ہو ۔

114 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِى ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - وَجَعُهُ قَالَ « ائْتُونِى بِكِتَابٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ » . قَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ . قَالَ « قُومُوا عَنِّى ، وَلاَ يَنْبَغِى عِنْدِى التَّنَازُعُ » . فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَبَيْنَ كِتَابِهِ . أطرافه 3053 ، 3168 ، 4431 ، 4432 ، 5669 ، 7366 - تحفة 5841

· جملہ صحابہ آپس میں برادرانہ الفت و محبت رکھتے تھے

حضرات صحابہ کی محبت صحیح بخاری کی اس روایت میں ملاحظہ ہو ۔

4845 - حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِىُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِى تَمِيمٍ ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِى بَنِى مُجَاشِعٍ ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ - قَالَ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَهُ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِى . قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ . فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِى ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ ) الآيَةَ . قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ ، يَعْنِى أَبَا بَكْرٍ . أطرافه 4367 ، 4847 ، 7302 - تحفة 5269

· ہر ایک صحابی کا دل ایمان و اخلاص کی الفت سے مزین اور کفر، فسق اور نافرمانی سے متنفر تھا

بعد رسول(ص) مرتد ہونے والے صحابی کون تھے ؟

فَيَقُولُ ، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ .

مدنی صاحب میں بہت کچھ لکھتا لیکن یقین جانئے کہ فرصت کم ہے ، ویسے اگر جس طرح علمائے رجال راویان حدیث کی تنقیح و توثیق اور تعدیل و تفسیق کیا کرتے ہیں اگر ہم صحابہ کو بھی عدالت کے میزان میں رکھ کر دیکھیں تو بہتر ہوگا ، اس طرح عالم اسلام کے بہت سے مسائل بھی حل ہو جائیں گے ۔ اسلامی مقدسات محفوظ رہ جائیں گی اور صحابیت کا تقدس بھی پائمال ہونے سے بچ جائے گا ۔ اگر ہم ہر صحابی کو عادل مان کر اس کے ہر عمل کو حجت کا درجہ دینا چاہیں تو صحابہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے دلدل میں پھنس کر کہیں کے نہیں رہ جائیں گے ۔

ھدانا اللہ و ایاکم والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

Monday, March 21, 2011

ان کو پہچانئے ، یہ مسلمان ہی نہیں مسلمانوں کے فرمانروا ہیں


اگر دین محمد(ص) میں جائز نہیں تو چلو دین مسیح (ع) پر ہی پی لیتے ہیں


مسلمانوں کا سرمایہ کہاں خرچ ہو رہا ہے
ایک نا محرم سے ہاتھ ملاتے ہوئے

یہ فرمانروا یزید بن معاویہ سے کتنی شباہت رکھتا ہے محرم و نامحرم کو نہیں پہچانتا ، یہودیوں اور عیسائیوں کا ہم دست و ہمنوا ہے اور شراب بھی پی لیتا ہے ۔

سعودی عرب کے مفتیوں کی بات

آجکل عرب ممالک کے جو حالات ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ، ان حالات میں یہ پتہ لگانا کہ کون سچا ہے کون جھوٹا یہ بہت ہی مشکل امر ہے ، حسنی مبارک امریکہ کے پٹھو تھے لیکن برا وقت آیا تو جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ، قذافی امریکہ اور مغربی دنیا کے بہت بڑے منتقد سمجھے جاتے تھے لیکن جب سارکوزی نے نو فلائی زون کے مسئلے پر لیبیا کی مخالفت میں بیان دیا تو سیف الاسلام نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس نے سارکوزی کو انتخابات میں جتانے کے لئے مالی تعاون کیا تھا ، بحرین میں عوامی احتجاج کو سنی شیعہ اختلاف کا رخ دیا جا رہا ہے جس کے چلتے سعودی عرب نے ایک ہزار کی فوج حکومت کی حمایت میں بھیجی ہے ۔ اگر چہ سچی بات تو یہی ہے کہ بحرین میں اکثریت شیعہ کی ہے اور جمہوری حکومتوں میں حاکم انھیں کی آراء کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے تو جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ سعودی عرب کو شاید آل خلیفہ سے کوئی سر و کار نہ ہو لیکن یہ ڈر ضرور ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اس ملک میں جمہوری قوانین نافذ ہوں تو اس شیعہ اکثریت والے ملک میں شیعوں کی حکومت قائم ہو جائے ۔ آل سعود اور محمد بن عبدالوہاب کے خاندان کو کب یہ برداشت ہوگا کہ ان کے پڑوس میں کوئی شیعہ حکومت قائم ہو ۔ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی بات تو نہیں کرتا لیکن مجھے ان دونوں خاندانوں سے وابستہ افراد کو مسلمان کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے ۔

ذرا سوچئے ! مصر میں عوامی احتجاج کے موقع پر سعودی نے حسنی مبارک کی مدد کیوں نہیں کی ، لیبیا پر مغربی ممالک بم برسانے لگے ہیں وہاں پر سعودیہ اپنی فوج کیوں نہیں بھیج رہا ہے ، ساٹھ سالوں سے اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے ، قبلہ اول کو مسمار کر رہا ہے سعودی عرب نے کبھی وہاں پر اپنی فوج بھیج کر اسرائیل کی مخالفت کرنے کی جرائت کیوں نہیں کی؟ عراق میں امریکہ ۸ سال سے مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے سعودی عرب نے وہاں دہشتگرد بھیجنے کے علاوہ کوئی قدم نہیں اٹھایا ؟ میں سعودی عرب سے سوال کرتا ہوں کہ یہ بتاؤ تمہارا مذہب کیا ہے اسلام یا یہودیت ؟ تم سے مسلمانوں کی تو کوئی خدمت ہوتی نہیں لیکن اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا تمہارا مذہبی فریضہ بنا ہوا ہے ۔ اگر حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں پر جوابی کاروائی کرے تو تمہاری نظر میں یہ جنگ فتنہ ہے اور تمہارے علماء اس سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں ، اسے کفار اور مشرکین کی جنگ قرار دیتے ہیں وغیرہ ۔۔۔۔ کیا یہی تمہارا اسلام ہے ؟

اب خود سعودی حکومت اور اس کے طرز عمل کی گفتگو کریں ، آل سعود کی حکومت کس طرح قائم ہوئی ؟ کچھ جھلکیاں یاد دلا دوں ، ہر ایک قبیلے پر حملے کیا کرتے اور اگر وہ قبیلہ ان کی حکومت کو قبول کرتا تو ٹھیک ورنہ انھیں قتل کر دیا جاتا ، قبائل کے سرداروں کو ڈرا دھمکا کر ان پر حکومت شروع کی اور سعودی کنگ ڈم تیار ہو گیا ۔ لوگوں پر ظلم و جور کر کے حکومت حاصل کرنے کے باوجود آج اس بات کے دعویدار ہیں کہ حکومت آل سعود کا حق ہے اور ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا خروج ہے ۔ یعنی خود تو ظلم کے راستے حکومت حاصل کریں اور پھر ظلم کے ساتھ حکومت چلائیں اور جب اس ظلم کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو اسے خروج کہا جائے ، یعنی ان کا اسلام ظلم سہہ کر ظلم کو بڑھاوا دینے کی تعلیم دیتا ہے ۔

اب جس حکومت کا طرز عمل یہ ہو اس حکومت کے حامی علماء اگر بحرین ، عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کی کامیابی کی دعا کریں تو اسے بات کہیں یا گدھے کی لات یہ فیصلہ قارئین کریں گے ۔

البتہ سعودی علماء کا مذہب کچھ ان روایات سے سمجھا جا سکتا ہے :

شافعی مذہب :

كتاب الحاوى الكبير ـ الماوردى

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ {صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} قَالَ : الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ أَمِيرٍ بَرٍّ ، أَوْ فَاجِرٍ ، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ وَرُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ {صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} أَنَّهُ قَالَ : صَلُّوا خَلْفَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَرُوِيَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَأَنَسًا ، صَلَّوْا خَلْفَ الْحَجَّاجِ ، وَكَفَى بِهِ فَاسِقًا ، وَلِأَنَّ كُلَّ مَنْ صَحَّ أَنْ يَكُونَ مَأْمُومًا صَحَّ أَنْ يَكُونَ إِمَامًا كَالْعَدْلِ .

حنفی مذہب

البحر الرائق شرح كنز الدقائق

وفي خَبَرِ عبد اللَّهِ بن عُمَرَ عن النبي أَنَّهُ قال من كان على السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَهُ وَكَتَبَ له بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عشر حَسَنَاتٍ وَرَفَعَ له عَشْرَ دَرَجَاتٍ فَقِيلَ له يا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى يَعْلَمُ الرَّجُلُ أَنَّهُ من أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ فقال إذَا وَجَدَ في نَفْسِهِ عَشَرَةَ أَشْيَاءَ فَهُوَ على السُّنَّةِ الجماعة ( ( ( والجماعة ) ) ) أَنْ يُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ بِالْجَمَاعَةِ وَلَا يَذْكُرَ أَحَدًا من الصَّحَابَةِ بِسُوءٍ وَيَنْقُصَهُ وَلَا يَخْرُجَ على السُّلْطَانِ بِالسَّيْفِ وَلَا يَشُكَّ في إيمَانِهِ وَيُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ من اللَّهِ تَعَالَى وَلَا يُجَادِلَ في دِينِ اللَّهِ تَعَالَى وَلَا يُكَفِّرَ أَحَدًا من أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ وَلَا يَدَعَ الصَّلَاةَ على من مَاتَ من أَهْلِ الْقِبْلَةِ وَيَرَى الْمَسْحَ على الْخُفَّيْنِ جَائِزًا في السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَيُصَلِّيَ خَلْفَ كل إمَامٍ بَرٍّ أو فَاجِرٍ

زندگی کے ہر مرحلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کو اپنا اسوہ اور آئڈیل قرار دینا اسلامی حکم اور مسلمانوں کی پہچان اور خدا کی بندگی کی علامت ہے ۔ مسلمان کا ہر عمل اس کے بندگی کی علامت ہے لیکن وہ اعمال جن کو اسلام نے عبادت کہا ہے انہیں خاص امتیاز حاصل ہے اور نماز عبادات میں سب سے بلند مقام رکھتی ہے ۔ اب جب نماز جیسی بلند و بالا عبادتوں میں فاسق و فاجر شخص کی اقتدا جائز ہے تو پھر زندگی کے دیگر امور میں تو بہ طریق احسن ۔



Tuesday, March 1, 2011

عوام اسلام دشمن عناصرکی سازشوں سے ھوشیار رہے : آیت‌الله علوی گرگانی

رسا نیوزایجنسی - آیت الله علوی گرگانی نے عوام کو اسلام دشمن عناصرکی سازشوں سے ھوشیار کرتے ہوئے کہا : عوام جان لے کہ دشمن ھرگز خیرخواہ اور دلسوز نہی ہوتا ۔

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، آیت‌الله سید محمدعلی علوی گرگانی نے اج نی وی کے اھل کاروں سے ملاقات میں کہا: خدواند تبارک و تعالی نے انسانوں کو راستے دکھائے ہیں اور خود ھماری ذمہ داری ہے کہ ھم راہ حق پر گامزن رہیں ۔

انہوں نے مزید کہا : خدواند متعال نے ھر انسان کے وجود میں الهی اور شیطانی صفات قرار دیئے ہیں اورفقط وہی صحیح راستے پرچل سکتا ہے جو عقل کا سہارا لے ۔

حوزہ علمیہ قم کے اس معروف استاد نے تاکید کی : انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ نفس امارہ کو دبائے اور خدا کی اطاعت میں رکھے ۔

انہوں نے مزید کہا : معاشرے کی اصلاح دوگروہ کے ہاتھوں میں ہے ایک عالم اوردوسرے انتظامیہ اور ھم دونوں کو اپنے نفس کی مراقبت کرنی چاھئے ۔

حوزہ علمیہ قم کے اس معروف استاد نے عوام کو اسلام دشمن عناصرکی سازشوں سے ھوشیار کرتے ہوئے کہا : عوام جان لے کہ دشمن ھرگز خیرخواہ اور دلسوز نہی ہوتا ۔

استکبار کی مداخلتوں سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا : قائد انقلاب اسلامی

رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں کہا : علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی مبارکباد پیش کی اور علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے حیات بخش خورشید سے بہرہ مند ہونے کی انسانی لیاقت بڑھنے کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت کو انسانی زندگی کی درخشاں صبح سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے انسان کا شعور و ادراک عمیق سے عمیق تر اور اس کی صلاحیتیں کامل تر ہوں گی انسانی معاشروں کی تقدیر اور مستقبل کے سلسلے میں بعثت پیغمبر اسلام کی سعادت بخش برکتیں اتنی ہی زیادہ آشکارا ہونگی۔

چنانچہ آج علاقے میں اس حقیقت کی علامات کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نےعلاقے کے بعض ممالک منجملہ مصر اور تیونس میں نظر آنے والی اسلامی بیداری کو تحقیر، تاریکی اور مظالم سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو جانے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ان کے اقدامات کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ ملکوں کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی امور میں استکباری طاقتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی مداخلتوں اور تسلط پسندی سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے راہ حل کی تلاش شروع کر دی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک میں بھی عوام کی قابل لحاظ تعداد کی مادہ پرستانہ مکتب فکر سے بیزاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسلمان اپنی رفتار و گفتار سے اسلام کو صحیح طور پر دنیا میں متعارف کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو یقینی طور پر اسلام کی جانب عمومی رجحان دنیا پر چھا جائیگا۔ لہذا اس نکتے کی بنیاد پر اپنی فکر اور عملی زندگی کی اصلاح کی مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے استکباری طاقتوں سے بیزاری کو علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کا اولیں نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ امریکی خود کو اس عظیم تحریک کی زد سے دور رکھنے کی بڑی کوششیں کر رہے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکتی کیونکہ قوموں کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اس کے مہروں کی پالیسیاں قوموں کی تحقیر اور ان کے باہمی اختلافات و تفرقے کی بنیادی وجہ ہیں لہذا مسلمانوں کی مشکلات کا حل علاقے سے امریکہ کی بساط لپیٹ دئے جانے میں مضمر ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے قوموں اور حکومتوں کے مابین شگاف اور خلیج کو امریکہ کی مشرق وسطی اسٹریٹیجی کی دین قرار دیا اور فرمایا کہ میدان عمل میں قوموں کی موجودگی جابر طاقتوں کے خنجر کو کند کر دیتی ہے اور اگر حکومتیں قوموں کی خواہشات کے مطابق عمل شروع کر دیں تو امریکہ یا کوئی بھی توسیع پسند طاقت ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔

قائد انقلاب اسلامی نے جعلی صیہونی حکومت کو ایک سرطان اور علاقے میں متعدد سیاسی و اقتصادی "بیماریوں اور بلاؤں" کی جڑ قرار دیا اور فرمایا کہ اس جنگ افروز اور تفرقہ انگیز سرطان کو باقی رکھنے کے لئے سامراج جی توڑ کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سرطان سے علاقے کے عوام کی نفرت اس وقت بالکل آشکارا ہو چکی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے علاقے میں روز افزوں اسلامی بیداری کی لہر کو صحیح سمت میں آگے لے جانے کے تعلق سے علمائے دین، سیاسی اور علمی ہستیوں کی ذمہ داری کو بہت اہم قرار دیا اور فرمایا کہ علاقے کے ملکوں کی ذمہ دار شخصیتوں کو چاہئے کہ سامراج کو کسی بھی حربے کے ذریعے عوامی قیام کو یرغمال بنانے اور قوموں کی عظیم تحریک کو سبوتاژ کرنے کا موقعہ نہ دیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی تحریک کی حفاظت اور صحیح سمت میں رہنمائی کو علاقے اور امت مسلمہ کے تابناک مستقبل کی تمہید قرار دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی تعداد، ان کے پاس موجود بیکراں ذخائر اور ان کے خاص جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم امہ کی موجودہ حالت میں تبدیلی لانا چاہئے اور انشاء اللہ فضل پروردگار اور اسلام کی برکتوں سے یہ تغیر مستقبل قریب میں رونما ہونے والا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے قرآنی آیات کی روشنی میں اللہ تعالی پر توکل اور اس کی بارگاہ میں خضوع وخشوع، برادران دینی سے ہمدردی اور سامرجی و استبدادی طاقتوں کے خلاف پائیداری و استقامت کو مسلم انسان اور اسلامی معاشرے کا خاصہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران توفیق خداوندی سے اس سعادت بخش راستے پر گامزن ہے اور دوسری مسلمان قومیں بھی رفتہ رفتہ اسی سمت میں قدم بڑھا رہی ہیں۔ چنانچہ وعدہ الہی "و العاقبۃ للمتقین" پورا ہوکر رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر کے صبر و استقامت، عبادت خداوندی و عوام دوستی، انصاف پسندی و مظلوم نوازی اور عزت و کرامت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کی تعلیمات دنیا کا نصب العین اور عمومی مطالبہ بن چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے پیچیدہ منصوبوں کے باوجود قوموں میں بیداری اور انبیاء کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا ہو رہی ہے اور اسلامی جمہوریہ، مصلح عالم کی حکومت کے قیام کی الہی دعوت کی بلند آواز ہے۔

استکبار کی مداخلتوں سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا : قائد انقلاب اسلامی

رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں کہا : علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی مبارکباد پیش کی اور علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے حیات بخش خورشید سے بہرہ مند ہونے کی انسانی لیاقت بڑھنے کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت کو انسانی زندگی کی درخشاں صبح سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے انسان کا شعور و ادراک عمیق سے عمیق تر اور اس کی صلاحیتیں کامل تر ہوں گی انسانی معاشروں کی تقدیر اور مستقبل کے سلسلے میں بعثت پیغمبر اسلام کی سعادت بخش برکتیں اتنی ہی زیادہ آشکارا ہونگی۔

چنانچہ آج علاقے میں اس حقیقت کی علامات کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نےعلاقے کے بعض ممالک منجملہ مصر اور تیونس میں نظر آنے والی اسلامی بیداری کو تحقیر، تاریکی اور مظالم سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو جانے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ان کے اقدامات کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ ملکوں کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی امور میں استکباری طاقتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی مداخلتوں اور تسلط پسندی سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے راہ حل کی تلاش شروع کر دی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک میں بھی عوام کی قابل لحاظ تعداد کی مادہ پرستانہ مکتب فکر سے بیزاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسلمان اپنی رفتار و گفتار سے اسلام کو صحیح طور پر دنیا میں متعارف کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو یقینی طور پر اسلام کی جانب عمومی رجحان دنیا پر چھا جائیگا۔ لہذا اس نکتے کی بنیاد پر اپنی فکر اور عملی زندگی کی اصلاح کی مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے استکباری طاقتوں سے بیزاری کو علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کا اولیں نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ امریکی خود کو اس عظیم تحریک کی زد سے دور رکھنے کی بڑی کوششیں کر رہے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکتی کیونکہ قوموں کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اس کے مہروں کی پالیسیاں قوموں کی تحقیر اور ان کے باہمی اختلافات و تفرقے کی بنیادی وجہ ہیں لہذا مسلمانوں کی مشکلات کا حل علاقے سے امریکہ کی بساط لپیٹ دئے جانے میں مضمر ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے قوموں اور حکومتوں کے مابین شگاف اور خلیج کو امریکہ کی مشرق وسطی اسٹریٹیجی کی دین قرار دیا اور فرمایا کہ میدان عمل میں قوموں کی موجودگی جابر طاقتوں کے خنجر کو کند کر دیتی ہے اور اگر حکومتیں قوموں کی خواہشات کے مطابق عمل شروع کر دیں تو امریکہ یا کوئی بھی توسیع پسند طاقت ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔

قائد انقلاب اسلامی نے جعلی صیہونی حکومت کو ایک سرطان اور علاقے میں متعدد سیاسی و اقتصادی "بیماریوں اور بلاؤں" کی جڑ قرار دیا اور فرمایا کہ اس جنگ افروز اور تفرقہ انگیز سرطان کو باقی رکھنے کے لئے سامراج جی توڑ کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سرطان سے علاقے کے عوام کی نفرت اس وقت بالکل آشکارا ہو چکی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے علاقے میں روز افزوں اسلامی بیداری کی لہر کو صحیح سمت میں آگے لے جانے کے تعلق سے علمائے دین، سیاسی اور علمی ہستیوں کی ذمہ داری کو بہت اہم قرار دیا اور فرمایا کہ علاقے کے ملکوں کی ذمہ دار شخصیتوں کو چاہئے کہ سامراج کو کسی بھی حربے کے ذریعے عوامی قیام کو یرغمال بنانے اور قوموں کی عظیم تحریک کو سبوتاژ کرنے کا موقعہ نہ دیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی تحریک کی حفاظت اور صحیح سمت میں رہنمائی کو علاقے اور امت مسلمہ کے تابناک مستقبل کی تمہید قرار دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی تعداد، ان کے پاس موجود بیکراں ذخائر اور ان کے خاص جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم امہ کی موجودہ حالت میں تبدیلی لانا چاہئے اور انشاء اللہ فضل پروردگار اور اسلام کی برکتوں سے یہ تغیر مستقبل قریب میں رونما ہونے والا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے قرآنی آیات کی روشنی میں اللہ تعالی پر توکل اور اس کی بارگاہ میں خضوع وخشوع، برادران دینی سے ہمدردی اور سامرجی و استبدادی طاقتوں کے خلاف پائیداری و استقامت کو مسلم انسان اور اسلامی معاشرے کا خاصہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران توفیق خداوندی سے اس سعادت بخش راستے پر گامزن ہے اور دوسری مسلمان قومیں بھی رفتہ رفتہ اسی سمت میں قدم بڑھا رہی ہیں۔ چنانچہ وعدہ الہی "و العاقبۃ للمتقین" پورا ہوکر رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر کے صبر و استقامت، عبادت خداوندی و عوام دوستی، انصاف پسندی و مظلوم نوازی اور عزت و کرامت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کی تعلیمات دنیا کا نصب العین اور عمومی مطالبہ بن چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے پیچیدہ منصوبوں کے باوجود قوموں میں بیداری اور انبیاء کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا ہو رہی ہے اور اسلامی جمہوریہ، مصلح عالم کی حکومت کے قیام کی الہی دعوت کی بلند آواز ہے۔

استکبار کی مداخلتوں سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا : قائد انقلاب اسلامی

رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں کہا : علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی مبارکباد پیش کی اور علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے حیات بخش خورشید سے بہرہ مند ہونے کی انسانی لیاقت بڑھنے کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت کو انسانی زندگی کی درخشاں صبح سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے انسان کا شعور و ادراک عمیق سے عمیق تر اور اس کی صلاحیتیں کامل تر ہوں گی انسانی معاشروں کی تقدیر اور مستقبل کے سلسلے میں بعثت پیغمبر اسلام کی سعادت بخش برکتیں اتنی ہی زیادہ آشکارا ہونگی۔

چنانچہ آج علاقے میں اس حقیقت کی علامات کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نےعلاقے کے بعض ممالک منجملہ مصر اور تیونس میں نظر آنے والی اسلامی بیداری کو تحقیر، تاریکی اور مظالم سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو جانے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ان کے اقدامات کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ ملکوں کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی امور میں استکباری طاقتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی مداخلتوں اور تسلط پسندی سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے راہ حل کی تلاش شروع کر دی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک میں بھی عوام کی قابل لحاظ تعداد کی مادہ پرستانہ مکتب فکر سے بیزاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسلمان اپنی رفتار و گفتار سے اسلام کو صحیح طور پر دنیا میں متعارف کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو یقینی طور پر اسلام کی جانب عمومی رجحان دنیا پر چھا جائیگا۔ لہذا اس نکتے کی بنیاد پر اپنی فکر اور عملی زندگی کی اصلاح کی مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے استکباری طاقتوں سے بیزاری کو علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کا اولیں نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ امریکی خود کو اس عظیم تحریک کی زد سے دور رکھنے کی بڑی کوششیں کر رہے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکتی کیونکہ قوموں کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اس کے مہروں کی پالیسیاں قوموں کی تحقیر اور ان کے باہمی اختلافات و تفرقے کی بنیادی وجہ ہیں لہذا مسلمانوں کی مشکلات کا حل علاقے سے امریکہ کی بساط لپیٹ دئے جانے میں مضمر ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے قوموں اور حکومتوں کے مابین شگاف اور خلیج کو امریکہ کی مشرق وسطی اسٹریٹیجی کی دین قرار دیا اور فرمایا کہ میدان عمل میں قوموں کی موجودگی جابر طاقتوں کے خنجر کو کند کر دیتی ہے اور اگر حکومتیں قوموں کی خواہشات کے مطابق عمل شروع کر دیں تو امریکہ یا کوئی بھی توسیع پسند طاقت ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔

قائد انقلاب اسلامی نے جعلی صیہونی حکومت کو ایک سرطان اور علاقے میں متعدد سیاسی و اقتصادی "بیماریوں اور بلاؤں" کی جڑ قرار دیا اور فرمایا کہ اس جنگ افروز اور تفرقہ انگیز سرطان کو باقی رکھنے کے لئے سامراج جی توڑ کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سرطان سے علاقے کے عوام کی نفرت اس وقت بالکل آشکارا ہو چکی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے علاقے میں روز افزوں اسلامی بیداری کی لہر کو صحیح سمت میں آگے لے جانے کے تعلق سے علمائے دین، سیاسی اور علمی ہستیوں کی ذمہ داری کو بہت اہم قرار دیا اور فرمایا کہ علاقے کے ملکوں کی ذمہ دار شخصیتوں کو چاہئے کہ سامراج کو کسی بھی حربے کے ذریعے عوامی قیام کو یرغمال بنانے اور قوموں کی عظیم تحریک کو سبوتاژ کرنے کا موقعہ نہ دیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی تحریک کی حفاظت اور صحیح سمت میں رہنمائی کو علاقے اور امت مسلمہ کے تابناک مستقبل کی تمہید قرار دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی تعداد، ان کے پاس موجود بیکراں ذخائر اور ان کے خاص جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم امہ کی موجودہ حالت میں تبدیلی لانا چاہئے اور انشاء اللہ فضل پروردگار اور اسلام کی برکتوں سے یہ تغیر مستقبل قریب میں رونما ہونے والا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے قرآنی آیات کی روشنی میں اللہ تعالی پر توکل اور اس کی بارگاہ میں خضوع وخشوع، برادران دینی سے ہمدردی اور سامرجی و استبدادی طاقتوں کے خلاف پائیداری و استقامت کو مسلم انسان اور اسلامی معاشرے کا خاصہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران توفیق خداوندی سے اس سعادت بخش راستے پر گامزن ہے اور دوسری مسلمان قومیں بھی رفتہ رفتہ اسی سمت میں قدم بڑھا رہی ہیں۔ چنانچہ وعدہ الہی "و العاقبۃ للمتقین" پورا ہوکر رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر کے صبر و استقامت، عبادت خداوندی و عوام دوستی، انصاف پسندی و مظلوم نوازی اور عزت و کرامت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کی تعلیمات دنیا کا نصب العین اور عمومی مطالبہ بن چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے پیچیدہ منصوبوں کے باوجود قوموں میں بیداری اور انبیاء کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا ہو رہی ہے اور اسلامی جمہوریہ، مصلح عالم کی حکومت کے قیام کی الہی دعوت کی بلند آواز ہے۔