Wednesday, March 4, 2009

ہم کو اقتدار نہیں اقدار چاہئے

نواز شریف کا انکشاف پرویز مشرف کی روح زرداری کے اندر گھس آئی ہے ہم کو اقتدار نہیں اقدار چاہئے،نواز و شہباز اشرف الاشراف شریف برادران کی نااہلی اور نااہلی کے فوبیا میں مبتلا پی ایم ایل (ن)۔
نواز شریف نے کہا ہے کہ ''ہم کواقتدار نہیں اقدار چاہئے'' میرے خیا ل سے تو یہ خواہش ہر پاکستانی کی ہے اور ہر حکمران بھی الیکشن سے قبل یہی کہتا ہے کہ اقدار چاہئے اور اقدار کے چکرمیں اس کو اقتدارمل جاتاہے اور نواز و شہباز جو اشرف الاشراف ہیں انہوں نے یہ اگر کہا ہے تو کوئی ایسی انوکھی بھی نہیں کہی ہے جس کا اتنا واویلا کیا جائے ایسا لگتا ہے کہ شریف برادران کی نااہلی کے بعد ان برادرز سیمت پی ایم ایل (ن) والوں کوبھی نااہلی کا فوبیا ہوگیا ہے۔جس کے نتائج نہ صرف ان کے لئے بلکہ ملک کے لئے بھی شدید نقصان کا باعث ہوسکتے ہیں بہرحال! نواز و شہباز شریف نے سپریم کورٹ سے اپنی نااہلی ثابت ہونے کے بعد اب خود سے ملک میں جلد ازجلد مڈٹرم الیکشن کرانے کے لئے اپنی نااہلی کو بنیاد بناکر انتخابی مہم شروع کردی ہے۔اس سلسلے میں یہ دونوں بھائی اور ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) باقاعدہ پلاننگ کے تحت انتہائی گرم جوشی سے اپنی اس انتخابی مہم کوجاری کررکھے ہوئے ہیں اوراپنی نااہلی کو اہلیت میں تبدیل کرانے کے سلسلے میں ہونے والے عوامی اجتماعات، جلسوں اور جلوسوں میں شریف برادران اور ان کی پارٹی کے سرگرداں لیڈر عوام کوکھلم کھلا سول نافرمانی کرنے پر اکسانے اور ملک کا امن وامان تباہ اور برباد کرنے کی ترغیب بھی دیتے نظر آرہے ہیں۔جو کہ کسی بھی لحاظ سے ملک اور قوم اور جمہوریت کے لئے نہ تو قابل قبول ہے اور نہ ہی قابل برداشت ہی اس حوالے سے گزشتہ دنوں ناروال میں ایک بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے عوام کوخصوصی طور پر مخاطب کرکے کہا کہ اب جومیں انکشاف کرنے جارہاہوں اسے غور سے سنووہ یہ کہ''پرویز مشرف کی روح زرداری کے اندر گھس گئی ہے اور پرویز مشرف کے ججوں کو زرداری نے گلے لگالیا ہے۔میں نااہل اور مشرف اہل قرارپایاہے انہوں نے کہا کہ تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے 15مارچ اور16مارچ تک جو ملک میں لانگ مارچ ہوگا یہ لانگ مارچ پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لئے ہوگا عوام ہمارا ساتھ دے اور گھروں سے باہر نکلے تو ہم ایسی تبدیلی لائیں گے کہ جہاں خوشیاں ہوں گیں اور آج پاکستان کی خوشحالی تبدیلی سے مشروط ہے یہاں سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب تک شریف برادران نااہل قرار نہیں دیئے گئے اور یہ حکومت میں شامل رہے تو اس وقت تک تو ان کی زبان پر یہ الفاظ نہیں آئے اور جسے ہی سپریم کورٹ کا ان کے خلاف فیصلہ آگیا تو انہوں نے اور ان کی جماعت نے حکومت اور صدر زرداری کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی ۔جو کہ لمحہ فکریہ ہے ہر اس محب وطن پاکستانی کے لئے جو پاکستان اور جمہوریت سے محبت رکھتا ہے اس منظر اور پس منظر میں ملک کا ایک سنجیدہ طبقہ آج پھراس بات پر نہ صرف حیران اور اضطرابی کیفیت سے دوچار ہے بلکہ یہ طبقہ انتہائی افسوس کے ساتھ ایک بار پھر یہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہے کہ 18فروری کے عام انتخابات سے قبل اور اس کے فوری بعد ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور عفوودرگزر کی ایک خوشگوار فضاجوکچھ عرصہ ہی برقرار رہ سکی وہ اب ناپیدکیوں ہوکر رہ گئی ہے۔حالانکہ اس وقت تو ان انتخابات کے نتیجے میں کامیاب ہونے والی ملک کی تمام جماعتوں میں جو اتحاد اور یکجہتی کا عنصر غالب رہا اس سے یہ اندازہ تو ضرور ہوگیا تھا کہ آئندہ چند ہ دنوں میں ملک میں جو مثبت اور تعمیری ،اخلاقی اور سیاسی تبدیلیاںرونما ہونگیں وہ یقینا عوامی خواہشات اور امنگوں کی آئنہ دار بھی ہوگی مگر اس طبقے اور عوام کے یہ سارے حسین خواب جوانہوں نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے۔وہ سب کے سب کچھ عرصہ گزرنے کے ساتھ ہی چکنا چور ہوگئے کہ جب فرینڈلی اپوزیشن اورحکمران جماعتکے درمیان پیداہونے والے اندرونی اختلافات آہستہ آہستہ کھل کر باہر آنے شروع ہوئے گئیتوکسی کوبھی اس وقت یہ یقین نہیں ہوا تھاکہ کبھی ان اختلافات کی بنیاد پر اتنا ؟کچھ بھی ہوسکتا ہے کہ جتنا آج ہورہا ہے۔یعنی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان ان دنوں جیسا گھمسان کارن جاری ہے اور آج دونوں جانب سے محاذآرائی کی انتہاہوگئی ہے کہ پی ایم ایل (ن)لیگ کے سربراہ اور دومرتبہ ملک کے منتخب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اوردو بار وزیراعلیٰ پنجاب رہنے والے ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اپنے ایک انتہائی مختصر فیصلے میں ان دونوں بھائیوں کو نااہل قرار دے دیا ہے۔تو اس کے بعد ملک کے ایک صوبے بالخصوص پنجاب میں ان دونوں بھائیوں اور ان کی پارٹی کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلانیہ جاری کردیا گیا اورجس کے ساتھ ہی ملک کے طول و عرض میں گھیراؤ جلاؤاور مارا ماری کا جو ماحول بن گیا ہے ا وران ہنگاموں کے دوران نہ صرف سرکاری اور نجی املاک کوہی نذرآتش کیاجارہاہے۔بلکہ ایک مصدقہ اطلاعات کے مطابق افسوس کا مقام تو یہ بھی ہے کہ ان ہنگامہ آرائیوں کے دوران کچھ شرپسند عناصر نے دانستہ طور پر وفاق کی زنجیرمحترمہ بینظیر بھٹو شہید جنہوںنے ملک کی ساڑھے سولہ کروڑ عوام کی بقا و سالمیت اور ترقی و خوشحالی ا ور جمہوریت کے خاطر اس وقت کے ایک آمر جنرل پرویز مشرف سے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنے اصولوں پر قائم رہ کر اپنی جان دی۔ان کی یادگار کی بھی بے حرمتی کی اور اس واقع کی پرزور مذمت کرتے ہوئے پاکستان متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں ایک فقیدالمثال ریلی بھی نکالی جس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے شریف برادران کو پیشکش کی کہ اگر محاذآرائی ختم کردیں تو ایم کیوایم کے قانونی ماہرین سپریم کورٹ میں ان کی نااہلی کا مقدمہ بلامعاوضہ لڑنے کے لئے تیار ہے یہ ایک محب وطن پاکستانی کی مثبت اور معیاری سوچ ہے۔جو ہر حال میں یہ چاہتا ہے کہ کسی بھی طرح حکومت اور پی ایم ایل نون کے درمیان جاری رن اور محاذ آرائی کی قائم اس فضا میں کمی آئے اور یہ غیر یقینی کی صورتحال افہام و تفہم کی راہ اختیار کرتے ہوئے ایک تعمیری سمت کی جانب رواں دواں ہوکر اختتام پزیر ہو تو دوسری طرف شریف برادران اور ان کی پارٹی کے لوگ اس بات پر گامزن ہیں کہ ملک میں بدامنی ہو اور یہ حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکے اس کے لئے یہ ہر وہ حربہ استعمال کررہے ہیں۔جوجارحانہ ہے اس لئے تو کہا جا تا ہے کہ چھلانگ لگانے سے پہلے بھی دیکھ لو اور آگے بڑھنے سے پہلے بھی اچھی طرح سوچ سمجھ لو پتہ نہیں نواز شریف نے جب سے قوم کو اپنی نااہلی کے بعد جو سول نافرمانی کے لئے اکسانا شروع کیا ہے اس سے متعلق بھی سوچا ہے کہ نہیں اس طرح تووہ نہ صرف خود بلکہ عوام کوجس تباہی اور نارگی کے اندھیرے کنوئیں میں چھلانگ لگانے کے لئے لے جارہے ہیں انہوں نے اس کے آئندہ اخذہونے والے بھیانک نتا ئج کے بارے میں بھی سوچا ہے۔کیوں کہ وہ ججز کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی رٹ لگا کر کئی باراسی سنگین غلطیاںپہلے بھی کر چکے ہیں کہ ان کی اب اپنی نااہلی کے بعد سول نافرمانی کے لئے قوم کو اکسانے جیسی سنگین غلطی کی بھی اب کوئی کنجائش نہیں ہے کیوں کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بے وقوف آدمی غلطیوں پر غلطیاں کئے جاتا ہے اور کوئی رخ تبدیل نہیں کرتاجبکہ اسے ہر بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے جبکہ پال ہنری سپارک نے کہا ہے کے ''جب کبھی مجھ پر کوئی دشوار وقت آتا ہے۔تو میں خود کو تسلی دے لیتا ہوں کہ یہ وقت گرز جائے گا اور اس جذبے کے تحت وہ وقت گزرجاتا ہے'' ایسا لگتا ہے کہ پال ہنری سپارک نے اپنا یہ مشہور زمانہ قول اس ہی وقت کے لئے کئی سال قبل کہہ دیا تھا کہ جس دشوار گزار اور انتہائی کٹھن وقت سے پوری پاکستانی قوم گزر رہی ہے اور ہمارا ملک آج گزشتہ کئی سالوں سے داخلی اور خارجی لحاظ سے جن سنگین مسائل سے دورچار ہے۔وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت ان کی ہم خیا ل جماعتوں اور (معذرت کے ساتھ جذبات کے سمند ر میں غوطہ زن معصوم )عو ام سے بھی یہ ضرور تقاضہ کرتے ہیں کہ یہ بھی خود کو تسلی دیں کہ محاذ آرائی سے گریز کیا جائے کیوں کہ یہ دشوار وقت بھی گزر جائے گا مجھے قوی امید ہے کہ اوراگران نازک ایام میں جن سے ہماراملک آج گزر رہا ہے ان(ایام) میں ہمارے سیاستدانوں اور عوام نے تحمل مزاجی عفوودرگزر اور برداشت کی سوچ اور جذبے کا سہارا لیا تو قوم یہ بھی یقین کر لے کہ یہ دشوار وقت بھی بغیر خون خرابے کے افہام و تفہیم کی راہ اختیار کرنے سے خاموشی سے گزر ہی جائے گااور ایک نئی تاریخ بھی رقم کر جائے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نواز شریف اپنی نااہلی کے بعد اپنی جذباتی تقریروں سے قوم کو ورغلا کرسول نافرمانی کی جانب مت دھکیلیںکیوں کہ عوام جذبات کے غلام ہوتے ہیں اورعوام کی بڑی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے کہ جو صبح سے شام اور پھر رات سے صبح تک اپنی روٹی اور دال کے حصول میںکسی کولہوکے بیل کی طرح جت رہتے ہیںاوروہ ملکی معاملے میں ٹھنڈے دل و دماغ سے کسی بات پر غور نہیں کرتے بلکہ ان کی مصروفیات اور ان کی معاشی پریشانی انہیں اس بات کا موقع ہی نہیں دیتیںکہ وہ کچھ سوچ سمجھ سکیں۔اس وقت مجھے تھوریو جو ایک دانشور گزرا ہے اس کا ایک قول یاد آرہاہے وہ کہتا ہے کہ'' دانشن مند لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ مایوسی پھیلانے والے کام نہیں کرتے'' جبکہ شریف برادران بھی کسی دانشور سے کم نہیں مگر معلوم نہیں وہ عوام میں پھر کیوں؟ مایوسی پھیلا رہے ہیںجبکہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے بھی کبھی کہا تھا کہ'' ہمیں بھائیوں کی طرح اکٹھے رہنے کے طور طریقے سیکھنے چاہئیں یا پھر احمقوں کی طرح اجتماعی بربادی کے لئے تیار ہنا چاہئے اور ایک پر امن ماحول کی تشکیل کے لئے ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والی باتوں سے بھی اجتناب برتنا چاہئے۔تو اب یہ فیصلہ شریف برادران حکومت کوکرنا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح اکٹھے رہنے کے طور طریقے اپناتے ہیں یا ان حالات میں کہ جب ملک اپنے دور کے انتہائی نازک وقت سے گزر رہا ہے احمقوں کی طرح اجتماعی بربادی کے لئے تیار رہیں اس صورت میں خاتمہ دونوں کاہے اور بھلائی کسی کی بھی نہیں ہے۔

وہ میرا گھر ہے، جہاں روشنی نہیں ہوتی

حقیقتا عوام مایوس ہیں، پاکستانی دانشور مایوس ہیں، بیرون ملک پاکستانی مایوس ہیں اور حتیٰ کہ سول سوسائٹی بھی اِس نئے پاکستانی تشخص سے مایوس ہے کہ پاکستانی جمہوری کلچر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔
پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ سیاسی منظر نامے کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہمارے حکمران ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں نہ صرف تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ خطے کی اُلجھنوں کو سمجھنے ، پاکستان کو درپیش مسائل کا معروضی جائزہ لینے اور اِس سے منسلک جدید تقاضوں کا ادراک کرنے سے بھی محروم نظر آتے ہیں ۔عہد حاضر میں پاکستان کو کیا خطرات درپیش ہیں اور اِن خطرات کے پیش نظر بانیانِ پاکستان کی وراثت کو کس طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے ، وہم و گمان سے بے نیاز ہمارے حکمران کسی بھی نازک صورتحال سے بے پرواہ ہو کر آج پھر سے باہم دست و گریباں ہیں ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے بعد جو کچھ کہا تھا وہ آج کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی منطبق نظر آتا ہے۔اُن کا کہنا تھا ،، دنیا کی تمدنی ترقی کے باوجود بدقسمتی سے آج بھی جنگل کا قانون نافذ ہے یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ، آج بھی طاقتور کمزور کا استحصال کرنے سے نہیں چوکتا، آج بھی خود غرضی، لالچ اور اقتدار کی ہوس افراد اور اقوام پر مسلط ہے ۔پاکستان کی بہتری اِسی میں ہے کہ ہم جلد از جلد وقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر اِس ملک کے لامحدود امکانات کو سمجھیں اور ہر فرد انصاف ، مساوات اور اخوت کے عظیم مقاصد کے حصول کی ضرورت کو محسوس کرے جو قیامِ پاکستان کے بنیادی تقاضے بھی ہیں اور ایک عادلانہ معاشرتی نظام کے مظہر بھی،،۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بانیانِ پاکستان کی جلد وفات اور خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کے باعث پاکستان میں جمہوریت کا پودہ ایک تن آور درخت نہیں بن سکا اور حکومتیں تواتر کیساتھ آمریت اور جمہوریت کے درمیان منقسم ہوتی رہیں۔ اسی طرح نوے کی دھائی میںایسے ہی ایک منظر نامہ میں پاکستان میں جمہوری ثقافت پر انتقامی سیاست کا بھوت سوار ہوا جسے خفیہ ہاتھوں نے آمرانہ نظام کے حق میں استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ چار جمہوری حکومتیں تواتر سے تبدیل کی گئیں اور بلاآخر وردی کی حکومت وطن عزیز کے در و دیوار کا حصہ بنی۔ آمرانہ دور حکومت میں سترہویں ترمیم نے 1973 کے جمہوری آئین کا حلیہ بگاڑ دیا اور آئین کی رہی سہی جمہوری شکل کو جنگل کا قانون سمجھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت نے 3 نومبر 2007 کے منی مارشل لاء کے ذریعے عوامی امنگوں کا خون کر دیا جس کے خلاف سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے 2008 کے انتخابات میں جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا اور مشرف حکومت کو ایوانِ اقتدار سے نکال باہر کیا ۔حیرت ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے عوامی اُمنگوں کے مطابق مشرف حکومت کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو ملکی آئین سے نکال باہر کرنے کے بجائے اقتدار کی ہوس میں اِن آمرانہ اقدامات کو اپنی سیاسی حاکمیت کے دائرے کو بڑھانے کیلئے ہی استعمال کرنا شروع کردیا ۔مندرجہ بالا منظر نامے کے پیشِ نظر گذشتہ آٹھ سالہ آمرانہ دور میں جب مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کو ڈیل یا ڈھیل کے تحت ملک سے باہر کر دیا گیا تو اِن دونوں ہی جماعتوں کی مقبول لیڈر شپ کو ملک سے باہر رہتے ہوئے اسلامی اور مغربی دنیائے سیاست کے متحرک عوامل کو قریب سے دیکھنے ، پرکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا اور ان نئے سیاسی رجحانات کے باعث بہتر فکر و نظر کے تحت دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں اور زیادتیوں کو بھلا کر پاکستان کی نئے نسلوں اور سول سوسائیٹی کو ایک بہتر مستقبل دینے کیلئے ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کو برداشت کرنے اور انتقامی ذہنیت سے پاک ایک ایسے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا جو نہ صرف مستقبل کی سیاسی سازشوں کا قلع قمع کر دے بلکہ سیاسی گھٹن کے ماحول میں پاکستانی عوام کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا بھی ثابت ہو۔محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے لندن میں میثاقِ جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کر کیاایک نئی جمہوری فکر کی تاریخ مرتب کرتے ہوئے مثبت سیاسی مفاہمت کی بنیاد رکھی جبکہ جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکمرانی کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جرأت انکار اور وکلاء کی تحریک نے اِس نئی جمہوری فکر کو مہمیز دی جس کے باعث دونوں جِلاوطن سیاسی قوتوں کی ملک واپسی کا راستہ ہموار ہوا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی ہوئی ۔لیکن صد افسوس کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی بے وقت شہادت کے بعد جہاں پاکستان اپنے ایک بے مثال لیڈر سے محروم ہوا وہاں آصف علی زرداری کے قومی سیاسی افق پر نمودار ہونے کے فوراً بعد وعدوں اور معاہدوں کی ناپاسداری کے دل شکن اقدامات دیکھنے کو ملے۔اسی طرح پنجاب میں شریف برادران کی حساس سیاسی پوزیشن کے نظرانداز کئے جانے پر انکے شدید سیاسی ردعمل کے سبب یہ فکری ورثہ مزید توڑ پھوڑ کی سیاست کا شکار ہوا ۔ حقیقت یہی ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی اور صدر زرداری کی جانب سے اُنکی بحالی سے متعلق وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کے باعث ملک کی سیاسی صورتحال کشیدگی کا شکار ہوئی اور اب موجودہ سپریم کورٹ کے ایک متنازعہ فیصلے کے باعث شریف برادران کو سیاسی طور پر نااہل قرار دئیے جانے کے باعث ملک کی سیاسی اور معاشرتی صورتحال حد درجہ خرابی کا شکار ہوئی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اسمبلی کے بجائے عدلیہ کے متنازعہ فیصلے کے ذریعے برطرفی کے بعد فہم و دانش سے خالی صدارتی اقدام کے ذریعے پنجاب میں پارلیمنٹ کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر گورنر راج کا فیصلہ بھی گھوڑے کو تانگے کے پیچھے لگانے کے ہی مترادف سمجھا گیا ہے۔ اگر گورنر راج کا فیصلہ پنجاب میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ کو ہر تحصیل لیول پر روکنے کیلئے لگایا گیا ہے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اِس اقدام کے ممکنہ نتائج کے بارے میں ہوم ورک یا تو کیا ہی نہیں گیا ہے یا پھر ایسے خام تھنک ٹینکس کی رائے پر عمل کیا گیا ہے جو ایسے کسی بھی اقدام کے ممکنہ ردعمل کی شدت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ یہ درست ہے کہ گورنر راج کے بعد صوبے کی انتظامی مشینری میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے اور بیشتر انتظامی منصبوں پر مشرف / پرویز الہٰی دور کے افسروں کو ہی تعنیات کیا گیا ہے لیکن کیا اِس اَمر کوو نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ وکلاء تحریک ، سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے اپنی یکجہتی سے اقتدار کے تمام منصبوں پر فائز مشرف کی آمرانہ حکومت کو اقتدار سے نکال باہر کیا تھا ؟ اندریں حالات ، سیاسی شدت پسندی نہیں بلکہ تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمت کی حکمت عملی ہی وہ ایک راستہ ہے جسے اپنا کر موجودہ سیاسی بھنور سے باہر نکلا جا سکتا ہے ۔مندرجہ بالا تناظر میں خطے کی حساس صورتحال کے پیش نظر مرکزی سیاسی لیڈرشپ کو جس قدر سیاسی فہم و فراست ، تدبر اور ویژن کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی ، اُس کا عشرِ عشیر بھی مرکزی حکومت کے اقدامات میں نظر نہیں آتا ۔ حقیقت یہی ہے کہ سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے اور مرکزی حکومت کی جانب سے اِس مسئلے کی غیرمعمولی مس ہنڈلنگ کے باعث پنجاب جو پاکستان کی اکثریتی آبادی کا صوبہ ہے بُری طرح متاثر ہوا ہے ۔صدر زرداری کی جانب سے صوبائی اسمبلی کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر ، بِلا کسی جواز کے گورنر راج نافذ کرناملکی اور غیر ملکی سیاسی پنڈتوں کی سمجھ سے بالاتر ہے سوائے اِس کے کہ پنجاب میں گورنر راج کو مرکزی حکومت کی حمایت یافتہ حکومت بنانے کیلئے استعمال کیا جائے جو بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جو شہید بینظیر بھٹو کی مفاہمت کی سیاست کے آدرشوں کو نہ صرف بے معنی بنا دیگا بلکہ طاقتور قوتوں کو بھی طالع آزمائی کا موقع فراہم کرے گا۔بہرحال موجودہ بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال سے تعلیم یافتہ پاکستانی سول سوسائیٹی و دانشور ، بیرون ملک مقیم پاکستانی اور عوام الناس حیران پریشان ہیں کہ ہمارے حکمران جمہوری مزاج سے کنارہ کشی کرتے ہوئے پھر سے ظلمات کے اُسی دور کی جانب کیوں واپس لوٹ گئے ہیں جو ماضی میں ہمارے راستے کی روشنیوں کے سنگ میل کو بجھا کر تاریکیوں کو ہمارا مقدر بنا گیا تھا۔ حقیقتا عوام مایوس ہیں، پاکستانی دانشور مایوس ہیں، بیرون ملک پاکستانی مایوس ہیں اور حتیٰ کہ سول سوسائٹی بھی اِس نئے پاکستانی تشخص سے مایوس ہے کہ پاکستانی جمہوری کلچر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ نظامِ حکومت کو شکست دینے کے باوجود ہمارہ جمہوری نظام ابھی تک سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی غیر آئینی بیساکھیوں پر ہی کیوں کھڑا ہے۔ وہ حکومتی موشگافیوں سے مطمئن نہیں ہیں اور موجودہ آمرانہ صدارتی نظام کے حوالے سے آئینی اختیارات کی روشنیوں سے محروم پارلیمنٹ ، اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی جہاں اسپیکر سے پوچھے بغیر تالہ بندی کر دی گئی اور پھر وزیراعظم کے چیف ایگزیکٹیو ہونے کی جگ ہنسائی پر بقول شاعریہی کہا جا رہا ہے ........ تلاش کرنے میں دقت کبھی نہیں ہوتیوہ میرا گھر ہے ، جہاں روشنی نہیں ہوتیتحریر : رانا عبدالباقی (اسلام آباد)

لمحہ فکریہ

ہمیں دیکھنا ہوگا کہ لاہور جیسے علاقے میں اتنی سنگین واردات اتنی آسانی سے کیسے ہوگئی، دہشت گرد کیسے وہاں تک پہنچے اور پھر کس مہارت سے غائب ہوئے؟ یہ ہمارے حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں6پولیس اہل کاروں سمیت8 افراد جاں بحق جبکہ6کھلاڑی اور ایک امپائر زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد سری لنکن ٹیم کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ سائنسی ایجادات و اختراعات نے جہاں انسان کے لیے سکھ کا سامان پیدا کیا ہے وہاں اس کے لیے الم ناک موت کا بھی بند وبست کردیا ہے۔آج بارود کی بدبو ہمارے نتھنوں کو چیر کرسینہ پھاڑنے جارہی ہے۔آج ہماری سانسیں ہمارے تیار کردہ زہر سے چھلنی ہورہی ہیں۔آج ہمارا وجود ہمارے ہی تخلیق کردہ ایٹمی مادوں کی زد پر ہے۔پریشان کن بات یہ ہے کہ اس ساری تباہی اوربربادی کے باوجود اب بھی انسان اپنی حماقتوں سے باز نہیں آیا۔ اس ضمن میں پیش قدمی کی جارہی ہے۔ آئے روز اپنی زندگی کو دردناک انداز سے ختم کرنے کا سامان تخلیق کیاجارہا ہے۔ نہ جانے انسان کی ان حماقتوں کے سفر کی اخیر کب ہو گی اور کب انسان اس دنیا کوامن کا گہوارہ بنانے کے لیے فکرمند ہوگا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب کے لیے سوچنے والوں کی زندگیاں گزر گئی ہیں۔ دکھ اٹھانے والے خاک میں پیوند ہوچکے ہیں۔عراق، افغانستان اور پاکستان تو ایسے ممالک ہیں جہاں کوئی گھڑی چین سے گزر جائے تو لوگ شکر کا کلمہ ادا کرتے ہیں۔جاری برسوں میں جو بربریت اور خون ریزی ان ممالک میں ہوئی ہے اس کی مثال قریب قریب نہیں ملتی۔ ان دل دوز کارروائیوں میںجہاں مقامی آبادی شامل رہی ہے وہاں بیرونی عناصر کابھی حصہ ہے۔ابھی تک یہ آگ پوری شدت سے بھڑک رہی ہے اور اس کے شعلے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔اس کیفیت میں یہ بھی نہیں معلوم ہو پا رہا کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟ البتہ بے گناہ نشانہ بننے والے روزانہ زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے جس کی زد میں براہ راست کوئی غیرملکی ٹیم آئی ہے۔ تاہم اس سے قبل بھی ایک بار کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ مئی 2002 میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دور پاکستان اس وقت منسوخ کردیا گیا تھا جب دونوں ٹیموں کے کرکٹرز یا تو اپنے کمروں میں تھے یا ناشتے کے لئے ریسٹورنٹ میں پہنچے تھے اور انہیں لے جانے کے لئے بس تیار کھڑی تھی کہ ہوٹل سے باہر ہونے والے خودکش حملے میں گیارہ فرانسیسی انجینئرز ہلاک ہو گئے۔ پاکستان پڑوسی ملکوں کے ساتھ2011ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا تھاجس پر ممبئی دہشت گردی کے بعد ہی سوالیہ نشان لگ گیا تھا اب سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد سفید فام رکن ممالک کے زبردست دبا ومیں رہنے والی ''آئی سی سی'' کے لئے فیصلہ کرنا آسان ہوگیا۔سری لنکن ٹیم پر ہونے والا حملہ اس اعتبار سے غیرمعمولی نوعیت کا ہے کہ جب دوسری ٹیمیں پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں تھیں سری لنکا نے پاکستانی کرکٹ کے ساتھ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان آنے کی حامی بھری تھی ۔لاہور دہشت گردی کے نتیجے میں بڑی ٹیمیں تو درکنار اب چھوٹی ٹیمیں بھی خوف میں مبتلا ہونگی۔سری لنکا کی ٹیم کو ہوٹل سے اسٹیڈیم لیکر جانے والی بس ایل ای ایس 9090 پر بندوقوں، راکٹ لانچرز اور دستی بمبوں سے حملہ کیا گیا۔بس جونہی لبرٹی مارکیٹ چوک پہنچی تو بس کی رفتار کم ہوگئی لبرٹی چوک میں سفید رنگ کی ایک کار کھڑی تھی اس میں سے ایک شخص نے باہر آکر بس پرفائرنگ شروع کردی جبکہ ایک اور شخص نے بس کے فرنٹ پر آکر ہینڈ گرنیڈ بس کی جانب اچھالا مگر وہ باہر ہی گرگیا اس کے بعد بس پر ایک راکٹ فائر کیا گیا ۔ دہشت گرد بس پر فائرنگ کرتے ہوئے سٹیڈیم تک آئے۔ 12حملہ آوروں نے انتہائی تربیت یافتہ گوریلوں کی طرح پورے اعتماد کے ساتھ اپنے مشن کو پورا کیا۔اس واقع کے پیچھے کون سی قوت ہوسکتی ہے ؟ یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں۔ یہ کیس کوئی بہت ہی مشکل کیس نہیں ہے ۔اس حملہ کا طریقہ کار ممبئی حملوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والی فوٹیج ،دہشت گردوں کا طریقہ واردات،موقع سے ملنے والا اسلحہ و دیگر سامان چیخ چیخ کر بتا رہاہے کہ اس ڈرامہ کا پلانر، پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر کون ہے۔ان تربیت یافتہ گوریلوں کے حملے، اسلحے کے استعمال اور فائرنگ کے انداز سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ عام نوعیت کے دہشت گرد نہیں بلکہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے تربیت یافتہ گوریلے ہیں۔ جوپیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد ایک کار چھین کر فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں اب اتنی بھی جرات نہیں رہی کہ وہ تمام شواہد کی موجودگی میں بھی دشمن ملک کو اس کاراوئی کا ذمہ دار ٹھرا سکیں۔اپنے اقتدار کی طوالت کیلئے غیروں کے سامنے جھکے ہوئے ان حکمرانوں کی اپنے دشمن ملک کا نام لیتے ہوئے ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ یہ شرمناک رویہ اب ترک ہونا چاہئے بھارتی دہشت گردوں کو بے نقاب کرنے کیساتھ ساتھ گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کو عبرتناک سزا بھی دی جانی چاہئے۔ ورنہ پاکستان کی دھرتی پر ''را'' کے دہشت گرد زخم لگا کر بچ جانے میں کامیاب ہو تے رہیں گے۔ دشمن کا کام وارکرنا ہے اور ظاہر ہے اس کے لیے وہ بہترین موقعے کی تلاش میں رہتا ہے۔دشمن اپنی کارروائی میں کامیاب ہوچکا ہے۔ ہم ایک بار پھرحالتِ دفاع میں ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ لاہور جیسے علاقے میں اتنی سنگین واردات اتنی آسانی سے کیسے ہوگئی، دہشت گرد کیسے وہاں تک پہنچے اور پھر کس مہارت سے غائب ہوئے؟ یہ ہمارے حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ تحریر: سید احمد علی رضا