نواز شریف کا انکشاف پرویز مشرف کی روح زرداری کے اندر گھس آئی ہے ہم کو اقتدار نہیں اقدار چاہئے،نواز و شہباز اشرف الاشراف شریف برادران کی نااہلی اور نااہلی کے فوبیا میں مبتلا پی ایم ایل (ن)۔
نواز شریف نے کہا ہے کہ ''ہم کواقتدار نہیں اقدار چاہئے'' میرے خیا ل سے تو یہ خواہش ہر پاکستانی کی ہے اور ہر حکمران بھی الیکشن سے قبل یہی کہتا ہے کہ اقدار چاہئے اور اقدار کے چکرمیں اس کو اقتدارمل جاتاہے اور نواز و شہباز جو اشرف الاشراف ہیں انہوں نے یہ اگر کہا ہے تو کوئی ایسی انوکھی بھی نہیں کہی ہے جس کا اتنا واویلا کیا جائے ایسا لگتا ہے کہ شریف برادران کی نااہلی کے بعد ان برادرز سیمت پی ایم ایل (ن) والوں کوبھی نااہلی کا فوبیا ہوگیا ہے۔جس کے نتائج نہ صرف ان کے لئے بلکہ ملک کے لئے بھی شدید نقصان کا باعث ہوسکتے ہیں بہرحال! نواز و شہباز شریف نے سپریم کورٹ سے اپنی نااہلی ثابت ہونے کے بعد اب خود سے ملک میں جلد ازجلد مڈٹرم الیکشن کرانے کے لئے اپنی نااہلی کو بنیاد بناکر انتخابی مہم شروع کردی ہے۔اس سلسلے میں یہ دونوں بھائی اور ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) باقاعدہ پلاننگ کے تحت انتہائی گرم جوشی سے اپنی اس انتخابی مہم کوجاری کررکھے ہوئے ہیں اوراپنی نااہلی کو اہلیت میں تبدیل کرانے کے سلسلے میں ہونے والے عوامی اجتماعات، جلسوں اور جلوسوں میں شریف برادران اور ان کی پارٹی کے سرگرداں لیڈر عوام کوکھلم کھلا سول نافرمانی کرنے پر اکسانے اور ملک کا امن وامان تباہ اور برباد کرنے کی ترغیب بھی دیتے نظر آرہے ہیں۔جو کہ کسی بھی لحاظ سے ملک اور قوم اور جمہوریت کے لئے نہ تو قابل قبول ہے اور نہ ہی قابل برداشت ہی اس حوالے سے گزشتہ دنوں ناروال میں ایک بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے عوام کوخصوصی طور پر مخاطب کرکے کہا کہ اب جومیں انکشاف کرنے جارہاہوں اسے غور سے سنووہ یہ کہ''پرویز مشرف کی روح زرداری کے اندر گھس گئی ہے اور پرویز مشرف کے ججوں کو زرداری نے گلے لگالیا ہے۔میں نااہل اور مشرف اہل قرارپایاہے انہوں نے کہا کہ تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے 15مارچ اور16مارچ تک جو ملک میں لانگ مارچ ہوگا یہ لانگ مارچ پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لئے ہوگا عوام ہمارا ساتھ دے اور گھروں سے باہر نکلے تو ہم ایسی تبدیلی لائیں گے کہ جہاں خوشیاں ہوں گیں اور آج پاکستان کی خوشحالی تبدیلی سے مشروط ہے یہاں سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب تک شریف برادران نااہل قرار نہیں دیئے گئے اور یہ حکومت میں شامل رہے تو اس وقت تک تو ان کی زبان پر یہ الفاظ نہیں آئے اور جسے ہی سپریم کورٹ کا ان کے خلاف فیصلہ آگیا تو انہوں نے اور ان کی جماعت نے حکومت اور صدر زرداری کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی ۔جو کہ لمحہ فکریہ ہے ہر اس محب وطن پاکستانی کے لئے جو پاکستان اور جمہوریت سے محبت رکھتا ہے اس منظر اور پس منظر میں ملک کا ایک سنجیدہ طبقہ آج پھراس بات پر نہ صرف حیران اور اضطرابی کیفیت سے دوچار ہے بلکہ یہ طبقہ انتہائی افسوس کے ساتھ ایک بار پھر یہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہے کہ 18فروری کے عام انتخابات سے قبل اور اس کے فوری بعد ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور عفوودرگزر کی ایک خوشگوار فضاجوکچھ عرصہ ہی برقرار رہ سکی وہ اب ناپیدکیوں ہوکر رہ گئی ہے۔حالانکہ اس وقت تو ان انتخابات کے نتیجے میں کامیاب ہونے والی ملک کی تمام جماعتوں میں جو اتحاد اور یکجہتی کا عنصر غالب رہا اس سے یہ اندازہ تو ضرور ہوگیا تھا کہ آئندہ چند ہ دنوں میں ملک میں جو مثبت اور تعمیری ،اخلاقی اور سیاسی تبدیلیاںرونما ہونگیں وہ یقینا عوامی خواہشات اور امنگوں کی آئنہ دار بھی ہوگی مگر اس طبقے اور عوام کے یہ سارے حسین خواب جوانہوں نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے۔وہ سب کے سب کچھ عرصہ گزرنے کے ساتھ ہی چکنا چور ہوگئے کہ جب فرینڈلی اپوزیشن اورحکمران جماعتکے درمیان پیداہونے والے اندرونی اختلافات آہستہ آہستہ کھل کر باہر آنے شروع ہوئے گئیتوکسی کوبھی اس وقت یہ یقین نہیں ہوا تھاکہ کبھی ان اختلافات کی بنیاد پر اتنا ؟کچھ بھی ہوسکتا ہے کہ جتنا آج ہورہا ہے۔یعنی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان ان دنوں جیسا گھمسان کارن جاری ہے اور آج دونوں جانب سے محاذآرائی کی انتہاہوگئی ہے کہ پی ایم ایل (ن)لیگ کے سربراہ اور دومرتبہ ملک کے منتخب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اوردو بار وزیراعلیٰ پنجاب رہنے والے ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اپنے ایک انتہائی مختصر فیصلے میں ان دونوں بھائیوں کو نااہل قرار دے دیا ہے۔تو اس کے بعد ملک کے ایک صوبے بالخصوص پنجاب میں ان دونوں بھائیوں اور ان کی پارٹی کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلانیہ جاری کردیا گیا اورجس کے ساتھ ہی ملک کے طول و عرض میں گھیراؤ جلاؤاور مارا ماری کا جو ماحول بن گیا ہے ا وران ہنگاموں کے دوران نہ صرف سرکاری اور نجی املاک کوہی نذرآتش کیاجارہاہے۔بلکہ ایک مصدقہ اطلاعات کے مطابق افسوس کا مقام تو یہ بھی ہے کہ ان ہنگامہ آرائیوں کے دوران کچھ شرپسند عناصر نے دانستہ طور پر وفاق کی زنجیرمحترمہ بینظیر بھٹو شہید جنہوںنے ملک کی ساڑھے سولہ کروڑ عوام کی بقا و سالمیت اور ترقی و خوشحالی ا ور جمہوریت کے خاطر اس وقت کے ایک آمر جنرل پرویز مشرف سے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنے اصولوں پر قائم رہ کر اپنی جان دی۔ان کی یادگار کی بھی بے حرمتی کی اور اس واقع کی پرزور مذمت کرتے ہوئے پاکستان متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں ایک فقیدالمثال ریلی بھی نکالی جس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے شریف برادران کو پیشکش کی کہ اگر محاذآرائی ختم کردیں تو ایم کیوایم کے قانونی ماہرین سپریم کورٹ میں ان کی نااہلی کا مقدمہ بلامعاوضہ لڑنے کے لئے تیار ہے یہ ایک محب وطن پاکستانی کی مثبت اور معیاری سوچ ہے۔جو ہر حال میں یہ چاہتا ہے کہ کسی بھی طرح حکومت اور پی ایم ایل نون کے درمیان جاری رن اور محاذ آرائی کی قائم اس فضا میں کمی آئے اور یہ غیر یقینی کی صورتحال افہام و تفہم کی راہ اختیار کرتے ہوئے ایک تعمیری سمت کی جانب رواں دواں ہوکر اختتام پزیر ہو تو دوسری طرف شریف برادران اور ان کی پارٹی کے لوگ اس بات پر گامزن ہیں کہ ملک میں بدامنی ہو اور یہ حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکے اس کے لئے یہ ہر وہ حربہ استعمال کررہے ہیں۔جوجارحانہ ہے اس لئے تو کہا جا تا ہے کہ چھلانگ لگانے سے پہلے بھی دیکھ لو اور آگے بڑھنے سے پہلے بھی اچھی طرح سوچ سمجھ لو پتہ نہیں نواز شریف نے جب سے قوم کو اپنی نااہلی کے بعد جو سول نافرمانی کے لئے اکسانا شروع کیا ہے اس سے متعلق بھی سوچا ہے کہ نہیں اس طرح تووہ نہ صرف خود بلکہ عوام کوجس تباہی اور نارگی کے اندھیرے کنوئیں میں چھلانگ لگانے کے لئے لے جارہے ہیں انہوں نے اس کے آئندہ اخذہونے والے بھیانک نتا ئج کے بارے میں بھی سوچا ہے۔کیوں کہ وہ ججز کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی رٹ لگا کر کئی باراسی سنگین غلطیاںپہلے بھی کر چکے ہیں کہ ان کی اب اپنی نااہلی کے بعد سول نافرمانی کے لئے قوم کو اکسانے جیسی سنگین غلطی کی بھی اب کوئی کنجائش نہیں ہے کیوں کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بے وقوف آدمی غلطیوں پر غلطیاں کئے جاتا ہے اور کوئی رخ تبدیل نہیں کرتاجبکہ اسے ہر بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے جبکہ پال ہنری سپارک نے کہا ہے کے ''جب کبھی مجھ پر کوئی دشوار وقت آتا ہے۔تو میں خود کو تسلی دے لیتا ہوں کہ یہ وقت گرز جائے گا اور اس جذبے کے تحت وہ وقت گزرجاتا ہے'' ایسا لگتا ہے کہ پال ہنری سپارک نے اپنا یہ مشہور زمانہ قول اس ہی وقت کے لئے کئی سال قبل کہہ دیا تھا کہ جس دشوار گزار اور انتہائی کٹھن وقت سے پوری پاکستانی قوم گزر رہی ہے اور ہمارا ملک آج گزشتہ کئی سالوں سے داخلی اور خارجی لحاظ سے جن سنگین مسائل سے دورچار ہے۔وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت ان کی ہم خیا ل جماعتوں اور (معذرت کے ساتھ جذبات کے سمند ر میں غوطہ زن معصوم )عو ام سے بھی یہ ضرور تقاضہ کرتے ہیں کہ یہ بھی خود کو تسلی دیں کہ محاذ آرائی سے گریز کیا جائے کیوں کہ یہ دشوار وقت بھی گزر جائے گا مجھے قوی امید ہے کہ اوراگران نازک ایام میں جن سے ہماراملک آج گزر رہا ہے ان(ایام) میں ہمارے سیاستدانوں اور عوام نے تحمل مزاجی عفوودرگزر اور برداشت کی سوچ اور جذبے کا سہارا لیا تو قوم یہ بھی یقین کر لے کہ یہ دشوار وقت بھی بغیر خون خرابے کے افہام و تفہیم کی راہ اختیار کرنے سے خاموشی سے گزر ہی جائے گااور ایک نئی تاریخ بھی رقم کر جائے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نواز شریف اپنی نااہلی کے بعد اپنی جذباتی تقریروں سے قوم کو ورغلا کرسول نافرمانی کی جانب مت دھکیلیںکیوں کہ عوام جذبات کے غلام ہوتے ہیں اورعوام کی بڑی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے کہ جو صبح سے شام اور پھر رات سے صبح تک اپنی روٹی اور دال کے حصول میںکسی کولہوکے بیل کی طرح جت رہتے ہیںاوروہ ملکی معاملے میں ٹھنڈے دل و دماغ سے کسی بات پر غور نہیں کرتے بلکہ ان کی مصروفیات اور ان کی معاشی پریشانی انہیں اس بات کا موقع ہی نہیں دیتیںکہ وہ کچھ سوچ سمجھ سکیں۔اس وقت مجھے تھوریو جو ایک دانشور گزرا ہے اس کا ایک قول یاد آرہاہے وہ کہتا ہے کہ'' دانشن مند لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ مایوسی پھیلانے والے کام نہیں کرتے'' جبکہ شریف برادران بھی کسی دانشور سے کم نہیں مگر معلوم نہیں وہ عوام میں پھر کیوں؟ مایوسی پھیلا رہے ہیںجبکہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے بھی کبھی کہا تھا کہ'' ہمیں بھائیوں کی طرح اکٹھے رہنے کے طور طریقے سیکھنے چاہئیں یا پھر احمقوں کی طرح اجتماعی بربادی کے لئے تیار ہنا چاہئے اور ایک پر امن ماحول کی تشکیل کے لئے ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والی باتوں سے بھی اجتناب برتنا چاہئے۔تو اب یہ فیصلہ شریف برادران حکومت کوکرنا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح اکٹھے رہنے کے طور طریقے اپناتے ہیں یا ان حالات میں کہ جب ملک اپنے دور کے انتہائی نازک وقت سے گزر رہا ہے احمقوں کی طرح اجتماعی بربادی کے لئے تیار رہیں اس صورت میں خاتمہ دونوں کاہے اور بھلائی کسی کی بھی نہیں ہے۔
نواز شریف نے کہا ہے کہ ''ہم کواقتدار نہیں اقدار چاہئے'' میرے خیا ل سے تو یہ خواہش ہر پاکستانی کی ہے اور ہر حکمران بھی الیکشن سے قبل یہی کہتا ہے کہ اقدار چاہئے اور اقدار کے چکرمیں اس کو اقتدارمل جاتاہے اور نواز و شہباز جو اشرف الاشراف ہیں انہوں نے یہ اگر کہا ہے تو کوئی ایسی انوکھی بھی نہیں کہی ہے جس کا اتنا واویلا کیا جائے ایسا لگتا ہے کہ شریف برادران کی نااہلی کے بعد ان برادرز سیمت پی ایم ایل (ن) والوں کوبھی نااہلی کا فوبیا ہوگیا ہے۔جس کے نتائج نہ صرف ان کے لئے بلکہ ملک کے لئے بھی شدید نقصان کا باعث ہوسکتے ہیں بہرحال! نواز و شہباز شریف نے سپریم کورٹ سے اپنی نااہلی ثابت ہونے کے بعد اب خود سے ملک میں جلد ازجلد مڈٹرم الیکشن کرانے کے لئے اپنی نااہلی کو بنیاد بناکر انتخابی مہم شروع کردی ہے۔اس سلسلے میں یہ دونوں بھائی اور ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) باقاعدہ پلاننگ کے تحت انتہائی گرم جوشی سے اپنی اس انتخابی مہم کوجاری کررکھے ہوئے ہیں اوراپنی نااہلی کو اہلیت میں تبدیل کرانے کے سلسلے میں ہونے والے عوامی اجتماعات، جلسوں اور جلوسوں میں شریف برادران اور ان کی پارٹی کے سرگرداں لیڈر عوام کوکھلم کھلا سول نافرمانی کرنے پر اکسانے اور ملک کا امن وامان تباہ اور برباد کرنے کی ترغیب بھی دیتے نظر آرہے ہیں۔جو کہ کسی بھی لحاظ سے ملک اور قوم اور جمہوریت کے لئے نہ تو قابل قبول ہے اور نہ ہی قابل برداشت ہی اس حوالے سے گزشتہ دنوں ناروال میں ایک بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے عوام کوخصوصی طور پر مخاطب کرکے کہا کہ اب جومیں انکشاف کرنے جارہاہوں اسے غور سے سنووہ یہ کہ''پرویز مشرف کی روح زرداری کے اندر گھس گئی ہے اور پرویز مشرف کے ججوں کو زرداری نے گلے لگالیا ہے۔میں نااہل اور مشرف اہل قرارپایاہے انہوں نے کہا کہ تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے 15مارچ اور16مارچ تک جو ملک میں لانگ مارچ ہوگا یہ لانگ مارچ پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لئے ہوگا عوام ہمارا ساتھ دے اور گھروں سے باہر نکلے تو ہم ایسی تبدیلی لائیں گے کہ جہاں خوشیاں ہوں گیں اور آج پاکستان کی خوشحالی تبدیلی سے مشروط ہے یہاں سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب تک شریف برادران نااہل قرار نہیں دیئے گئے اور یہ حکومت میں شامل رہے تو اس وقت تک تو ان کی زبان پر یہ الفاظ نہیں آئے اور جسے ہی سپریم کورٹ کا ان کے خلاف فیصلہ آگیا تو انہوں نے اور ان کی جماعت نے حکومت اور صدر زرداری کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی ۔جو کہ لمحہ فکریہ ہے ہر اس محب وطن پاکستانی کے لئے جو پاکستان اور جمہوریت سے محبت رکھتا ہے اس منظر اور پس منظر میں ملک کا ایک سنجیدہ طبقہ آج پھراس بات پر نہ صرف حیران اور اضطرابی کیفیت سے دوچار ہے بلکہ یہ طبقہ انتہائی افسوس کے ساتھ ایک بار پھر یہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہے کہ 18فروری کے عام انتخابات سے قبل اور اس کے فوری بعد ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور عفوودرگزر کی ایک خوشگوار فضاجوکچھ عرصہ ہی برقرار رہ سکی وہ اب ناپیدکیوں ہوکر رہ گئی ہے۔حالانکہ اس وقت تو ان انتخابات کے نتیجے میں کامیاب ہونے والی ملک کی تمام جماعتوں میں جو اتحاد اور یکجہتی کا عنصر غالب رہا اس سے یہ اندازہ تو ضرور ہوگیا تھا کہ آئندہ چند ہ دنوں میں ملک میں جو مثبت اور تعمیری ،اخلاقی اور سیاسی تبدیلیاںرونما ہونگیں وہ یقینا عوامی خواہشات اور امنگوں کی آئنہ دار بھی ہوگی مگر اس طبقے اور عوام کے یہ سارے حسین خواب جوانہوں نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے۔وہ سب کے سب کچھ عرصہ گزرنے کے ساتھ ہی چکنا چور ہوگئے کہ جب فرینڈلی اپوزیشن اورحکمران جماعتکے درمیان پیداہونے والے اندرونی اختلافات آہستہ آہستہ کھل کر باہر آنے شروع ہوئے گئیتوکسی کوبھی اس وقت یہ یقین نہیں ہوا تھاکہ کبھی ان اختلافات کی بنیاد پر اتنا ؟کچھ بھی ہوسکتا ہے کہ جتنا آج ہورہا ہے۔یعنی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان ان دنوں جیسا گھمسان کارن جاری ہے اور آج دونوں جانب سے محاذآرائی کی انتہاہوگئی ہے کہ پی ایم ایل (ن)لیگ کے سربراہ اور دومرتبہ ملک کے منتخب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اوردو بار وزیراعلیٰ پنجاب رہنے والے ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اپنے ایک انتہائی مختصر فیصلے میں ان دونوں بھائیوں کو نااہل قرار دے دیا ہے۔تو اس کے بعد ملک کے ایک صوبے بالخصوص پنجاب میں ان دونوں بھائیوں اور ان کی پارٹی کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلانیہ جاری کردیا گیا اورجس کے ساتھ ہی ملک کے طول و عرض میں گھیراؤ جلاؤاور مارا ماری کا جو ماحول بن گیا ہے ا وران ہنگاموں کے دوران نہ صرف سرکاری اور نجی املاک کوہی نذرآتش کیاجارہاہے۔بلکہ ایک مصدقہ اطلاعات کے مطابق افسوس کا مقام تو یہ بھی ہے کہ ان ہنگامہ آرائیوں کے دوران کچھ شرپسند عناصر نے دانستہ طور پر وفاق کی زنجیرمحترمہ بینظیر بھٹو شہید جنہوںنے ملک کی ساڑھے سولہ کروڑ عوام کی بقا و سالمیت اور ترقی و خوشحالی ا ور جمہوریت کے خاطر اس وقت کے ایک آمر جنرل پرویز مشرف سے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنے اصولوں پر قائم رہ کر اپنی جان دی۔ان کی یادگار کی بھی بے حرمتی کی اور اس واقع کی پرزور مذمت کرتے ہوئے پاکستان متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں ایک فقیدالمثال ریلی بھی نکالی جس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے شریف برادران کو پیشکش کی کہ اگر محاذآرائی ختم کردیں تو ایم کیوایم کے قانونی ماہرین سپریم کورٹ میں ان کی نااہلی کا مقدمہ بلامعاوضہ لڑنے کے لئے تیار ہے یہ ایک محب وطن پاکستانی کی مثبت اور معیاری سوچ ہے۔جو ہر حال میں یہ چاہتا ہے کہ کسی بھی طرح حکومت اور پی ایم ایل نون کے درمیان جاری رن اور محاذ آرائی کی قائم اس فضا میں کمی آئے اور یہ غیر یقینی کی صورتحال افہام و تفہم کی راہ اختیار کرتے ہوئے ایک تعمیری سمت کی جانب رواں دواں ہوکر اختتام پزیر ہو تو دوسری طرف شریف برادران اور ان کی پارٹی کے لوگ اس بات پر گامزن ہیں کہ ملک میں بدامنی ہو اور یہ حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکے اس کے لئے یہ ہر وہ حربہ استعمال کررہے ہیں۔جوجارحانہ ہے اس لئے تو کہا جا تا ہے کہ چھلانگ لگانے سے پہلے بھی دیکھ لو اور آگے بڑھنے سے پہلے بھی اچھی طرح سوچ سمجھ لو پتہ نہیں نواز شریف نے جب سے قوم کو اپنی نااہلی کے بعد جو سول نافرمانی کے لئے اکسانا شروع کیا ہے اس سے متعلق بھی سوچا ہے کہ نہیں اس طرح تووہ نہ صرف خود بلکہ عوام کوجس تباہی اور نارگی کے اندھیرے کنوئیں میں چھلانگ لگانے کے لئے لے جارہے ہیں انہوں نے اس کے آئندہ اخذہونے والے بھیانک نتا ئج کے بارے میں بھی سوچا ہے۔کیوں کہ وہ ججز کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی رٹ لگا کر کئی باراسی سنگین غلطیاںپہلے بھی کر چکے ہیں کہ ان کی اب اپنی نااہلی کے بعد سول نافرمانی کے لئے قوم کو اکسانے جیسی سنگین غلطی کی بھی اب کوئی کنجائش نہیں ہے کیوں کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بے وقوف آدمی غلطیوں پر غلطیاں کئے جاتا ہے اور کوئی رخ تبدیل نہیں کرتاجبکہ اسے ہر بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے جبکہ پال ہنری سپارک نے کہا ہے کے ''جب کبھی مجھ پر کوئی دشوار وقت آتا ہے۔تو میں خود کو تسلی دے لیتا ہوں کہ یہ وقت گرز جائے گا اور اس جذبے کے تحت وہ وقت گزرجاتا ہے'' ایسا لگتا ہے کہ پال ہنری سپارک نے اپنا یہ مشہور زمانہ قول اس ہی وقت کے لئے کئی سال قبل کہہ دیا تھا کہ جس دشوار گزار اور انتہائی کٹھن وقت سے پوری پاکستانی قوم گزر رہی ہے اور ہمارا ملک آج گزشتہ کئی سالوں سے داخلی اور خارجی لحاظ سے جن سنگین مسائل سے دورچار ہے۔وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت ان کی ہم خیا ل جماعتوں اور (معذرت کے ساتھ جذبات کے سمند ر میں غوطہ زن معصوم )عو ام سے بھی یہ ضرور تقاضہ کرتے ہیں کہ یہ بھی خود کو تسلی دیں کہ محاذ آرائی سے گریز کیا جائے کیوں کہ یہ دشوار وقت بھی گزر جائے گا مجھے قوی امید ہے کہ اوراگران نازک ایام میں جن سے ہماراملک آج گزر رہا ہے ان(ایام) میں ہمارے سیاستدانوں اور عوام نے تحمل مزاجی عفوودرگزر اور برداشت کی سوچ اور جذبے کا سہارا لیا تو قوم یہ بھی یقین کر لے کہ یہ دشوار وقت بھی بغیر خون خرابے کے افہام و تفہیم کی راہ اختیار کرنے سے خاموشی سے گزر ہی جائے گااور ایک نئی تاریخ بھی رقم کر جائے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نواز شریف اپنی نااہلی کے بعد اپنی جذباتی تقریروں سے قوم کو ورغلا کرسول نافرمانی کی جانب مت دھکیلیںکیوں کہ عوام جذبات کے غلام ہوتے ہیں اورعوام کی بڑی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے کہ جو صبح سے شام اور پھر رات سے صبح تک اپنی روٹی اور دال کے حصول میںکسی کولہوکے بیل کی طرح جت رہتے ہیںاوروہ ملکی معاملے میں ٹھنڈے دل و دماغ سے کسی بات پر غور نہیں کرتے بلکہ ان کی مصروفیات اور ان کی معاشی پریشانی انہیں اس بات کا موقع ہی نہیں دیتیںکہ وہ کچھ سوچ سمجھ سکیں۔اس وقت مجھے تھوریو جو ایک دانشور گزرا ہے اس کا ایک قول یاد آرہاہے وہ کہتا ہے کہ'' دانشن مند لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ مایوسی پھیلانے والے کام نہیں کرتے'' جبکہ شریف برادران بھی کسی دانشور سے کم نہیں مگر معلوم نہیں وہ عوام میں پھر کیوں؟ مایوسی پھیلا رہے ہیںجبکہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے بھی کبھی کہا تھا کہ'' ہمیں بھائیوں کی طرح اکٹھے رہنے کے طور طریقے سیکھنے چاہئیں یا پھر احمقوں کی طرح اجتماعی بربادی کے لئے تیار ہنا چاہئے اور ایک پر امن ماحول کی تشکیل کے لئے ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والی باتوں سے بھی اجتناب برتنا چاہئے۔تو اب یہ فیصلہ شریف برادران حکومت کوکرنا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح اکٹھے رہنے کے طور طریقے اپناتے ہیں یا ان حالات میں کہ جب ملک اپنے دور کے انتہائی نازک وقت سے گزر رہا ہے احمقوں کی طرح اجتماعی بربادی کے لئے تیار رہیں اس صورت میں خاتمہ دونوں کاہے اور بھلائی کسی کی بھی نہیں ہے۔
No comments:
Post a Comment