ہمیں دیکھنا ہوگا کہ لاہور جیسے علاقے میں اتنی سنگین واردات اتنی آسانی سے کیسے ہوگئی، دہشت گرد کیسے وہاں تک پہنچے اور پھر کس مہارت سے غائب ہوئے؟ یہ ہمارے حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں6پولیس اہل کاروں سمیت8 افراد جاں بحق جبکہ6کھلاڑی اور ایک امپائر زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد سری لنکن ٹیم کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ سائنسی ایجادات و اختراعات نے جہاں انسان کے لیے سکھ کا سامان پیدا کیا ہے وہاں اس کے لیے الم ناک موت کا بھی بند وبست کردیا ہے۔آج بارود کی بدبو ہمارے نتھنوں کو چیر کرسینہ پھاڑنے جارہی ہے۔آج ہماری سانسیں ہمارے تیار کردہ زہر سے چھلنی ہورہی ہیں۔آج ہمارا وجود ہمارے ہی تخلیق کردہ ایٹمی مادوں کی زد پر ہے۔پریشان کن بات یہ ہے کہ اس ساری تباہی اوربربادی کے باوجود اب بھی انسان اپنی حماقتوں سے باز نہیں آیا۔ اس ضمن میں پیش قدمی کی جارہی ہے۔ آئے روز اپنی زندگی کو دردناک انداز سے ختم کرنے کا سامان تخلیق کیاجارہا ہے۔ نہ جانے انسان کی ان حماقتوں کے سفر کی اخیر کب ہو گی اور کب انسان اس دنیا کوامن کا گہوارہ بنانے کے لیے فکرمند ہوگا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب کے لیے سوچنے والوں کی زندگیاں گزر گئی ہیں۔ دکھ اٹھانے والے خاک میں پیوند ہوچکے ہیں۔عراق، افغانستان اور پاکستان تو ایسے ممالک ہیں جہاں کوئی گھڑی چین سے گزر جائے تو لوگ شکر کا کلمہ ادا کرتے ہیں۔جاری برسوں میں جو بربریت اور خون ریزی ان ممالک میں ہوئی ہے اس کی مثال قریب قریب نہیں ملتی۔ ان دل دوز کارروائیوں میںجہاں مقامی آبادی شامل رہی ہے وہاں بیرونی عناصر کابھی حصہ ہے۔ابھی تک یہ آگ پوری شدت سے بھڑک رہی ہے اور اس کے شعلے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔اس کیفیت میں یہ بھی نہیں معلوم ہو پا رہا کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟ البتہ بے گناہ نشانہ بننے والے روزانہ زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے جس کی زد میں براہ راست کوئی غیرملکی ٹیم آئی ہے۔ تاہم اس سے قبل بھی ایک بار کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ مئی 2002 میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دور پاکستان اس وقت منسوخ کردیا گیا تھا جب دونوں ٹیموں کے کرکٹرز یا تو اپنے کمروں میں تھے یا ناشتے کے لئے ریسٹورنٹ میں پہنچے تھے اور انہیں لے جانے کے لئے بس تیار کھڑی تھی کہ ہوٹل سے باہر ہونے والے خودکش حملے میں گیارہ فرانسیسی انجینئرز ہلاک ہو گئے۔ پاکستان پڑوسی ملکوں کے ساتھ2011ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا تھاجس پر ممبئی دہشت گردی کے بعد ہی سوالیہ نشان لگ گیا تھا اب سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد سفید فام رکن ممالک کے زبردست دبا ومیں رہنے والی ''آئی سی سی'' کے لئے فیصلہ کرنا آسان ہوگیا۔سری لنکن ٹیم پر ہونے والا حملہ اس اعتبار سے غیرمعمولی نوعیت کا ہے کہ جب دوسری ٹیمیں پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں تھیں سری لنکا نے پاکستانی کرکٹ کے ساتھ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان آنے کی حامی بھری تھی ۔لاہور دہشت گردی کے نتیجے میں بڑی ٹیمیں تو درکنار اب چھوٹی ٹیمیں بھی خوف میں مبتلا ہونگی۔سری لنکا کی ٹیم کو ہوٹل سے اسٹیڈیم لیکر جانے والی بس ایل ای ایس 9090 پر بندوقوں، راکٹ لانچرز اور دستی بمبوں سے حملہ کیا گیا۔بس جونہی لبرٹی مارکیٹ چوک پہنچی تو بس کی رفتار کم ہوگئی لبرٹی چوک میں سفید رنگ کی ایک کار کھڑی تھی اس میں سے ایک شخص نے باہر آکر بس پرفائرنگ شروع کردی جبکہ ایک اور شخص نے بس کے فرنٹ پر آکر ہینڈ گرنیڈ بس کی جانب اچھالا مگر وہ باہر ہی گرگیا اس کے بعد بس پر ایک راکٹ فائر کیا گیا ۔ دہشت گرد بس پر فائرنگ کرتے ہوئے سٹیڈیم تک آئے۔ 12حملہ آوروں نے انتہائی تربیت یافتہ گوریلوں کی طرح پورے اعتماد کے ساتھ اپنے مشن کو پورا کیا۔اس واقع کے پیچھے کون سی قوت ہوسکتی ہے ؟ یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں۔ یہ کیس کوئی بہت ہی مشکل کیس نہیں ہے ۔اس حملہ کا طریقہ کار ممبئی حملوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والی فوٹیج ،دہشت گردوں کا طریقہ واردات،موقع سے ملنے والا اسلحہ و دیگر سامان چیخ چیخ کر بتا رہاہے کہ اس ڈرامہ کا پلانر، پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر کون ہے۔ان تربیت یافتہ گوریلوں کے حملے، اسلحے کے استعمال اور فائرنگ کے انداز سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ عام نوعیت کے دہشت گرد نہیں بلکہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے تربیت یافتہ گوریلے ہیں۔ جوپیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد ایک کار چھین کر فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں اب اتنی بھی جرات نہیں رہی کہ وہ تمام شواہد کی موجودگی میں بھی دشمن ملک کو اس کاراوئی کا ذمہ دار ٹھرا سکیں۔اپنے اقتدار کی طوالت کیلئے غیروں کے سامنے جھکے ہوئے ان حکمرانوں کی اپنے دشمن ملک کا نام لیتے ہوئے ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ یہ شرمناک رویہ اب ترک ہونا چاہئے بھارتی دہشت گردوں کو بے نقاب کرنے کیساتھ ساتھ گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کو عبرتناک سزا بھی دی جانی چاہئے۔ ورنہ پاکستان کی دھرتی پر ''را'' کے دہشت گرد زخم لگا کر بچ جانے میں کامیاب ہو تے رہیں گے۔ دشمن کا کام وارکرنا ہے اور ظاہر ہے اس کے لیے وہ بہترین موقعے کی تلاش میں رہتا ہے۔دشمن اپنی کارروائی میں کامیاب ہوچکا ہے۔ ہم ایک بار پھرحالتِ دفاع میں ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ لاہور جیسے علاقے میں اتنی سنگین واردات اتنی آسانی سے کیسے ہوگئی، دہشت گرد کیسے وہاں تک پہنچے اور پھر کس مہارت سے غائب ہوئے؟ یہ ہمارے حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ تحریر: سید احمد علی رضا
لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں6پولیس اہل کاروں سمیت8 افراد جاں بحق جبکہ6کھلاڑی اور ایک امپائر زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد سری لنکن ٹیم کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ سائنسی ایجادات و اختراعات نے جہاں انسان کے لیے سکھ کا سامان پیدا کیا ہے وہاں اس کے لیے الم ناک موت کا بھی بند وبست کردیا ہے۔آج بارود کی بدبو ہمارے نتھنوں کو چیر کرسینہ پھاڑنے جارہی ہے۔آج ہماری سانسیں ہمارے تیار کردہ زہر سے چھلنی ہورہی ہیں۔آج ہمارا وجود ہمارے ہی تخلیق کردہ ایٹمی مادوں کی زد پر ہے۔پریشان کن بات یہ ہے کہ اس ساری تباہی اوربربادی کے باوجود اب بھی انسان اپنی حماقتوں سے باز نہیں آیا۔ اس ضمن میں پیش قدمی کی جارہی ہے۔ آئے روز اپنی زندگی کو دردناک انداز سے ختم کرنے کا سامان تخلیق کیاجارہا ہے۔ نہ جانے انسان کی ان حماقتوں کے سفر کی اخیر کب ہو گی اور کب انسان اس دنیا کوامن کا گہوارہ بنانے کے لیے فکرمند ہوگا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب کے لیے سوچنے والوں کی زندگیاں گزر گئی ہیں۔ دکھ اٹھانے والے خاک میں پیوند ہوچکے ہیں۔عراق، افغانستان اور پاکستان تو ایسے ممالک ہیں جہاں کوئی گھڑی چین سے گزر جائے تو لوگ شکر کا کلمہ ادا کرتے ہیں۔جاری برسوں میں جو بربریت اور خون ریزی ان ممالک میں ہوئی ہے اس کی مثال قریب قریب نہیں ملتی۔ ان دل دوز کارروائیوں میںجہاں مقامی آبادی شامل رہی ہے وہاں بیرونی عناصر کابھی حصہ ہے۔ابھی تک یہ آگ پوری شدت سے بھڑک رہی ہے اور اس کے شعلے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔اس کیفیت میں یہ بھی نہیں معلوم ہو پا رہا کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟ البتہ بے گناہ نشانہ بننے والے روزانہ زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے جس کی زد میں براہ راست کوئی غیرملکی ٹیم آئی ہے۔ تاہم اس سے قبل بھی ایک بار کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ مئی 2002 میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دور پاکستان اس وقت منسوخ کردیا گیا تھا جب دونوں ٹیموں کے کرکٹرز یا تو اپنے کمروں میں تھے یا ناشتے کے لئے ریسٹورنٹ میں پہنچے تھے اور انہیں لے جانے کے لئے بس تیار کھڑی تھی کہ ہوٹل سے باہر ہونے والے خودکش حملے میں گیارہ فرانسیسی انجینئرز ہلاک ہو گئے۔ پاکستان پڑوسی ملکوں کے ساتھ2011ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا تھاجس پر ممبئی دہشت گردی کے بعد ہی سوالیہ نشان لگ گیا تھا اب سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد سفید فام رکن ممالک کے زبردست دبا ومیں رہنے والی ''آئی سی سی'' کے لئے فیصلہ کرنا آسان ہوگیا۔سری لنکن ٹیم پر ہونے والا حملہ اس اعتبار سے غیرمعمولی نوعیت کا ہے کہ جب دوسری ٹیمیں پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں تھیں سری لنکا نے پاکستانی کرکٹ کے ساتھ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان آنے کی حامی بھری تھی ۔لاہور دہشت گردی کے نتیجے میں بڑی ٹیمیں تو درکنار اب چھوٹی ٹیمیں بھی خوف میں مبتلا ہونگی۔سری لنکا کی ٹیم کو ہوٹل سے اسٹیڈیم لیکر جانے والی بس ایل ای ایس 9090 پر بندوقوں، راکٹ لانچرز اور دستی بمبوں سے حملہ کیا گیا۔بس جونہی لبرٹی مارکیٹ چوک پہنچی تو بس کی رفتار کم ہوگئی لبرٹی چوک میں سفید رنگ کی ایک کار کھڑی تھی اس میں سے ایک شخص نے باہر آکر بس پرفائرنگ شروع کردی جبکہ ایک اور شخص نے بس کے فرنٹ پر آکر ہینڈ گرنیڈ بس کی جانب اچھالا مگر وہ باہر ہی گرگیا اس کے بعد بس پر ایک راکٹ فائر کیا گیا ۔ دہشت گرد بس پر فائرنگ کرتے ہوئے سٹیڈیم تک آئے۔ 12حملہ آوروں نے انتہائی تربیت یافتہ گوریلوں کی طرح پورے اعتماد کے ساتھ اپنے مشن کو پورا کیا۔اس واقع کے پیچھے کون سی قوت ہوسکتی ہے ؟ یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں۔ یہ کیس کوئی بہت ہی مشکل کیس نہیں ہے ۔اس حملہ کا طریقہ کار ممبئی حملوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والی فوٹیج ،دہشت گردوں کا طریقہ واردات،موقع سے ملنے والا اسلحہ و دیگر سامان چیخ چیخ کر بتا رہاہے کہ اس ڈرامہ کا پلانر، پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر کون ہے۔ان تربیت یافتہ گوریلوں کے حملے، اسلحے کے استعمال اور فائرنگ کے انداز سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ عام نوعیت کے دہشت گرد نہیں بلکہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے تربیت یافتہ گوریلے ہیں۔ جوپیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد ایک کار چھین کر فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں اب اتنی بھی جرات نہیں رہی کہ وہ تمام شواہد کی موجودگی میں بھی دشمن ملک کو اس کاراوئی کا ذمہ دار ٹھرا سکیں۔اپنے اقتدار کی طوالت کیلئے غیروں کے سامنے جھکے ہوئے ان حکمرانوں کی اپنے دشمن ملک کا نام لیتے ہوئے ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ یہ شرمناک رویہ اب ترک ہونا چاہئے بھارتی دہشت گردوں کو بے نقاب کرنے کیساتھ ساتھ گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کو عبرتناک سزا بھی دی جانی چاہئے۔ ورنہ پاکستان کی دھرتی پر ''را'' کے دہشت گرد زخم لگا کر بچ جانے میں کامیاب ہو تے رہیں گے۔ دشمن کا کام وارکرنا ہے اور ظاہر ہے اس کے لیے وہ بہترین موقعے کی تلاش میں رہتا ہے۔دشمن اپنی کارروائی میں کامیاب ہوچکا ہے۔ ہم ایک بار پھرحالتِ دفاع میں ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ لاہور جیسے علاقے میں اتنی سنگین واردات اتنی آسانی سے کیسے ہوگئی، دہشت گرد کیسے وہاں تک پہنچے اور پھر کس مہارت سے غائب ہوئے؟ یہ ہمارے حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ تحریر: سید احمد علی رضا
No comments:
Post a Comment