Monday, March 21, 2011

ان کو پہچانئے ، یہ مسلمان ہی نہیں مسلمانوں کے فرمانروا ہیں


اگر دین محمد(ص) میں جائز نہیں تو چلو دین مسیح (ع) پر ہی پی لیتے ہیں


مسلمانوں کا سرمایہ کہاں خرچ ہو رہا ہے
ایک نا محرم سے ہاتھ ملاتے ہوئے

یہ فرمانروا یزید بن معاویہ سے کتنی شباہت رکھتا ہے محرم و نامحرم کو نہیں پہچانتا ، یہودیوں اور عیسائیوں کا ہم دست و ہمنوا ہے اور شراب بھی پی لیتا ہے ۔

سعودی عرب کے مفتیوں کی بات

آجکل عرب ممالک کے جو حالات ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ، ان حالات میں یہ پتہ لگانا کہ کون سچا ہے کون جھوٹا یہ بہت ہی مشکل امر ہے ، حسنی مبارک امریکہ کے پٹھو تھے لیکن برا وقت آیا تو جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ، قذافی امریکہ اور مغربی دنیا کے بہت بڑے منتقد سمجھے جاتے تھے لیکن جب سارکوزی نے نو فلائی زون کے مسئلے پر لیبیا کی مخالفت میں بیان دیا تو سیف الاسلام نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس نے سارکوزی کو انتخابات میں جتانے کے لئے مالی تعاون کیا تھا ، بحرین میں عوامی احتجاج کو سنی شیعہ اختلاف کا رخ دیا جا رہا ہے جس کے چلتے سعودی عرب نے ایک ہزار کی فوج حکومت کی حمایت میں بھیجی ہے ۔ اگر چہ سچی بات تو یہی ہے کہ بحرین میں اکثریت شیعہ کی ہے اور جمہوری حکومتوں میں حاکم انھیں کی آراء کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے تو جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ سعودی عرب کو شاید آل خلیفہ سے کوئی سر و کار نہ ہو لیکن یہ ڈر ضرور ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اس ملک میں جمہوری قوانین نافذ ہوں تو اس شیعہ اکثریت والے ملک میں شیعوں کی حکومت قائم ہو جائے ۔ آل سعود اور محمد بن عبدالوہاب کے خاندان کو کب یہ برداشت ہوگا کہ ان کے پڑوس میں کوئی شیعہ حکومت قائم ہو ۔ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی بات تو نہیں کرتا لیکن مجھے ان دونوں خاندانوں سے وابستہ افراد کو مسلمان کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے ۔

ذرا سوچئے ! مصر میں عوامی احتجاج کے موقع پر سعودی نے حسنی مبارک کی مدد کیوں نہیں کی ، لیبیا پر مغربی ممالک بم برسانے لگے ہیں وہاں پر سعودیہ اپنی فوج کیوں نہیں بھیج رہا ہے ، ساٹھ سالوں سے اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے ، قبلہ اول کو مسمار کر رہا ہے سعودی عرب نے کبھی وہاں پر اپنی فوج بھیج کر اسرائیل کی مخالفت کرنے کی جرائت کیوں نہیں کی؟ عراق میں امریکہ ۸ سال سے مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے سعودی عرب نے وہاں دہشتگرد بھیجنے کے علاوہ کوئی قدم نہیں اٹھایا ؟ میں سعودی عرب سے سوال کرتا ہوں کہ یہ بتاؤ تمہارا مذہب کیا ہے اسلام یا یہودیت ؟ تم سے مسلمانوں کی تو کوئی خدمت ہوتی نہیں لیکن اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا تمہارا مذہبی فریضہ بنا ہوا ہے ۔ اگر حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں پر جوابی کاروائی کرے تو تمہاری نظر میں یہ جنگ فتنہ ہے اور تمہارے علماء اس سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں ، اسے کفار اور مشرکین کی جنگ قرار دیتے ہیں وغیرہ ۔۔۔۔ کیا یہی تمہارا اسلام ہے ؟

اب خود سعودی حکومت اور اس کے طرز عمل کی گفتگو کریں ، آل سعود کی حکومت کس طرح قائم ہوئی ؟ کچھ جھلکیاں یاد دلا دوں ، ہر ایک قبیلے پر حملے کیا کرتے اور اگر وہ قبیلہ ان کی حکومت کو قبول کرتا تو ٹھیک ورنہ انھیں قتل کر دیا جاتا ، قبائل کے سرداروں کو ڈرا دھمکا کر ان پر حکومت شروع کی اور سعودی کنگ ڈم تیار ہو گیا ۔ لوگوں پر ظلم و جور کر کے حکومت حاصل کرنے کے باوجود آج اس بات کے دعویدار ہیں کہ حکومت آل سعود کا حق ہے اور ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا خروج ہے ۔ یعنی خود تو ظلم کے راستے حکومت حاصل کریں اور پھر ظلم کے ساتھ حکومت چلائیں اور جب اس ظلم کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو اسے خروج کہا جائے ، یعنی ان کا اسلام ظلم سہہ کر ظلم کو بڑھاوا دینے کی تعلیم دیتا ہے ۔

اب جس حکومت کا طرز عمل یہ ہو اس حکومت کے حامی علماء اگر بحرین ، عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کی کامیابی کی دعا کریں تو اسے بات کہیں یا گدھے کی لات یہ فیصلہ قارئین کریں گے ۔

البتہ سعودی علماء کا مذہب کچھ ان روایات سے سمجھا جا سکتا ہے :

شافعی مذہب :

كتاب الحاوى الكبير ـ الماوردى

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ {صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} قَالَ : الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ أَمِيرٍ بَرٍّ ، أَوْ فَاجِرٍ ، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ وَرُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ {صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} أَنَّهُ قَالَ : صَلُّوا خَلْفَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَرُوِيَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَأَنَسًا ، صَلَّوْا خَلْفَ الْحَجَّاجِ ، وَكَفَى بِهِ فَاسِقًا ، وَلِأَنَّ كُلَّ مَنْ صَحَّ أَنْ يَكُونَ مَأْمُومًا صَحَّ أَنْ يَكُونَ إِمَامًا كَالْعَدْلِ .

حنفی مذہب

البحر الرائق شرح كنز الدقائق

وفي خَبَرِ عبد اللَّهِ بن عُمَرَ عن النبي أَنَّهُ قال من كان على السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَهُ وَكَتَبَ له بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عشر حَسَنَاتٍ وَرَفَعَ له عَشْرَ دَرَجَاتٍ فَقِيلَ له يا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى يَعْلَمُ الرَّجُلُ أَنَّهُ من أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ فقال إذَا وَجَدَ في نَفْسِهِ عَشَرَةَ أَشْيَاءَ فَهُوَ على السُّنَّةِ الجماعة ( ( ( والجماعة ) ) ) أَنْ يُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ بِالْجَمَاعَةِ وَلَا يَذْكُرَ أَحَدًا من الصَّحَابَةِ بِسُوءٍ وَيَنْقُصَهُ وَلَا يَخْرُجَ على السُّلْطَانِ بِالسَّيْفِ وَلَا يَشُكَّ في إيمَانِهِ وَيُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ من اللَّهِ تَعَالَى وَلَا يُجَادِلَ في دِينِ اللَّهِ تَعَالَى وَلَا يُكَفِّرَ أَحَدًا من أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ وَلَا يَدَعَ الصَّلَاةَ على من مَاتَ من أَهْلِ الْقِبْلَةِ وَيَرَى الْمَسْحَ على الْخُفَّيْنِ جَائِزًا في السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَيُصَلِّيَ خَلْفَ كل إمَامٍ بَرٍّ أو فَاجِرٍ

زندگی کے ہر مرحلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کو اپنا اسوہ اور آئڈیل قرار دینا اسلامی حکم اور مسلمانوں کی پہچان اور خدا کی بندگی کی علامت ہے ۔ مسلمان کا ہر عمل اس کے بندگی کی علامت ہے لیکن وہ اعمال جن کو اسلام نے عبادت کہا ہے انہیں خاص امتیاز حاصل ہے اور نماز عبادات میں سب سے بلند مقام رکھتی ہے ۔ اب جب نماز جیسی بلند و بالا عبادتوں میں فاسق و فاجر شخص کی اقتدا جائز ہے تو پھر زندگی کے دیگر امور میں تو بہ طریق احسن ۔



Tuesday, March 1, 2011

عوام اسلام دشمن عناصرکی سازشوں سے ھوشیار رہے : آیت‌الله علوی گرگانی

رسا نیوزایجنسی - آیت الله علوی گرگانی نے عوام کو اسلام دشمن عناصرکی سازشوں سے ھوشیار کرتے ہوئے کہا : عوام جان لے کہ دشمن ھرگز خیرخواہ اور دلسوز نہی ہوتا ۔

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، آیت‌الله سید محمدعلی علوی گرگانی نے اج نی وی کے اھل کاروں سے ملاقات میں کہا: خدواند تبارک و تعالی نے انسانوں کو راستے دکھائے ہیں اور خود ھماری ذمہ داری ہے کہ ھم راہ حق پر گامزن رہیں ۔

انہوں نے مزید کہا : خدواند متعال نے ھر انسان کے وجود میں الهی اور شیطانی صفات قرار دیئے ہیں اورفقط وہی صحیح راستے پرچل سکتا ہے جو عقل کا سہارا لے ۔

حوزہ علمیہ قم کے اس معروف استاد نے تاکید کی : انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ نفس امارہ کو دبائے اور خدا کی اطاعت میں رکھے ۔

انہوں نے مزید کہا : معاشرے کی اصلاح دوگروہ کے ہاتھوں میں ہے ایک عالم اوردوسرے انتظامیہ اور ھم دونوں کو اپنے نفس کی مراقبت کرنی چاھئے ۔

حوزہ علمیہ قم کے اس معروف استاد نے عوام کو اسلام دشمن عناصرکی سازشوں سے ھوشیار کرتے ہوئے کہا : عوام جان لے کہ دشمن ھرگز خیرخواہ اور دلسوز نہی ہوتا ۔

استکبار کی مداخلتوں سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا : قائد انقلاب اسلامی

رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں کہا : علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی مبارکباد پیش کی اور علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے حیات بخش خورشید سے بہرہ مند ہونے کی انسانی لیاقت بڑھنے کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت کو انسانی زندگی کی درخشاں صبح سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے انسان کا شعور و ادراک عمیق سے عمیق تر اور اس کی صلاحیتیں کامل تر ہوں گی انسانی معاشروں کی تقدیر اور مستقبل کے سلسلے میں بعثت پیغمبر اسلام کی سعادت بخش برکتیں اتنی ہی زیادہ آشکارا ہونگی۔

چنانچہ آج علاقے میں اس حقیقت کی علامات کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نےعلاقے کے بعض ممالک منجملہ مصر اور تیونس میں نظر آنے والی اسلامی بیداری کو تحقیر، تاریکی اور مظالم سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو جانے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ان کے اقدامات کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ ملکوں کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی امور میں استکباری طاقتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی مداخلتوں اور تسلط پسندی سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے راہ حل کی تلاش شروع کر دی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک میں بھی عوام کی قابل لحاظ تعداد کی مادہ پرستانہ مکتب فکر سے بیزاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسلمان اپنی رفتار و گفتار سے اسلام کو صحیح طور پر دنیا میں متعارف کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو یقینی طور پر اسلام کی جانب عمومی رجحان دنیا پر چھا جائیگا۔ لہذا اس نکتے کی بنیاد پر اپنی فکر اور عملی زندگی کی اصلاح کی مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے استکباری طاقتوں سے بیزاری کو علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کا اولیں نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ امریکی خود کو اس عظیم تحریک کی زد سے دور رکھنے کی بڑی کوششیں کر رہے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکتی کیونکہ قوموں کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اس کے مہروں کی پالیسیاں قوموں کی تحقیر اور ان کے باہمی اختلافات و تفرقے کی بنیادی وجہ ہیں لہذا مسلمانوں کی مشکلات کا حل علاقے سے امریکہ کی بساط لپیٹ دئے جانے میں مضمر ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے قوموں اور حکومتوں کے مابین شگاف اور خلیج کو امریکہ کی مشرق وسطی اسٹریٹیجی کی دین قرار دیا اور فرمایا کہ میدان عمل میں قوموں کی موجودگی جابر طاقتوں کے خنجر کو کند کر دیتی ہے اور اگر حکومتیں قوموں کی خواہشات کے مطابق عمل شروع کر دیں تو امریکہ یا کوئی بھی توسیع پسند طاقت ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔

قائد انقلاب اسلامی نے جعلی صیہونی حکومت کو ایک سرطان اور علاقے میں متعدد سیاسی و اقتصادی "بیماریوں اور بلاؤں" کی جڑ قرار دیا اور فرمایا کہ اس جنگ افروز اور تفرقہ انگیز سرطان کو باقی رکھنے کے لئے سامراج جی توڑ کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سرطان سے علاقے کے عوام کی نفرت اس وقت بالکل آشکارا ہو چکی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے علاقے میں روز افزوں اسلامی بیداری کی لہر کو صحیح سمت میں آگے لے جانے کے تعلق سے علمائے دین، سیاسی اور علمی ہستیوں کی ذمہ داری کو بہت اہم قرار دیا اور فرمایا کہ علاقے کے ملکوں کی ذمہ دار شخصیتوں کو چاہئے کہ سامراج کو کسی بھی حربے کے ذریعے عوامی قیام کو یرغمال بنانے اور قوموں کی عظیم تحریک کو سبوتاژ کرنے کا موقعہ نہ دیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی تحریک کی حفاظت اور صحیح سمت میں رہنمائی کو علاقے اور امت مسلمہ کے تابناک مستقبل کی تمہید قرار دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی تعداد، ان کے پاس موجود بیکراں ذخائر اور ان کے خاص جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم امہ کی موجودہ حالت میں تبدیلی لانا چاہئے اور انشاء اللہ فضل پروردگار اور اسلام کی برکتوں سے یہ تغیر مستقبل قریب میں رونما ہونے والا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے قرآنی آیات کی روشنی میں اللہ تعالی پر توکل اور اس کی بارگاہ میں خضوع وخشوع، برادران دینی سے ہمدردی اور سامرجی و استبدادی طاقتوں کے خلاف پائیداری و استقامت کو مسلم انسان اور اسلامی معاشرے کا خاصہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران توفیق خداوندی سے اس سعادت بخش راستے پر گامزن ہے اور دوسری مسلمان قومیں بھی رفتہ رفتہ اسی سمت میں قدم بڑھا رہی ہیں۔ چنانچہ وعدہ الہی "و العاقبۃ للمتقین" پورا ہوکر رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر کے صبر و استقامت، عبادت خداوندی و عوام دوستی، انصاف پسندی و مظلوم نوازی اور عزت و کرامت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کی تعلیمات دنیا کا نصب العین اور عمومی مطالبہ بن چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے پیچیدہ منصوبوں کے باوجود قوموں میں بیداری اور انبیاء کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا ہو رہی ہے اور اسلامی جمہوریہ، مصلح عالم کی حکومت کے قیام کی الہی دعوت کی بلند آواز ہے۔

استکبار کی مداخلتوں سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا : قائد انقلاب اسلامی

رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں کہا : علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی مبارکباد پیش کی اور علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے حیات بخش خورشید سے بہرہ مند ہونے کی انسانی لیاقت بڑھنے کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت کو انسانی زندگی کی درخشاں صبح سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے انسان کا شعور و ادراک عمیق سے عمیق تر اور اس کی صلاحیتیں کامل تر ہوں گی انسانی معاشروں کی تقدیر اور مستقبل کے سلسلے میں بعثت پیغمبر اسلام کی سعادت بخش برکتیں اتنی ہی زیادہ آشکارا ہونگی۔

چنانچہ آج علاقے میں اس حقیقت کی علامات کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نےعلاقے کے بعض ممالک منجملہ مصر اور تیونس میں نظر آنے والی اسلامی بیداری کو تحقیر، تاریکی اور مظالم سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو جانے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ان کے اقدامات کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ ملکوں کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی امور میں استکباری طاقتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی مداخلتوں اور تسلط پسندی سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے راہ حل کی تلاش شروع کر دی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک میں بھی عوام کی قابل لحاظ تعداد کی مادہ پرستانہ مکتب فکر سے بیزاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسلمان اپنی رفتار و گفتار سے اسلام کو صحیح طور پر دنیا میں متعارف کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو یقینی طور پر اسلام کی جانب عمومی رجحان دنیا پر چھا جائیگا۔ لہذا اس نکتے کی بنیاد پر اپنی فکر اور عملی زندگی کی اصلاح کی مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے استکباری طاقتوں سے بیزاری کو علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کا اولیں نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ امریکی خود کو اس عظیم تحریک کی زد سے دور رکھنے کی بڑی کوششیں کر رہے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکتی کیونکہ قوموں کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اس کے مہروں کی پالیسیاں قوموں کی تحقیر اور ان کے باہمی اختلافات و تفرقے کی بنیادی وجہ ہیں لہذا مسلمانوں کی مشکلات کا حل علاقے سے امریکہ کی بساط لپیٹ دئے جانے میں مضمر ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے قوموں اور حکومتوں کے مابین شگاف اور خلیج کو امریکہ کی مشرق وسطی اسٹریٹیجی کی دین قرار دیا اور فرمایا کہ میدان عمل میں قوموں کی موجودگی جابر طاقتوں کے خنجر کو کند کر دیتی ہے اور اگر حکومتیں قوموں کی خواہشات کے مطابق عمل شروع کر دیں تو امریکہ یا کوئی بھی توسیع پسند طاقت ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔

قائد انقلاب اسلامی نے جعلی صیہونی حکومت کو ایک سرطان اور علاقے میں متعدد سیاسی و اقتصادی "بیماریوں اور بلاؤں" کی جڑ قرار دیا اور فرمایا کہ اس جنگ افروز اور تفرقہ انگیز سرطان کو باقی رکھنے کے لئے سامراج جی توڑ کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سرطان سے علاقے کے عوام کی نفرت اس وقت بالکل آشکارا ہو چکی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے علاقے میں روز افزوں اسلامی بیداری کی لہر کو صحیح سمت میں آگے لے جانے کے تعلق سے علمائے دین، سیاسی اور علمی ہستیوں کی ذمہ داری کو بہت اہم قرار دیا اور فرمایا کہ علاقے کے ملکوں کی ذمہ دار شخصیتوں کو چاہئے کہ سامراج کو کسی بھی حربے کے ذریعے عوامی قیام کو یرغمال بنانے اور قوموں کی عظیم تحریک کو سبوتاژ کرنے کا موقعہ نہ دیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی تحریک کی حفاظت اور صحیح سمت میں رہنمائی کو علاقے اور امت مسلمہ کے تابناک مستقبل کی تمہید قرار دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی تعداد، ان کے پاس موجود بیکراں ذخائر اور ان کے خاص جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم امہ کی موجودہ حالت میں تبدیلی لانا چاہئے اور انشاء اللہ فضل پروردگار اور اسلام کی برکتوں سے یہ تغیر مستقبل قریب میں رونما ہونے والا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے قرآنی آیات کی روشنی میں اللہ تعالی پر توکل اور اس کی بارگاہ میں خضوع وخشوع، برادران دینی سے ہمدردی اور سامرجی و استبدادی طاقتوں کے خلاف پائیداری و استقامت کو مسلم انسان اور اسلامی معاشرے کا خاصہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران توفیق خداوندی سے اس سعادت بخش راستے پر گامزن ہے اور دوسری مسلمان قومیں بھی رفتہ رفتہ اسی سمت میں قدم بڑھا رہی ہیں۔ چنانچہ وعدہ الہی "و العاقبۃ للمتقین" پورا ہوکر رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر کے صبر و استقامت، عبادت خداوندی و عوام دوستی، انصاف پسندی و مظلوم نوازی اور عزت و کرامت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کی تعلیمات دنیا کا نصب العین اور عمومی مطالبہ بن چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے پیچیدہ منصوبوں کے باوجود قوموں میں بیداری اور انبیاء کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا ہو رہی ہے اور اسلامی جمہوریہ، مصلح عالم کی حکومت کے قیام کی الہی دعوت کی بلند آواز ہے۔

استکبار کی مداخلتوں سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا : قائد انقلاب اسلامی

رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں کہا : علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج ملک کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی مبارکباد پیش کی اور علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے حیات بخش خورشید سے بہرہ مند ہونے کی انسانی لیاقت بڑھنے کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ علاقے کی قوموں کے مسائل اور مشکلات کا حل ملکوں اور قوموں کے مستقبل کو شیطان بزرگ امریکہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت کو انسانی زندگی کی درخشاں صبح سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے انسان کا شعور و ادراک عمیق سے عمیق تر اور اس کی صلاحیتیں کامل تر ہوں گی انسانی معاشروں کی تقدیر اور مستقبل کے سلسلے میں بعثت پیغمبر اسلام کی سعادت بخش برکتیں اتنی ہی زیادہ آشکارا ہونگی۔

چنانچہ آج علاقے میں اس حقیقت کی علامات کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نےعلاقے کے بعض ممالک منجملہ مصر اور تیونس میں نظر آنے والی اسلامی بیداری کو تحقیر، تاریکی اور مظالم سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو جانے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ان کے اقدامات کی علامت قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ ملکوں کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی امور میں استکباری طاقتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی مداخلتوں اور تسلط پسندی سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے راہ حل کی تلاش شروع کر دی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک میں بھی عوام کی قابل لحاظ تعداد کی مادہ پرستانہ مکتب فکر سے بیزاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسلمان اپنی رفتار و گفتار سے اسلام کو صحیح طور پر دنیا میں متعارف کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو یقینی طور پر اسلام کی جانب عمومی رجحان دنیا پر چھا جائیگا۔ لہذا اس نکتے کی بنیاد پر اپنی فکر اور عملی زندگی کی اصلاح کی مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے استکباری طاقتوں سے بیزاری کو علاقے کی بعض قوموں میں پیدا ہونے والی بیداری کا اولیں نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ امریکی خود کو اس عظیم تحریک کی زد سے دور رکھنے کی بڑی کوششیں کر رہے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکتی کیونکہ قوموں کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اس کے مہروں کی پالیسیاں قوموں کی تحقیر اور ان کے باہمی اختلافات و تفرقے کی بنیادی وجہ ہیں لہذا مسلمانوں کی مشکلات کا حل علاقے سے امریکہ کی بساط لپیٹ دئے جانے میں مضمر ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے قوموں اور حکومتوں کے مابین شگاف اور خلیج کو امریکہ کی مشرق وسطی اسٹریٹیجی کی دین قرار دیا اور فرمایا کہ میدان عمل میں قوموں کی موجودگی جابر طاقتوں کے خنجر کو کند کر دیتی ہے اور اگر حکومتیں قوموں کی خواہشات کے مطابق عمل شروع کر دیں تو امریکہ یا کوئی بھی توسیع پسند طاقت ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔

قائد انقلاب اسلامی نے جعلی صیہونی حکومت کو ایک سرطان اور علاقے میں متعدد سیاسی و اقتصادی "بیماریوں اور بلاؤں" کی جڑ قرار دیا اور فرمایا کہ اس جنگ افروز اور تفرقہ انگیز سرطان کو باقی رکھنے کے لئے سامراج جی توڑ کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سرطان سے علاقے کے عوام کی نفرت اس وقت بالکل آشکارا ہو چکی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے علاقے میں روز افزوں اسلامی بیداری کی لہر کو صحیح سمت میں آگے لے جانے کے تعلق سے علمائے دین، سیاسی اور علمی ہستیوں کی ذمہ داری کو بہت اہم قرار دیا اور فرمایا کہ علاقے کے ملکوں کی ذمہ دار شخصیتوں کو چاہئے کہ سامراج کو کسی بھی حربے کے ذریعے عوامی قیام کو یرغمال بنانے اور قوموں کی عظیم تحریک کو سبوتاژ کرنے کا موقعہ نہ دیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی تحریک کی حفاظت اور صحیح سمت میں رہنمائی کو علاقے اور امت مسلمہ کے تابناک مستقبل کی تمہید قرار دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی تعداد، ان کے پاس موجود بیکراں ذخائر اور ان کے خاص جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم امہ کی موجودہ حالت میں تبدیلی لانا چاہئے اور انشاء اللہ فضل پروردگار اور اسلام کی برکتوں سے یہ تغیر مستقبل قریب میں رونما ہونے والا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے قرآنی آیات کی روشنی میں اللہ تعالی پر توکل اور اس کی بارگاہ میں خضوع وخشوع، برادران دینی سے ہمدردی اور سامرجی و استبدادی طاقتوں کے خلاف پائیداری و استقامت کو مسلم انسان اور اسلامی معاشرے کا خاصہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران توفیق خداوندی سے اس سعادت بخش راستے پر گامزن ہے اور دوسری مسلمان قومیں بھی رفتہ رفتہ اسی سمت میں قدم بڑھا رہی ہیں۔ چنانچہ وعدہ الہی "و العاقبۃ للمتقین" پورا ہوکر رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر کے صبر و استقامت، عبادت خداوندی و عوام دوستی، انصاف پسندی و مظلوم نوازی اور عزت و کرامت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کی تعلیمات دنیا کا نصب العین اور عمومی مطالبہ بن چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے پیچیدہ منصوبوں کے باوجود قوموں میں بیداری اور انبیاء کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا ہو رہی ہے اور اسلامی جمہوریہ، مصلح عالم کی حکومت کے قیام کی الہی دعوت کی بلند آواز ہے۔

امید کرتا ہوں کہ خدا وند عالم لیبی کی عوام کو اس غیر عاقل کے شر سے نجات دیگا : آیت الله مکارم شیرازی

رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے وضاحت کی : علاقہ کی حالات کی طرف غور کرنے اور دنیا میں ہو رہی تبدیلیاں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے اندر پہلے سے زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت دنیا کے مسلمان اسلامی ایران کی طرف نگاہ کر رکھی ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق حضرت آیت ‌الله ناصر مکارم شیرازی مرجع تقلید نے آج صبح اپنے فقہ کے درس خارج میں جو ایران قم کے مسجد اعظم میں سیکڑوں طلاب و علماء کے شرکت کے ساتھ منعقد ہوا انہوں نے سخن چینی کی ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا : سخن چینی ان مسائل میں سے ہے کہ اسلام میں اس سے دوری و پرھیز کی بہت تاکید کی ہے ۔

انہوں نے عیب گویی و سخن چینی کو اسلام میں بہت برا فعل کہا گیا ہے بیان کیا : وہ چیزیں جو بد بینی اور اختلاف کا سبب ہوتی ہے اسلام میں اس کی مذمت کی گئی ہے اور سخن چینی و عیب گویی بھی انہی میں سے ہے ۔

حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے وضاحت کی : اگر ھم لوگ اتحاد و اتفاق کے حصول میں کوشاں ہیں تو ھم لوگوں کو چایئے کہ عیب گویی، سخن چینی، تهمت و بدگویی، کندروی و تندروی جیسے مسائل سے پرھیز کریں اور واقعی و حقیقی وحدت کو حاصل کریں ۔

انہوں نے تاکید کی : اگر وہ چیزیں جس کی اسلام نے ھم لوگوں کو حکم دیا ہے اس پر عمل کریں تو مجھے یقین ہے کہ خداوند عالم بھی ھم لوگوں کی مدد کریگا اور ھم لوگ زیادہ سے زیادہ متحد و منسجم رہینگے ۔

مرجع تقلید نے کہا : اس وقت دنیا کے مسلمانوں کے سلسلہ میں میں زیادہ فکر مند ہو گیا ہوں خاص کر لیبی کے حالات ایک خاص وضعیت اختیار کر چکی ہے کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ اس ملک کے سربراہ پاگل ہے ، آج وہ قول صادق ہو رہا ہے اور وہاں بغیر رحم کےعوام کو قتل کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : امید کرتا ہوں کہ خدا وند عالم لیبی کے عوام کو اس غیر عاقل کے شر سے نجات دے اور اسلامی ممالک کی عوام اپنے مقصد کو حاصل کر لیں ۔

سعودی عرب میں الاحساء کے خطیب جمعہ کو گرفتار کر لیا گیا

رسا نیوز ایجنسی ـ سعودی عرب میں الاحساء کے خطیب جمعہ کو سیاسی نظام میں اصلاح کرنے اور دینی آزادی کی اجازت دینے کی درخواست پر سکوریٹری پولیس کے ذریعہ گرفتار کر لیا گیا ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں الاحساء کے خطیب جمعہ حجت الاسلام شیخ توفیق العامر کو ان کی تقریر جس میں مشروطہ بادشاہی حکومت اور سیاسی اصلاحات کو عمل میں لانے کی اپیل کی تھی جس کی بنا پر گذشتہ روز ان کو سکوریٹری پولیس کے ذریعہ گرفتار کر لیا گیا ۔

وہ دمام کے مرکزی پولیس کی رسمی درخواست پر پولیس اسٹیشن گئے تھے اور ان کے پہوچتے ہی ان کو وہاں گرفتار کر لیا گیا۔

شیخ توفیق العامر کے اھل خانہ کو اس روز صبح ان کی گرفتاری کی خبر مل پائی اور الاحساء کے خطیب جمعہ سے ملاقات کرنے پر پابندی کی تاکید کی گی ہے ۔