عظمت صحابہ اعلامیہ
حضرات صحابہ کی تعلیم و تربیت کے لئے سرور کائنات (ص) جیسا معلم اور مربی مہیا کیا گیا ۔
عظمت صحابہ اعلامیہ کے چند بند
۱۔ بلا استثناء تمام صحابہ جنتی ہیں ۔
۲۔ سارے صحابہ کو اللہ رب العزت کی دائمی رضا و خوشنودی حاصل ہے ۔
۳۔ جملہ صحابہ آپس میں برادرانہ الفت و محبت رکھتے تھے ۔
۴۔ ہر ایک صحابی کا دل ایمان و اخلاص کی الفت سے مزین اور کفر، فسق اور نافرمانی سے متنفر تھا ۔
۵۔ صحابہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں، انبیاء کے علاوہ جن و بشر میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے ۔
۶۔ صحابہ کی محبت رسول سے محبت اور ان سے بغض رسول سے بغض ہے ۔
۷۔ صحابہ کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانا حرام ہے ۔
۸۔ امت کا سارا شرف و مجد صحابہ سے وابستہ ہے ۔
روزنامہ راسٹریہ سہارا میں شائع خبر میں اس اعلامیہ کی توثیق کے حوالہ سے لکھا گیا تھا کہ اس اعلامیہ کو امام کعبہ السدیس کی تائید حاصل ہے ۔ مولانا ارشد مدنی کو معلوم ہونا چاہئے کہ امام السدیس کی تائید سے اس اعلامیہ کی تنقیص ہوگی توثیق نہیں کیوں کہ امام السدیس حرم امن الٰہی مکہ مکرمہ کے منتخب امام ہیں جن کو آل سعود کی حمایت حاصل ہے اور آل سعود کو ان کی حمایت حاصل ہے ، ظاہر ہے کہ مکہ مکرمہ اور مسجد النبی(ص) کی امامت وہ اہم مناصب ہیں جن پر صرف سعودی حکومت کا تائید شدہ امام ہی رہ سکتا ہے ۔
سعودی حکومت کے بارز ترین کارناموں میں سے ایک اہلبیت نبی (ص) اور اصحاب نبی (رض) کے قبور کی تخریب ہے جس سے کسی بھی صورت امام السدیس کا دامن پاک نہیں ہو سکتا ہے تو ایسے شخص کی تائید سے اس اعلامیہ کو کیا فائدہ پہنچے گا البتہ اس کی تائید سے شیخ السدیس کو فائدہ ضرور پہنچے گا ۔ آپ میرے دعوے کی تصدیق اس واقعہ سے کر سکتے ہیں کہ چند ماہ قبل سعودی حکومت میں واقعہ حرہ کے شہداء کی قبور کو ایک سڑک کی توسیع کے لئے مسمار کر دیا ۔ آپ تاریخ سے واقف ہیں کہ واقعہ حرہ میں کتنے صحابہ (رض) شہید کئے گئے تھے ۔ کیا ان کے قبر کی تخریب صحابہ کی توہین نہیں ہے ؟ اگر تمام صحابہ بلا استثناء اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کا احترام کیا جائے تو پھر ان کی بے حرمتی کرنے والوں کو کیوں کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے ؟
ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ میں جس وقت امام السدیس کے حوالہ سے جستجو شروع کی تو سب سے پہلے ایک خبر نظر سے گزری کہ امام مکہ نے ۲۲ محرم ۱۴۳۱ کے خطبہ میں نبی کے ایک صحابی کو چور اور اچکا کہا تھا ۔
http://www.nationalkuwait.com/vb/showthread.php?t=99825
اس بات سے بھی صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم ) سے ان کی محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
خیر میری نظر میں سعودی حکومت کے دین و ایمان کی کوئی ارزش نہیں تو ان کے حکام اور ان کے منتخب ائمہ جمعہ و جماعات کی کیا قدر ہوگی اس لئے اس گفتگو کو یہیں پر ختم کر کے بات آگے بڑھانا چاہتا ہوں ۔
جناب مولانا ارشد مدنی صاحب !
کاسہ داغ تر از آش نباشد ، کیا اس اعلامیہ کی تائید خود صحابہ کرام بھی فرماتے ہیں یا نہیں ، ذرا تاریخ کھنگال کر دیکھیں !۔
· بلا استثناء تمام صحابہ جنتی ہیں ۔
مدنی صاحب بخاری شریف میں جن کا ذکر کیا گیا ہے یہ کون سے صحابی ہیں ؟
6584 - قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِى النُّعْمَانُ بْنُ أَبِى عَيَّاشٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ سَهْلٍ فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ لَسَمِعْتُهُ وَهْوَ يَزِيدُ فِيهَا « فَأَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّى . فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِى مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ . فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِى » . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سُحْقًا بُعْدًا ، يُقَالُ سَحِيقٌ بَعِيدٌ ، وَأَسْحَقَهُ أَبْعَدَهُ . طرفه 7051 - تحفة 4390
3349 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً - ثُمَّ قَرَأَ - ( كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ) وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِى يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِى أَصْحَابِى . فَيَقُولُ ، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ . فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ) إِلَى قَوْلِهِ ( الْحَكِيمُ ) أطرافه 3447 ، 4625 ، 4626 ، 4740 ، 6524 ، 6525 ، 6526 تحفة 5622
· سارے صحابہ کو اللہ رب العزت کی دائمی رضا و خوشنودی حاصل ہے
مدنی صاحب یہ کون صحابی تھے جن کو پیغمبر (ص) نے اپنے پاس سے اٹھا دیا ۔ اگر خدا ان سے خوشنود تھا تو پیغمبر (ص) ان سے ناراض کیوں ہوئے ۔
بخاری شریف کی یہ روایت ملاحظہ ہو ۔
114 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِى ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - وَجَعُهُ قَالَ « ائْتُونِى بِكِتَابٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ » . قَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ . قَالَ « قُومُوا عَنِّى ، وَلاَ يَنْبَغِى عِنْدِى التَّنَازُعُ » . فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَبَيْنَ كِتَابِهِ . أطرافه 3053 ، 3168 ، 4431 ، 4432 ، 5669 ، 7366 - تحفة 5841
· جملہ صحابہ آپس میں برادرانہ الفت و محبت رکھتے تھے
حضرات صحابہ کی محبت صحیح بخاری کی اس روایت میں ملاحظہ ہو ۔
4845 - حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِىُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِى تَمِيمٍ ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِى بَنِى مُجَاشِعٍ ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ - قَالَ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَهُ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِى . قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ . فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِى ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ ) الآيَةَ . قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ ، يَعْنِى أَبَا بَكْرٍ . أطرافه 4367 ، 4847 ، 7302 - تحفة 5269
· ہر ایک صحابی کا دل ایمان و اخلاص کی الفت سے مزین اور کفر، فسق اور نافرمانی سے متنفر تھا
بعد رسول(ص) مرتد ہونے والے صحابی کون تھے ؟
فَيَقُولُ ، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ .
مدنی صاحب میں بہت کچھ لکھتا لیکن یقین جانئے کہ فرصت کم ہے ، ویسے اگر جس طرح علمائے رجال راویان حدیث کی تنقیح و توثیق اور تعدیل و تفسیق کیا کرتے ہیں اگر ہم صحابہ کو بھی عدالت کے میزان میں رکھ کر دیکھیں تو بہتر ہوگا ، اس طرح عالم اسلام کے بہت سے مسائل بھی حل ہو جائیں گے ۔ اسلامی مقدسات محفوظ رہ جائیں گی اور صحابیت کا تقدس بھی پائمال ہونے سے بچ جائے گا ۔ اگر ہم ہر صحابی کو عادل مان کر اس کے ہر عمل کو حجت کا درجہ دینا چاہیں تو صحابہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے دلدل میں پھنس کر کہیں کے نہیں رہ جائیں گے ۔
ھدانا اللہ و ایاکم والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
No comments:
Post a Comment