گزشتہ روز راسٹریہ سہارا لکھنؤ کے صفحہ اول پر کچھ مسلم تنظیموں کی جانب سے امام الحرم شیخ السدیس کی مذمت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور شیخ السدیس کی کی مذمت کو نفاق وغیرہ سے تعبیر کیا گیا تھا ۔
شیخ السدیس امام حرم ہیں ، اس لئے جس طرح کعبہ کا احترام واجب ہے شیخ السدیس کا احترام بھی ضروری ہے ۔ وہ ہندوستان میں مہمان ہیں اور مہمان کا احترام میزبان پر واجب ہے ۔
اس بیانیہ میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے اس سے مجھے کوئی اختلاف نہیں ہے امام حرم کا احترام واجب ہے ، مہمان کی خاطرداری ضروری ہے لیکن چونکہ بیانیہ دینے والوں نے اس میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ مسلم ممالک میں چل رہی استعماری سازشوں کے مخالف ہیں ، وہ لیبیا پر ہورہے امریکی حملوں کے مخالف ہیں اس لئے بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ امریکہ اور استعماری سازشوں کے مخالف ، ان کے خلاف مظاہرہ اور احتجاج کرنے والے ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ، اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کسی کو فرعون اور ظالم کہنا بھی غلط ہے تو پھر یہ لوگ امریکہ کے ظلم کی مذمت کیوں کرتے ہیں ؟ انھوں نے مصری حکومت گرانے میں مصر کی عوام کا ساتھ کیوں دیا ؟
میرے ان سوالوں کا جواب یقیناً وہ یہی دیں گے کہ ہم امریکہ کے مخالف اس لئے ہیں کہ وہ ظالم ہے ، اسلام و مسلمین کا دشمن ہے ،تو اگر آپ ظلم کے مخالف ہیں ، اسلام دشمنی کے خلاف احتجاج کرنے والے ہیں تو پھر دل کھول کر آل سعود کی بھی مخالفت کریں اس لئے کہ وہ بھی ظالم ہیں ، تو پھر دل کھول کر امام مکی کی بھی مذمت کریں چونکہ وہ بھی اسی ظلم و بربریت کا حصہ ہیں ۔
لیبیا میں جو مسلمان قتل کئے جا رہے ہیں کیا ان کا خون بحرینی مسلمانوں سے زیادہ سرخ ہے ؟ سعودیہ کے علاوہ وہ ممالک جہاں ڈکٹیٹر حکومتیں قائم ہیں اور وہاں کی عوام ڈکٹیٹرشپ کے خلاف جہاد کر رہی ہے اور آپ وہاں پر ہونے والے عوامی احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں اور ڈکٹیٹر شپ کی مخالفت کر رہے ہیں تو کیا سعودیہ کی ڈکٹیٹرشپ کا دامن دوسرے تانہ شاہوں سے زیادہ پاک ہے ؟
سعودی حکومت ایک ظالم حکومت ہے ،جو ہمیشہ سے اسرائیل اور امریکہ کے مظالم کی حمایت کرتی چلی آرہی ہے اس لئے ان کے ظلم میں برابر کی شریک ہے اور امام السدیس بھی اسی ظلم کا حصہ ہیں چونکہ ان کے اندر بھی اتنی جرات نہیں کہ وہ سعودی حکومت کی مذمت کر سکیں ، لا اقل احتجاج کے طور پر امامت کا عہدہ ہی چھوڑ دیں ایسی صورت میں ہم انھیں ظالم اور فرعون نہ کہیں تو کیا کہیں ؟
اعلامیہ دینے والوں کو میرا یہ مشورہ ہے کہ بغیر سمجھ بوجھ کے بیانیہ دینے سے پرہیز کریں ، اگر ظلم کی مکمل مخالفت نہیں کر سکتے تو بالکل نہ کریں ، اس لئے کہ ایک ظالم کی مخالفت دوسرے کی حمایت قطعی طور پر بجا نہیں ہے ۔
شیخ السدیس اگر صرف امام حرم ہوتے تو ہمارے لئے واجب الاحترام ہوتے ۔
شیخ السدیس اگر صرف عالم قرآن و حدیث ہوتے تو قرآن و حدیث کی طرح ہمارے لئے مقدس اور محترم ہوتے ۔
شیخ السدیس اگر صرف ہمارے مہمان ہوتے تو ہم اکرموا الضیف کا وظیفہ فراموش نہ کرتے ۔
لیکن شیخ السدیس ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ سعودی حکومت کے ظلم و جنایت کے حامی بھی ہیں ۔
واللہ لا یحب الظالمین (سورہ آل عمران / ۵۷ )
No comments:
Post a Comment