بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليك يا ابا عبد الله الحسين
صبح عاشور
عاشور کی صبح قیامت کی صبح ہے،جس دن ہراساں انسانیت ایک ایسے ہولناک مقام پر کھڑی تھی جہاں وہ واقعہ رونما ہونے والا تھا جس نے فرشتوں کو بھی تعجب میں ڈال دیا ۔
ایسی خوفنا ک صبح ؛جہاں انسانیت کو اس امتحان سے گزرنا ہے جن کی سختیوں اور مصائب کو برداشت کرنا غیر ممکن اور محال نظر آتا ہے، ایسے مصائب کہ اگر آسمان و زمین یا پہاڑ پر نازل ہو جائیں تو ان میں برداشت کی سکت نہیں ہے ،اگر ساری انسانیت کی طاقت ایک انسان میں اکٹھا کر دی جائے پھربھی اس دن کے مصائب کو برداشت کرنا ،اس صاحب مصیبت کے لئے عجیب اور حیرت ناک ہے ۔
تاریخ میں فقط ایک انسان ہے جو اس دن سے روبرو ہوا (۱)نہ اس سے پہلے کسی پر یہ مصائب ہوئے ہیں نہ آئندہ کسی پر ہوں گے ،ایک انسان جو ظاہری اعتبار سے ایک تن تھا لیکن معنوی لحاظ سے ایک عالَم بلکہ عالمین کی شخصیت اس کے اندر اکٹھا تھی،جس کا دائرہ زمین و آسمان سے و بہشت و جنات سے وسیع تر تھا ۔وہ انسانیت کا کامل مصداق تھا جس کے لئے کہا گیا ہے کہ "الصورۃ الانسانیۃ ھی اکبر حجج اللہ علیٰ خلقہ وھی الکتاب الذی کتبہ بیدہ وھی الھیکل الذی بنّاہ بحکمتہ ۔۔۔"وہ جوانمرد جو اس دن کے ان مصائب کے مقابلے میں کھڑا تھا جن کا برداشت کرنا دشوار اور ناممکن تھا ۔
وہ جس نے انسانیت کے شرف ،اپنی عظمتوں کی بلندی اور انسانیت کی عظمت کو تمام مخلوقات کے سامنے پیش کیا اور ان آیات "لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم"(۲)و "فتبارک اللہ احسن الخالقین"(۳) اور "انی اعلم ما لا تعلمون" کی تفسیر پیش کر دی ۔
وہ انسانیت کا حسین ہے ، وہ ملائکہ کا حسین ہے ،وہ انبیاء کا حسین ہے ،وہ ابراھیم و موسیٰ کا حسین ہے ،وہ پنجتن پاک کا حسین ہے ،وہ اسلام کا حسین ہے ،وہ صبر و استقامت کا حسین ہے ، وہ حق و عدالت کا حسین ہے ، بلکہ وہ خدا کا حسین ہے ۔
عاشور کی صبح وہ صبح ہے جس دن امام حسین کے گھر والوں اور ان کے اصحاب و انصار کو المناک مصائب سے روبرو ہونا ہے تاکہ قرآن اور دین سے دفاع کر سکیں ،محمد و آل محمد علیھم السلام کی کرامت اور شرافت سے دفاع کر سکیں، اس دن ان حضرات کو وہ راستہ طے کرنا ہے جس کو بڑے بڑے صدیوں میں نہیں طے کر سکتے تھے،اسے انھیں عزت و سرفرازی کے ساتھ طے کرنا تھا۔
عاشور کی صبح ایک طرف انسانیت کا دشمن وہ لشکر ،عظیم ترین ظلم پر آمادہ تھا اور ایک طرف مختصر تعداد میں عالم انسانیت کے صالح اور پاکترین افراد ان کے محاصرے میں تھے ۔
امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب اپنے مستحکم ارادے اور عزم راسخ کے ساتھ پوری بشریت اور فرشتوں کے سامنے اپنی موجودیت کا اعلان کر رہے تھے ۔ اللہ اکبر کتنا عظیم تھا ان کا ایمان اور ان کا مقصد کتنا عظیم و بلند تھا ۔
امام حسین علیہ السلام کا دل خدا کی محبت سے لبریز تھا ان کا دل محکم اور استوار تھا اور انھیں معلوم تھا کہ دشمن اس جنگ میں ہر طریقہ کا ظلم ڈھائیں گے لیکن یہ بھی یقین تھا کہ اس جنگ میں نہ انھیں شکست ہو گی نہ ان کے اصحاب کو بلکہ قوت ایمان اور نفس مطمئنہ کی قدرت سے شہادت کو اپنے گلے سے لگا کر دشمن کو زمین گیر کر دیں گے پھر بھی ان تمام قوتوں کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں اور صرف اسی کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہیں ،صرف اسے حی و قیوم سمجھتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں ۔ آپ کی دعا و مناجات میں وہ شوق و ولولہ تھا جسے زبانیں بیان کرنے سے عاجز ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام اس دن ان تمام چیزوں کو مشکلوں میں گھرا دیکھ رہے تھے جن کی حفاظت کے لئے انسان دعا کرتا ہے ،لیکن امام کی دعا ان کے ظاہری نجات کے لئے نہ تھی ،امام نے یہ دعا نہیں کی کہ خدایا! ہمارے جوان بیٹوں اور بھائیوں کو شہادت سے بچا لے ،خدایا ہمارے اصحاب کو زندہ و سلامت رکھ ، خدایا یہ ظالم ہمارے شیر خوار پر رحم کریں ،آپ نے ہرگز یہ دعا نہیں کی ،نہ ہی آپ کے اصحاب ایسی دعائیں مانگ رہے تھے بلکہ ہر ایک کے دل میں شوق شہادت تھا ،سب اس بات پر خوش تھے کہ ان کا شمار خدا و رسول اور حق کے ناصرین میں ہوتا ہے ،صرف جو چیز اس وقت ان کے ذہنوں میں نہ تھی وہ موت اور شہادت سے نجات تھی ، وہ سب شوق شہادت میں غرق تھے سب کی یہ دعا تھی کہ خدا کی راہ میں شہادت پورے اخلاص کے ساتھ اور جلد سے جلد نصیب ہو ۔ان کی دعا تھی کہ خدا کی راہ میں ایثار و فداکاری کر سکیں ،اور جب تیر و تلوار اور نیزوں کے زخم لگیں تو صبر میں کمی نہ آنے پائے ۔
ان کی نظر میں راہ خدا میں شہادت ایسا عظیم مرتبہ تھا جسے وہ اپی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ،اور اس کی جانب قدم بڑھا رہے تھے ۔
اس موقع پر جو دعا امام حسین علیہ السلام نے کی ہے اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی روح کس بلندی پر فائز تھی اور خداوند عالم سے آپ کا رابطہ کس قدر عمیق اور مضبوط تھا ،اس دعا کے کلمات کس قدر انسان ساز ہیں جو خدا سے قربت اور نزدیکی کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں ،وہ جس کا سارا وجود "ان صلاتی و نسکی ومحیای و مماتی للہ رب العالمین "۵کا کامل مصداق ہے وہ اس طرح دعا کرتا ہے :
"اللهمّ انت ثقتي في كلّ كرب وانت رجائي في كلّ شدّة وانت لي في كلّ امر نزل بي ثقة و عدة، كم من همّ يضعف فيه الفؤاد، وتقلّ فيه الحيلة، ويخذل فيه الصديق، ويشمت فيه العدو، انزلته بك و شكوته اليك رغبة مني اليك عمن سواك، ففرجته عني وكشفته وكفيتنه، فانت ولي كلّ نعمة، وصاحب كلّ حسنة، ومنتهي كلّ رغبة"۶
اس دعا کے توحیدی کلمات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بزرگ علماء اور صاحبان معرفت اس کی شرح و تفسیر کریں ، امام علیہ السلام فقط خدا کو مورد اعتماد قرار دیتے ہوئے بہت سے عظیم نکات بیان فرماتے ہیں ۔
۱۔ جلوہ توحید
امام علیہ السلام اس سخت مقام پر اس عظیم مصیبت میں گرفتار ہونے کے بعد فقط خدا کو مورد اعتماد قرار دیتے ہیں ۔
۲۔مقام امید میں توحید
ایسے سخت حالات اور مصیبت میں بھی فقط خدا سے امید لگائے ہوئے ہیں
۳۔ شکر خدا
خداوند عالم کا ہر حال میں شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے تمام غم و آلام و مصائب کو آپ سے دور کیا اور وہ مصائب جو دل کو کمزور بنا دیتے ہیں، اور دوست ان مصائب میں ساتھ چھوڑ دیتا ،دشمن طعنہ زنی کرنے لگتا ہے ،انھیں آپ سے دور کیا۔ اس مقام پر خدا سے دعا فرماتے ہیں کہ خدایا! ہمیں اپنے موقف کی حفاظت کی توفیق عطا فرما،اور ان مصائب کے تحمل میں میری مدد فرما تاکہ میں اور میرے اعزا و انصار اس امتحان سے آسانی کے ساتھ گزر سکیں ۔
امام علیہ السلام کی یہ دعا مستجاب ہوئی اور امام نے وہ سب کچھ پا لیا جس کا ارادہ کیا تھا،آپ کے تمام اصحاب اس عظیم منزل پر فائز ہو گئے کہ جن کی برکتوں کا فیض عام قیامت تک جاری و ساری رہے گا اور قیامت تک کے لئے اس آیت کی تفسیر بن گئے "مثل كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها في السماء"۷
والسلام علي الحسين وعلي اولاد الحسين وعلي اصحاب الحسين ورحمة الله وبركاته
(۱)اگر چہ پنجتن پاک کی ہر فرد میں یہ صلاحیت تھی لیکن اس عظیم کام کی ذمہ داری امام حسین علیہ السلام کے کاندھوں پر ڈالی گئی تھی ۔
(۲)سورہ تین آیت/۳
(۳)سورہ مومنون آیت/۱۴
(۴)سورہ بقرہ آیت/۳۰
(۵)سورہ انعام، آية 162
(۶)مقتل الحسين، ابي مخنف الازدي
(۷)سوره ابراهيم آيه 24
السلام عليك يا ابا عبد الله الحسين
صبح عاشور
عاشور کی صبح قیامت کی صبح ہے،جس دن ہراساں انسانیت ایک ایسے ہولناک مقام پر کھڑی تھی جہاں وہ واقعہ رونما ہونے والا تھا جس نے فرشتوں کو بھی تعجب میں ڈال دیا ۔
ایسی خوفنا ک صبح ؛جہاں انسانیت کو اس امتحان سے گزرنا ہے جن کی سختیوں اور مصائب کو برداشت کرنا غیر ممکن اور محال نظر آتا ہے، ایسے مصائب کہ اگر آسمان و زمین یا پہاڑ پر نازل ہو جائیں تو ان میں برداشت کی سکت نہیں ہے ،اگر ساری انسانیت کی طاقت ایک انسان میں اکٹھا کر دی جائے پھربھی اس دن کے مصائب کو برداشت کرنا ،اس صاحب مصیبت کے لئے عجیب اور حیرت ناک ہے ۔
تاریخ میں فقط ایک انسان ہے جو اس دن سے روبرو ہوا (۱)نہ اس سے پہلے کسی پر یہ مصائب ہوئے ہیں نہ آئندہ کسی پر ہوں گے ،ایک انسان جو ظاہری اعتبار سے ایک تن تھا لیکن معنوی لحاظ سے ایک عالَم بلکہ عالمین کی شخصیت اس کے اندر اکٹھا تھی،جس کا دائرہ زمین و آسمان سے و بہشت و جنات سے وسیع تر تھا ۔وہ انسانیت کا کامل مصداق تھا جس کے لئے کہا گیا ہے کہ "الصورۃ الانسانیۃ ھی اکبر حجج اللہ علیٰ خلقہ وھی الکتاب الذی کتبہ بیدہ وھی الھیکل الذی بنّاہ بحکمتہ ۔۔۔"وہ جوانمرد جو اس دن کے ان مصائب کے مقابلے میں کھڑا تھا جن کا برداشت کرنا دشوار اور ناممکن تھا ۔
وہ جس نے انسانیت کے شرف ،اپنی عظمتوں کی بلندی اور انسانیت کی عظمت کو تمام مخلوقات کے سامنے پیش کیا اور ان آیات "لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم"(۲)و "فتبارک اللہ احسن الخالقین"(۳) اور "انی اعلم ما لا تعلمون" کی تفسیر پیش کر دی ۔
وہ انسانیت کا حسین ہے ، وہ ملائکہ کا حسین ہے ،وہ انبیاء کا حسین ہے ،وہ ابراھیم و موسیٰ کا حسین ہے ،وہ پنجتن پاک کا حسین ہے ،وہ اسلام کا حسین ہے ،وہ صبر و استقامت کا حسین ہے ، وہ حق و عدالت کا حسین ہے ، بلکہ وہ خدا کا حسین ہے ۔
عاشور کی صبح وہ صبح ہے جس دن امام حسین کے گھر والوں اور ان کے اصحاب و انصار کو المناک مصائب سے روبرو ہونا ہے تاکہ قرآن اور دین سے دفاع کر سکیں ،محمد و آل محمد علیھم السلام کی کرامت اور شرافت سے دفاع کر سکیں، اس دن ان حضرات کو وہ راستہ طے کرنا ہے جس کو بڑے بڑے صدیوں میں نہیں طے کر سکتے تھے،اسے انھیں عزت و سرفرازی کے ساتھ طے کرنا تھا۔
عاشور کی صبح ایک طرف انسانیت کا دشمن وہ لشکر ،عظیم ترین ظلم پر آمادہ تھا اور ایک طرف مختصر تعداد میں عالم انسانیت کے صالح اور پاکترین افراد ان کے محاصرے میں تھے ۔
امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب اپنے مستحکم ارادے اور عزم راسخ کے ساتھ پوری بشریت اور فرشتوں کے سامنے اپنی موجودیت کا اعلان کر رہے تھے ۔ اللہ اکبر کتنا عظیم تھا ان کا ایمان اور ان کا مقصد کتنا عظیم و بلند تھا ۔
امام حسین علیہ السلام کا دل خدا کی محبت سے لبریز تھا ان کا دل محکم اور استوار تھا اور انھیں معلوم تھا کہ دشمن اس جنگ میں ہر طریقہ کا ظلم ڈھائیں گے لیکن یہ بھی یقین تھا کہ اس جنگ میں نہ انھیں شکست ہو گی نہ ان کے اصحاب کو بلکہ قوت ایمان اور نفس مطمئنہ کی قدرت سے شہادت کو اپنے گلے سے لگا کر دشمن کو زمین گیر کر دیں گے پھر بھی ان تمام قوتوں کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں اور صرف اسی کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہیں ،صرف اسے حی و قیوم سمجھتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں ۔ آپ کی دعا و مناجات میں وہ شوق و ولولہ تھا جسے زبانیں بیان کرنے سے عاجز ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام اس دن ان تمام چیزوں کو مشکلوں میں گھرا دیکھ رہے تھے جن کی حفاظت کے لئے انسان دعا کرتا ہے ،لیکن امام کی دعا ان کے ظاہری نجات کے لئے نہ تھی ،امام نے یہ دعا نہیں کی کہ خدایا! ہمارے جوان بیٹوں اور بھائیوں کو شہادت سے بچا لے ،خدایا ہمارے اصحاب کو زندہ و سلامت رکھ ، خدایا یہ ظالم ہمارے شیر خوار پر رحم کریں ،آپ نے ہرگز یہ دعا نہیں کی ،نہ ہی آپ کے اصحاب ایسی دعائیں مانگ رہے تھے بلکہ ہر ایک کے دل میں شوق شہادت تھا ،سب اس بات پر خوش تھے کہ ان کا شمار خدا و رسول اور حق کے ناصرین میں ہوتا ہے ،صرف جو چیز اس وقت ان کے ذہنوں میں نہ تھی وہ موت اور شہادت سے نجات تھی ، وہ سب شوق شہادت میں غرق تھے سب کی یہ دعا تھی کہ خدا کی راہ میں شہادت پورے اخلاص کے ساتھ اور جلد سے جلد نصیب ہو ۔ان کی دعا تھی کہ خدا کی راہ میں ایثار و فداکاری کر سکیں ،اور جب تیر و تلوار اور نیزوں کے زخم لگیں تو صبر میں کمی نہ آنے پائے ۔
ان کی نظر میں راہ خدا میں شہادت ایسا عظیم مرتبہ تھا جسے وہ اپی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ،اور اس کی جانب قدم بڑھا رہے تھے ۔
اس موقع پر جو دعا امام حسین علیہ السلام نے کی ہے اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی روح کس بلندی پر فائز تھی اور خداوند عالم سے آپ کا رابطہ کس قدر عمیق اور مضبوط تھا ،اس دعا کے کلمات کس قدر انسان ساز ہیں جو خدا سے قربت اور نزدیکی کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں ،وہ جس کا سارا وجود "ان صلاتی و نسکی ومحیای و مماتی للہ رب العالمین "۵کا کامل مصداق ہے وہ اس طرح دعا کرتا ہے :
"اللهمّ انت ثقتي في كلّ كرب وانت رجائي في كلّ شدّة وانت لي في كلّ امر نزل بي ثقة و عدة، كم من همّ يضعف فيه الفؤاد، وتقلّ فيه الحيلة، ويخذل فيه الصديق، ويشمت فيه العدو، انزلته بك و شكوته اليك رغبة مني اليك عمن سواك، ففرجته عني وكشفته وكفيتنه، فانت ولي كلّ نعمة، وصاحب كلّ حسنة، ومنتهي كلّ رغبة"۶
اس دعا کے توحیدی کلمات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بزرگ علماء اور صاحبان معرفت اس کی شرح و تفسیر کریں ، امام علیہ السلام فقط خدا کو مورد اعتماد قرار دیتے ہوئے بہت سے عظیم نکات بیان فرماتے ہیں ۔
۱۔ جلوہ توحید
امام علیہ السلام اس سخت مقام پر اس عظیم مصیبت میں گرفتار ہونے کے بعد فقط خدا کو مورد اعتماد قرار دیتے ہیں ۔
۲۔مقام امید میں توحید
ایسے سخت حالات اور مصیبت میں بھی فقط خدا سے امید لگائے ہوئے ہیں
۳۔ شکر خدا
خداوند عالم کا ہر حال میں شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے تمام غم و آلام و مصائب کو آپ سے دور کیا اور وہ مصائب جو دل کو کمزور بنا دیتے ہیں، اور دوست ان مصائب میں ساتھ چھوڑ دیتا ،دشمن طعنہ زنی کرنے لگتا ہے ،انھیں آپ سے دور کیا۔ اس مقام پر خدا سے دعا فرماتے ہیں کہ خدایا! ہمیں اپنے موقف کی حفاظت کی توفیق عطا فرما،اور ان مصائب کے تحمل میں میری مدد فرما تاکہ میں اور میرے اعزا و انصار اس امتحان سے آسانی کے ساتھ گزر سکیں ۔
امام علیہ السلام کی یہ دعا مستجاب ہوئی اور امام نے وہ سب کچھ پا لیا جس کا ارادہ کیا تھا،آپ کے تمام اصحاب اس عظیم منزل پر فائز ہو گئے کہ جن کی برکتوں کا فیض عام قیامت تک جاری و ساری رہے گا اور قیامت تک کے لئے اس آیت کی تفسیر بن گئے "مثل كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها في السماء"۷
والسلام علي الحسين وعلي اولاد الحسين وعلي اصحاب الحسين ورحمة الله وبركاته
(۱)اگر چہ پنجتن پاک کی ہر فرد میں یہ صلاحیت تھی لیکن اس عظیم کام کی ذمہ داری امام حسین علیہ السلام کے کاندھوں پر ڈالی گئی تھی ۔
(۲)سورہ تین آیت/۳
(۳)سورہ مومنون آیت/۱۴
(۴)سورہ بقرہ آیت/۳۰
(۵)سورہ انعام، آية 162
(۶)مقتل الحسين، ابي مخنف الازدي
(۷)سوره ابراهيم آيه 24
No comments:
Post a Comment