آجکل عرب ممالک کے جو حالات ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ، ان حالات میں یہ پتہ لگانا کہ کون سچا ہے کون جھوٹا یہ بہت ہی مشکل امر ہے ، حسنی مبارک امریکہ کے پٹھو تھے لیکن برا وقت آیا تو جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ، قذافی امریکہ اور مغربی دنیا کے بہت بڑے منتقد سمجھے جاتے تھے لیکن جب سارکوزی نے نو فلائی زون کے مسئلے پر لیبیا کی مخالفت میں بیان دیا تو سیف الاسلام نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس نے سارکوزی کو انتخابات میں جتانے کے لئے مالی تعاون کیا تھا ، بحرین میں عوامی احتجاج کو سنی شیعہ اختلاف کا رخ دیا جا رہا ہے جس کے چلتے سعودی عرب نے ایک ہزار کی فوج حکومت کی حمایت میں بھیجی ہے ۔ اگر چہ سچی بات تو یہی ہے کہ بحرین میں اکثریت شیعہ کی ہے اور جمہوری حکومتوں میں حاکم انھیں کی آراء کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے تو جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ سعودی عرب کو شاید آل خلیفہ سے کوئی سر و کار نہ ہو لیکن یہ ڈر ضرور ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اس ملک میں جمہوری قوانین نافذ ہوں تو اس شیعہ اکثریت والے ملک میں شیعوں کی حکومت قائم ہو جائے ۔ آل سعود اور محمد بن عبدالوہاب کے خاندان کو کب یہ برداشت ہوگا کہ ان کے پڑوس میں کوئی شیعہ حکومت قائم ہو ۔ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی بات تو نہیں کرتا لیکن مجھے ان دونوں خاندانوں سے وابستہ افراد کو مسلمان کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے ۔
ذرا سوچئے ! مصر میں عوامی احتجاج کے موقع پر سعودی نے حسنی مبارک کی مدد کیوں نہیں کی ، لیبیا پر مغربی ممالک بم برسانے لگے ہیں وہاں پر سعودیہ اپنی فوج کیوں نہیں بھیج رہا ہے ، ساٹھ سالوں سے اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے ، قبلہ اول کو مسمار کر رہا ہے سعودی عرب نے کبھی وہاں پر اپنی فوج بھیج کر اسرائیل کی مخالفت کرنے کی جرائت کیوں نہیں کی؟ عراق میں امریکہ ۸ سال سے مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے سعودی عرب نے وہاں دہشتگرد بھیجنے کے علاوہ کوئی قدم نہیں اٹھایا ؟ میں سعودی عرب سے سوال کرتا ہوں کہ یہ بتاؤ تمہارا مذہب کیا ہے اسلام یا یہودیت ؟ تم سے مسلمانوں کی تو کوئی خدمت ہوتی نہیں لیکن اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا تمہارا مذہبی فریضہ بنا ہوا ہے ۔ اگر حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں پر جوابی کاروائی کرے تو تمہاری نظر میں یہ جنگ فتنہ ہے اور تمہارے علماء اس سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں ، اسے کفار اور مشرکین کی جنگ قرار دیتے ہیں وغیرہ ۔۔۔۔ کیا یہی تمہارا اسلام ہے ؟
اب خود سعودی حکومت اور اس کے طرز عمل کی گفتگو کریں ، آل سعود کی حکومت کس طرح قائم ہوئی ؟ کچھ جھلکیاں یاد دلا دوں ، ہر ایک قبیلے پر حملے کیا کرتے اور اگر وہ قبیلہ ان کی حکومت کو قبول کرتا تو ٹھیک ورنہ انھیں قتل کر دیا جاتا ، قبائل کے سرداروں کو ڈرا دھمکا کر ان پر حکومت شروع کی اور سعودی کنگ ڈم تیار ہو گیا ۔ لوگوں پر ظلم و جور کر کے حکومت حاصل کرنے کے باوجود آج اس بات کے دعویدار ہیں کہ حکومت آل سعود کا حق ہے اور ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا خروج ہے ۔ یعنی خود تو ظلم کے راستے حکومت حاصل کریں اور پھر ظلم کے ساتھ حکومت چلائیں اور جب اس ظلم کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو اسے خروج کہا جائے ، یعنی ان کا اسلام ظلم سہہ کر ظلم کو بڑھاوا دینے کی تعلیم دیتا ہے ۔
اب جس حکومت کا طرز عمل یہ ہو اس حکومت کے حامی علماء اگر بحرین ، عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کی کامیابی کی دعا کریں تو اسے بات کہیں یا گدھے کی لات یہ فیصلہ قارئین کریں گے ۔
البتہ سعودی علماء کا مذہب کچھ ان روایات سے سمجھا جا سکتا ہے :
شافعی مذہب :
كتاب الحاوى الكبير ـ الماوردى
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ {صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} قَالَ : الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ أَمِيرٍ بَرٍّ ، أَوْ فَاجِرٍ ، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ وَرُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ {صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} أَنَّهُ قَالَ : صَلُّوا خَلْفَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَرُوِيَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَأَنَسًا ، صَلَّوْا خَلْفَ الْحَجَّاجِ ، وَكَفَى بِهِ فَاسِقًا ، وَلِأَنَّ كُلَّ مَنْ صَحَّ أَنْ يَكُونَ مَأْمُومًا صَحَّ أَنْ يَكُونَ إِمَامًا كَالْعَدْلِ .
حنفی مذہب
البحر الرائق شرح كنز الدقائق
وفي خَبَرِ عبد اللَّهِ بن عُمَرَ عن النبي أَنَّهُ قال من كان على السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَهُ وَكَتَبَ له بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عشر حَسَنَاتٍ وَرَفَعَ له عَشْرَ دَرَجَاتٍ فَقِيلَ له يا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى يَعْلَمُ الرَّجُلُ أَنَّهُ من أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ فقال إذَا وَجَدَ في نَفْسِهِ عَشَرَةَ أَشْيَاءَ فَهُوَ على السُّنَّةِ الجماعة ( ( ( والجماعة ) ) ) أَنْ يُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ بِالْجَمَاعَةِ وَلَا يَذْكُرَ أَحَدًا من الصَّحَابَةِ بِسُوءٍ وَيَنْقُصَهُ وَلَا يَخْرُجَ على السُّلْطَانِ بِالسَّيْفِ وَلَا يَشُكَّ في إيمَانِهِ وَيُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ من اللَّهِ تَعَالَى وَلَا يُجَادِلَ في دِينِ اللَّهِ تَعَالَى وَلَا يُكَفِّرَ أَحَدًا من أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ وَلَا يَدَعَ الصَّلَاةَ على من مَاتَ من أَهْلِ الْقِبْلَةِ وَيَرَى الْمَسْحَ على الْخُفَّيْنِ جَائِزًا في السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَيُصَلِّيَ خَلْفَ كل إمَامٍ بَرٍّ أو فَاجِرٍ
زندگی کے ہر مرحلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کو اپنا اسوہ اور آئڈیل قرار دینا اسلامی حکم اور مسلمانوں کی پہچان اور خدا کی بندگی کی علامت ہے ۔ مسلمان کا ہر عمل اس کے بندگی کی علامت ہے لیکن وہ اعمال جن کو اسلام نے عبادت کہا ہے انہیں خاص امتیاز حاصل ہے اور نماز عبادات میں سب سے بلند مقام رکھتی ہے ۔ اب جب نماز جیسی بلند و بالا عبادتوں میں فاسق و فاجر شخص کی اقتدا جائز ہے تو پھر زندگی کے دیگر امور میں تو بہ طریق احسن ۔
2 comments:
good saudi arab khud kuch hai hi kab vo sirf aur sirf isreal aur amrica ka ghulam hai aur unhi ka namak khwar aur katpotli bhi
salam alaikum
saqifayi islam hamesha ahlebait (a.s) awr un ke shioN se khayef raha hai . wahabi awr ale saud donoN saqifa ki gandi nali ke kide haiN . ye rahe rast par ane wale nahi haiN .
Post a Comment